بائیس اپریل کو دنیا بھر میں زمین کا دن منایا جاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ہم درخت لگانے کی بات کرتے ہیں، دریاؤں کی صفائی کا عہد کرتے ہیں، فضاؤں میں گھلتے زہر کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ، سرسبز اور قابلِ رہائش دنیا کا خواب دیکھتے ہیں۔
یہ روایت انیس سو ستر میں امریکا سے شروع ہوئی تھی جب چند باشعور لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ صنعتی ترقی کی اندھی دوڑ نے انسان اور فطرت کے درمیان رشتہ کمزور کر دیا ہے۔ اس دن کی بنیاد دراصل ایک احتجاج تھی، ایک سوال تھا، ایک چیخ تھی کہ کیا ترقی کی قیمت زمین کی بربادی ہو سکتی ہے۔
آج، نصف صدی سے زیادہ گزرنے کے بعد، یہ دن ایک عالمی تحریک بن چکا ہے۔ لاکھوں نہیں، کروڑوں لوگ اس میں حصہ لیتے ہیں۔ اسکولوں میں بچے پودے لگاتے ہیں، یونیورسٹیوں میں سیمینار ہوتے ہیں، حکومتیں وعدے کرتی ہیں، کارپوریٹ ادارے سبز پالیسیوں کی بات کرتے ہیں، مگر ان سب کے بیچ ایک سوال بار بار ذہن کے دریچوں پر دستک دیتا ہے ،کیا یہ سب محض ایک دن کا تماشا ہے؟ کیا ہم واقعی زمین کو بچانے کے لیے سنجیدہ ہیں یا یہ سب ایک خوبصورت دھوکہ ہے جو ہم خود کو دیتے ہیں.
یہ سوال اس لیے اور بھی کربناک ہو جاتا ہے جب ہم اس زمین پر بارود کی بو محسوس کرتے ہیں۔ وہی زمین جسے ہم بچانے کا عہد کرتے ہیں، اس پر جنگ کی آگ بھڑک رہی ہے۔ وہی فضا جسے ہم صاف دیکھنا چاہتے ہیں،اس میں دھماکوں کا دھواں گھل رہا ہے۔
پانی جسے ہم زندگی کا سرچشمہ کہتے ہیں،خون سے سرخ ہو رہا ہے۔ کیا یہ عجیب تضاد نہیں کہ ہم ایک طرف پودے لگا رہے ہیں اور دوسری طرف بم برسا رہے ہیں؟
زمین کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم سب ایک ہی سیارے کے باسی ہیں، ہماری تقدیر مشترک ہے ،ہماری سانسیں ایک ہی فضا سے جڑی ہیں۔ مگر سیاست اور طاقت کی ہوس نے اس سچ کو دھندلا دیا ہے۔ دنیا کے طاقتور ممالک ماحولیات کے نام پر کانفرنسیں کرتے ہیں، معاہدے کرتے ہیں مگر ان کے اسلحہ خانے بھرے پڑے ہیں۔
ان کے ہتھیار صرف انسانوں کو نہیں مارتے، وہ زمین کو بھی زخمی کرتے ہیں، ہوا کو زہریلا کرتے ہیں، پانی کو آلودہ کرتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے تباہی کا سامان چھوڑ جاتے ہیں۔
ہم جب ایک پودا لگاتے ہیں تو ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم زندگی کو آگے بڑھا رہے ہیں، مگر جب کہیں ایک بم گرتا ہے تو صرف انسان ہی نہیں مرتا، اس کے ساتھ مٹی کی زرخیزی بھی ختم ہو جاتی ہے، درخت جل جاتے ہیں، پرندے بے گھر ہو جاتے ہیں اور زمین کی سانس رکنے لگتی ہے۔
کیا بم چلانے والوں نے کبھی سوچا کہ ایک جنگ صرف چند دنوں یا مہینوں کی نہیں ہوتی،اس کے اثرات دہائیوں تک زمین پر رہتے ہیں۔ویتنام کی جنگ ہو یا مشرقِ وسطیٰ کی تباہ کاریاں زمین آج بھی ان زخموں کو سہنے پہ مجبور ہے۔
یہ کیسا تضاد ہے کہ ایک دن ہم زمین کے لیے محبت کے نعرے لگاتے ہیں اور باقی دن اس کے خلاف جرائم میں شریک رہتے ہیں۔ کیا ہم نے زمین کو صرف ایک علامتی دن تک محدود کر دیا ہے؟ یا ہم واقعی اس کے ساتھ ایک زندہ رشتہ قائم کرنا چاہتے ہیں؟
زمین کا دن ہمیں صرف درخت لگانے کی دعوت نہیں دیتا ،یہ ہمیں اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنے کا بھی کہتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ماحولیات کا مسئلہ صرف آلودگی کا نہیں، یہ انصاف کا بھی مسئلہ ہے۔
جب کہیں جنگ ہوتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان غریبوں کو ہوتا ہے ،ان لوگوں کو جو پہلے ہی محرومی کا شکار ہیں۔ ان کے گھر تباہ ہوتے ہیں ،ان کی زمینیں بنجر ہو جاتی ہیں اور ان کی زندگی میں اندھیرا چھا جاتا ہے۔
یہاں ایک اور سوال جنم لیتا ہے کیا ہم ماحولیات کی بات کرتے ہوئے ان سیاسی اور معاشی ڈھانچوں کو نظر انداز کر سکتے ہیں جو اس تباہی کے ذمے دار ہیں؟ کیا صرف پلاسٹک کے تھیلے کم کر دینے سے مسئلہ حل ہو جائے گا جب کہ بڑی طاقتیں اپنی جنگی صنعت کو جاری رکھے ہوئے ہیں؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم زمین کو بچا لیں مگر اس نظام کو نہ چھیڑیں جو اس کی بربادی کا باعث ہے۔
زمین کا دن ہمیں ایک موقع دیتا ہے کہ ہم ان سوالات کا سامنا کریں۔ یہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کا تعین کریں۔ کیا ہم واقعی ایک ایسی دنیا چاہتے ہیں جہاں سبز درخت ہوں مگر اس کے آس پاس بارود کی بو بھی ہو؟
یا ہم ایک ایسی دنیا کا خواب دیکھتے ہیں جہاں امن ہو انصاف ہو اور زمین واقعی سانس لے سکے؟ یہ سچ ہے کہ ایک دن میں سب کچھ نہیں بدل سکتا مگر یہ بھی سچ ہے کہ ہر تبدیلی ایک سوال سے شروع ہوتی ہے۔ شاید زمین کا دن ہمیں یہی سوال دینا چاہتا ہے۔
ایک ایسا سوال جو ہمیں بے چین کرے ہمیں جھنجھوڑے ہمیں مجبور کرے کہ ہم اپنی خاموشی توڑیں۔ جب ہم بائیس اپریل کو ایک پودا لگائیں تو ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ زمین کو صرف درختوں کی نہیں امن کی بھی ضرورت ہے۔
اسے صرف پانی اور ہوا کی صفائی نہیں بلکہ انسانی ضمیر کی صفائی بھی درکار ہے۔ جب تک ہم جنگ کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے جب تک ہم طاقت کی اس سیاست کو چیلنج نہیں کرپائیں گے جو زمین کو ایک میدانِ جنگ بناتی ہے تب تک ہمارے لگائے ہوئے پودے بھی اس دھوئیں میں مرجھاتے رہیں گے۔
زمین کا دن ایک یاد دہانی ہے، ایک دستک کہ یہ سیارہ ہمارا گھر ہے اور گھر صرف دیواروں سے نہیں بنتا، اس میں محبت تحفظ اور ذمے داری بھی شامل ہوتی ہے، اگر ہم واقعی اس گھر کو بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف درخت نہیں لگانے بلکہ نفرت اور جنگ کے اس نظام کو بھی جڑ سے اکھاڑنا ہوگا جو اس گھر کو تباہ کر رہا ہے۔
شاید تب ہی بائیس اپریل واقعی ایک جشن کا دن بن سکے گا۔ایک ایسا جشن جس میں صرف الفاظ نہیں عمل بھی شامل ہو۔ ایک ایسا دن جس میں زمین مسکرا سکے اور ہم اس کی مسکراہٹ میں اپنا عکس دیکھ سکیں۔