مشرق وسطیٰ کی جنگ پوری دنیا کے لیے وبال جان بن چکی ہے۔ اس جنگ نے نہ صرف اہم ہوائی و بحری راستوں کو بند کر دیا ہے بلکہ تیل اور گیس کے بغیر دنیا بھر کی صنعتی و معاشی سرگرمیاں ماند پڑ گئی ہیں۔ جہاں اس نے صنعتوں کا پہیہ جام کر دیا ہے وہاں عام لوگوں کی گھریلو زندگی کو بھی مشکل بنا دیا ہے۔
ایک وقت تھا جب لوگ کوئلہ، لکڑی اور گوبر کی پاتھیوں جیسی چیزوں سے چولہے جلاتے اور کھانا پکاتے تھے اور سرسوں و مکئی وغیرہ کے تیل سے رات کو روشنی کے لیے چراغ روشن کیاکرتے تھے مگر اب پٹرول اور گیس جیسی نعمتوں کی دریافت کے بعد صنعتیں اور عوام بجلی اور گیس جیسی سہولتوں سے مستفید ہو رہے ہیں بلکہ موٹرسائیکلوں، کاروں، بسوں، ٹرینوں اور ہوائی جہازوں کے ذریعے طویل سفر آسانی سے کر رہے ہیں۔
تیل اور گیس تو اب بھی قدرت کے خزانوں میں بھرا پڑا ہے مگر کچھ ممالک اپنی طاقت کے بل پر تیل و گیس کی عالمی ترسیل میں جنگوں کے ذریعے رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ قدرت نے بڑی فیاضی سے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں تیل اور گیس کے وافر ذخائر کا انتظام کر دیا ہے جن سے دنیا کے تمام ہی ممالک گزشتہ ایک صدی سے مستفیض ہو رہے ہیں مگر اب مشرق وسطیٰ کے جن ممالک میں تیل اور گیس کے وافر ذخائر موجود ہیں خوفناک قسم کی جنگ کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔
اسرائیل اور امریکا نے مل کر ایران پر حملہ کرکے اس خطے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ چالیس دن کی جنگ کے بعد جنگ بندی ضرور ہوئی ہے مگر پہلے دور کے مذاکرات جو اسلام آباد میں منعقد ہوئے تھے ناکام رہے ہیں اب دوسرے دور کے مذاکرات تعطل کا شکار نظر آتے ہیں۔
بدقسمتی سے مشرق وسطیٰ میں ایک ایسا ملک بھی واقع ہے جس نے اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے تحت پورے مشرق وسطیٰ کے امن کو تقریباً نصف صدی سے تہہ و بالا کر رکھا ہے۔
دوسری جنگ عظیم سے قبل وہ ایک بے وطن قوم تھی جو دنیا کے مختلف ممالک میں بکھری ہوئی تھی۔ یہ قوم جسے یہودی کہا جاتا ہے اپنی نافرمانیوں کی وجہ سے دنیا میں ہمیشہ بے توقیر اور بے وطن رہی ہے مگر یہ ایسی قوم ہے جسے مال و دولت کی فراوانی کے باوجود دنیا میں اچھائی کے مظہر کے طور پر نہیں دیکھا جاتا۔
دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کے خلاف مغربی اتحادی ممالک کے لیے مخبری اور جرمنی سے غداری کرنے کے صلے میں جنگ کے فاتح برطانیہ اور امریکا نے انھیں انعام کے طور پر فلسطینیوں کی سرزمین پر زبردستی آباد کر دیا تھا۔
مغربی ممالک انھیں اس لیے بھی خوش کرنا چاہتے تھے کہ وہ مال دار یہودیوں سے اپنی ضرورت کا سرمایہ حاصل کرتے رہتے تھے۔ گو یہ بہت مال دار قوم ہے مگر ان کی ساری دولت ناجائز طریقوں سے حاصل کی گئی ہے۔
یہ مشرق وسطیٰ میں آباد ہونے کے بعد بہت جلد پورے خطے پر قبضہ جمانے کے خواب دیکھنے لگے کیونکہ ان کے اذہان سے اب بھی قدیم گریٹر اسرائیل کا تصور ختم نہیں ہوا ہے۔ انھوں نے اپنے ملک اسرائیل کو خطے کا طاقتور ترین ملک بنا کر پورے مشرق وسطیٰ پر قبضہ کرنے کے لیے 1967 میں واقعی ایک بڑی جنگ چھیڑ دی تھی جس میں انھوں نے اردن اور شام کے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔
یہ علاقے اب بھی اسرائیل کے قبضے میں ہیں، انھیں لاکھ کوششوں کے بعد بھی اسرائیل سے خالی نہیں کرایا جا سکا۔ اس لیے کہ ان کی طاقت کا سرچشمہ امریکا ہے جس کی اجازت سے یہ آج ایک ایٹمی ملک بھی بن چکا ہے مگر اس کا ایٹم بم غیر اعلان شدہ ہے جس پر کوئی روک ٹوک نہیں ہے، وہ خطے میں ناقابل تسخیر ہے۔
1973 میں اس نے مصر کے علاقے سینائی پر بھی قبضہ کر لیا تھا مگر بعد میں امریکی دباؤ پر خالی کرنا پڑا تھا۔ بہرحال اس وقت اسرائیل اپنی فوجی طاقت اور امریکی آشیرباد سے منہ زور ہو چکا ہے وہ عربوں کی سرزمین پر قبضہ کرنا چاہتا ہے مگر ایران اس کی اس خواہش کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
وہ ایران کے جوہری منصوبے سے خوفزدہ ہے جسے ہر صورت ختم کرانا چاہتا ہے گو کہ ایران خود کہہ چکا ہے کہ وہ یورینیم افزودہ کرکے اس سے فوجی نہیں سماجی کام کرنا چاہتا ہے مگر اسرائیل کو ڈر ہے کہ وہ اس کی آڑ میں ایٹم بم بھی بنا سکتا ہے چنانچہ امریکا ایران کو ایٹم بم بنانے سے دور رکھنا چاہتا ہے اور محض اسی سلسلے میں اس نے ایران پر ایک بڑا حملہ کرکے اس کے ایٹمی پلانٹ کو تباہ کر دیا ہے۔
اب امریکا ایران سے تباہ حالت میں پڑی افزودہ یورینیم کو بھی خود حاصل کرنا چاہتا ہے مگر ایران اس کے لیے تیار نہیں اس کے بعد امریکا اور اسرائیل نے ایران کو مذاکرات میں الجھا کر ایران پر حملہ کر دیا، یہ حملہ مسلسل ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہا جس سے خود امریکا اور اسرائیل کی فوجی طاقت کی کمزوری دنیا کے سامنے آشکار ہو چکی ہے۔
اب جیسے تیسے جنگ رکی ہے مگر مذاکرات کا پہلا مرحلہ ناکام رہا ہے چنانچہ دوسرے مرحلے کے مذاکرات سے پہلے امریکا نے ایران کی بحری ناکہ بندی کر دی تاکہ کوئی اس کا جہاز ایران تک ہی نہ پہنچ سکے۔ وہ ایک ایرانی جہاز کو نقصان پہنچا کر اسے اپنے قبضے میں لے چکا ہے۔
اب ایران نے دوسرے دور کے مذاکرات میں شرکت کرنے کے لیے یہ شرط رکھی ہے کہ وہ پہلے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرے، تب ہی مذاکرات ممکن ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ ایران کے مطالبے کا خیال کرنے کے بجائے اسے مسلسل تباہ کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
ان مذاکرات کے اسلام آباد میں انعقاد کے اسرائیل اور بھارت مخالف تھے چنانچہ لگتا ہے ، وہ اس سلسلے میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔ کچھ مبصرین کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ ایک کاروباری آدمی ہیں، وہ اپنے کاروباری منافع کے لیے صدر کے عہدے کو استعمال کر رہے ہیں۔ ا
ب ایران سے وہ معاہدہ کریں یا نہ کریں مگر امریکی عوام ان کے خلاف ہو گئے ہیں اور کچھ امریکی سینیٹرز ان کے مواخذے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو ایران کو ضرور فائدہ ہوگا۔ جہاں تک پاکستان کی بات ہے تو وہ بحیثیت ثالث کامیاب ہی رہا ہے اور اس نے خود کو دنیا میں ایک امن پسند قوم ثابت کر دیا ہے۔