2026 میں طاقتور ایل نینو کی عالمی وارننگ، پاکستان سمیت دنیا بھر میں شدید گرمی کا خدشہ

جنوبی پنجاب، سندھ اور شہری علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہ سکتا ہے، ماہرین موسمیات


آصف محمود April 25, 2026
ماحولیاتی تحفظ کے ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو سپر ایل نینو سے پوری انسانی نسل بھی تباہ ہوسکتی ہے۔ (فوٹو: فائل)

عالمی ادارہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 2026 کے وسط سے ایل نینو کے آغاز کا قوی امکان ہے جس کے باعث دنیا بھر میں درجہ حرارت اور بارشوں کے نظام متاثر ہو سکتے ہیں۔

عالمی ادارہ موسمیات (ڈبلیو ایم او) کی جانب سے جاری گلوبل سیزنل کلائمٹ اپ ڈیٹ کے مطابق بحرالکاہل کے استوائی خطے میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے اور مئی تا جولائی 2026 کے دوران ایل نینو کی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔

موسمیاتی ماڈلز کے مطابق آئندہ مہینوں میں عالمی سطح پر معمول سے زیادہ درجہ حرارت غالب رہنے کی توقع ہے جبکہ مختلف خطوں میں بارشوں کے پیٹرن میں نمایاں تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔

عالمی ادارہ موسمیات کے چیف آف کلائمٹ پریڈکشن ولفران موفووما اوکیا کا کہنا ہے کہ سال کے آغاز میں غیر جانبدار موسمی صورتحال کے بعد اب بیشتر موسمیاتی ماڈلز ایل نینو کے آغاز اور اس کے مزید شدت اختیار کرنے پر متفق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ اندازوں کے مطابق یہ ایک طاقتور ایل نینو ثابت ہو سکتا ہے تاہم اپریل کے دوران پیش گوئیوں میں غیر یقینی صورتحال بھی موجود رہتی ہے۔
 

ایل نینو کیا ہے؟

ایل نینو دراصل ایک موسمیاتی نظام ہے جس میں بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصے کا پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے۔

یعنی جب سمندر کا درجہ حرارت غیر معمولی طور پر بڑھتا ہے تو یہ پوری دنیا کے موسم کو متاثر کرتا ہے، اسی کیفیت کو ایل نینو کہا جاتا ہے۔

ایل نینو اور لا نینا کو دنیا کے طاقتور ترین موسمیاتی نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے جو بارشوں، خشک سالی، گرمی کی لہروں اور شدید موسمی واقعات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایل نینو کے دوران وسطی اور مشرقی بحرالکاہل کے پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتے ہیں جس کے اثرات دنیا کے مختلف حصوں میں محسوس کیے جاتے ہیں۔

عالمی ادارہ موسمیات کے مطابق ماضی میں طاقتور ایل نینو عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بنتا رہا ہے۔ 2024 دنیا کا گرم ترین سال اسی لیے ریکارڈ کیا گیا تھا کیونکہ اس دوران طاقتور ایل نینو اور انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں نے مل کر اثر ڈالا۔

رپورٹ کے مطابق ایل نینو کے باعث جنوبی امریکا، افریقہ کے ہارن، وسطی ایشیا اور بعض دیگر خطوں میں بارشیں بڑھ سکتی ہیں جبکہ آسٹریلیا، انڈونیشیا اور جنوبی ایشیا کے بعض علاقوں میں خشک سالی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

عالمی ادارہ موسمیات نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں براہِ راست ایل نینو کی شدت یا تعداد میں اضافے کا باعث نہیں بن رہیں تاہم گرم ماحول اور سمندروں کے باعث اس کے اثرات زیادہ شدید ہوسکتے ہیں جن میں ہیٹ ویوز اور شدید بارشیں شامل ہیں۔

ادارے کے مطابق مئی تا جولائی 2026 کے دوران شمالی امریکا، وسطی امریکا، کیریبین، یورپ اور شمالی افریقہ میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت متوقع ہے جبکہ مختلف خطوں میں بارشوں کے انداز میں نمایاں فرق دیکھا جا سکتا ہے۔

پاکستان پر اثرات:

ماہرین موسمیات کے مطابق ایل نینو کے ممکنہ اثرات کے باعث پاکستان میں بھی آئندہ ہفتوں کے دوران گرمی کی شدت بڑھنے اور ہیٹ ویو کے امکانات میں اضافے کا خدشہ ہے خصوصاً جنوبی پنجاب، سندھ اور شہری علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہ سکتا ہے۔