انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے مصطفیٰ عامر اور ڈی ایس پی کے قتل سمیت 4 مقدمات میں جیل سپریٹنڈنٹ سے ملزم ارمغان کو جیل مینوئل کے مطابق دی جانے والی سہولیات سے متعلق وضاحت طلب کرلی۔
کراچی سینٹرل جیل انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں خصوصی عدالت کے روبرو مصطفیٰ عامر اور ڈی ایس پی کے قتل سمیت 4 مقدمات کی سماعت ہوئی۔
ملزم ارمغان نے انسداد دہشتگردی عدالت کی جانب سے کیس چلانے کو بدنیتی قرار دیدیا۔ ملزم ارمغان نے کہا کہ میں نے کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔ درخواست دائر کرنے کے باوجود کیس دوسری عدالت منتقل نہیں کیا جارہا۔
درخواست پر آرڈر نہ کرنا اور کیس منتقل نہ کرنا عدالت کی بدنیتی ظاہر کرتا ہے۔ عدالت نے ملزم ارمغان پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے جیل سپریٹنڈنٹ سے ملزم ارمغان کے حوالے سے وضاحت طلب کرلی۔
عدالت نے جیل سپریڈینٹ کو ہدایت کی بتایا جائے ملزم ارمغان کو جیل مینوئل کے مطابق کیا کیا سہولیات دی جارہی ہیں۔ وکیل صفائی خرم عباس اعوان نے موقف دیا کہ ملزم ارمغان کو عدالت پر اعتماد نہیں ہے۔
ملزم کیخلاف درج مقدمات انسداد دہشتگردی کی منتظم عدالت کو بھیجے جائیں۔ انسداد دہشتگردی کی منتظم عدالت ملزم ارمغان کیخلاف دائر درخواست پر مقدمات دوسری عدالت کو منتقل کرے۔
عدالت نے کیس کی سماعت 27 اپریل تک ملتوی کردی۔ پولیس کی جانب سے زخمی ڈیس ایس پی کی جاں بحق ہونے کی اطلاعی رپورٹ جمع کرائی گئی تھی۔ پولیس نے مقدمہ میں قتل کی دفعہ شامل کرنے کی استدعا کی تھی۔
پولیس کے مطابق 8 فروری 2025 کو ارمغان کی گرفتاری کے لئے اس کے گھر پر چھاپہ مارا تھا۔ چھاپے کے دوران ملزم ارمغان نے پولیس پر فائرنگ کردی تھی۔
ملزم ارمغان کی فائرنگ سے ڈی ایس پی احسن ذوالفقار شدید زخمی ہوگئے تھے۔ ڈی ایس پی احسن ذوالفقار دوران علاج شہید ہوگئے ہیں۔ مقدمہ میں قتل کی دفعہ کا اضافہ کیا جائے۔ ملزم ارمغان کیخلاف مصطفی عامر کے قتل، پولیس مقابلہ سمیت دیگر مقدمات درج ہیں۔