آئی ٹی ورکرز کیلیے جعلی دستاویزات بنانے کے کیس میں ملزمہ کی ضمانت منظور

پراسیکیوشن اب تک کوئی ایسے شواہد پیش نہیں کر سکی جس سے مقدمے کے الزامات کی تصدیق ہو، وکیل صفائی


کورٹ رپورٹر April 25, 2026
فوٹو: فائل

کراچی:

آئی ٹی ورکرز کے لیے جعلی دستاویزات بنانے کے کیس میں عدالت نے ملزمہ کی ضمانت منظور کرلی۔

جوڈیشل کمپلیکس میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے جعلی دستاویزات بنا کر شمالی کوریا کے آئی ٹی ورکرز کو فراہم کرنے کے مقدمے میں ملزمہ عالیہ بتول کی درخواست ضمانت منظور کر لی۔

عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے ملزمہ کو 10 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم بھی دے دیا۔

سماعت کے دوران ملزمہ کے وکیل صفائی عابد زمان ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ عالیہ بتول کے موبائل فون سے کوئی ایسی چیز سامنے نہیں آئی جس سے ان پر عائد الزامات ثابت ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پراسیکیوشن اب تک کوئی ایسے شواہد پیش نہیں کر سکی جس سے مقدمے کے الزامات کی تصدیق ہو۔

دوران سماعت پراسیکیوشن کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمہ کے خلاف وزارت خارجہ کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مؤقف اختیار کیا گیا کہ عالیہ بتول اور دیگر ملزمان جعلی دستاویزات تیار کر کے شمالی کوریا کے آئی ٹی ورکرز کو فراہم کرتے تھے تاکہ انہیں مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

پراسیکیوشن کے مطابق ملزمان ان دستاویزات کے بدلے بٹ کوائن کی صورت میں رقم وصول کرتے تھے۔

مقدمے میں 3 ملزمان عالیہ بتول، سہیل اور صغیر کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ ان کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد ملزمہ کی درخواست ضمانت منظور کر لی۔