اسلام آباد:
پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں بین الاقوامی سطح پر کامیاب تجربات کے بعد نجی شعبے کی شراکت سے ایک جدید تعلیمی نظام متعارف کروانے کی تیاری کی جا رہی ہے اور اس نئے ماڈل کا مقصد طلبہ کو محض روایتی تعلیم تک محدود رکھنے کے بجائے ان کی سوچ، تخلیقی صلاحیتوں اور مسائل حل کرنے کی مہارت کو فروغ دینا ہے۔
نئے ماڈل کے تحت ‘ایجوکیشن ٹرانسفارمیشن موومنٹ (ای ٹی ایم)’ کا آغاز کردیا گیا ہے، جس سے صرف ایک نصابی تبدیلی نہیں بلکہ مکمل تعلیمی انقلاب قرار دیا جا رہا ہے اور اس نظام میں مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، انٹرنیٹ آف تھنگز اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کو تعلیم کا حصہ بنایا جائے گا۔
نئے تعلیمی فریم ورک میں ‘اسٹیم فریم ورک’ کے تحت سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس اور ریاضی کو یکجا کر کے طلبہ کی تخلیقی اور فکری صلاحیتوں کو مضبوط کیا جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ اسلامی اقدار اور سیرتِ نبوی ﷺ کو بھی نظام کا مرکزی حصہ بنایا گیا ہے تاکہ طلبہ نہ صرف قابل بلکہ باکردار شہری بن سکیں۔
اس پروگرام کے تحت اسکولوں میں ‘ڈسکوری اینڈ انوویشن ہبز’ قائم کیے جائیں گے جہاں طلبہ خود سیکھنے، سوال کرنے اور حقیقی مسائل کے حل تلاش کرنے کی عملی مشق کریں گے، اس نئے نظام میں روایتی امتحانات کے دباؤ کو کم کر کے سیکھنے کے عمل کو زیادہ مؤثر اور دلچسپ بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام پاکستان کے تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے ساتھ ساتھ نئی نسل کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔