ایران و امریکا کی جنگ نے مشرق وسطیٰ سمیت اس خطے اور دنیا کو تبدیل کردیا ہے۔ اس تبدیلی کے بہت سے پہلو ہیں مگر سب سے اہم پہلوہے توانائی اور اس کی رسد اور توانائی کے نئے ذرائع جو ایک نیا بیانیہ بن کر ابھرے ہیں۔تیل کی اہمیت بہ حیثیت ایک توانائی کم ہو رہی ہے۔
اس ماڈرن دور میں الیکٹرک گاڑیوں کی اہمیت بڑھ رہی ہے،جو ہم نے بیس سال میں پندرہ سے چالیس ہزار میگا واٹ بجلی کی پیداوار کی، چین اتنے میگا واٹ بجلی ہر سال اپنی مجموعی پیداوار میں اضافہ کر رہا ہے۔
جاپان توانائی کی پیداوار میں وہ کارنامے سر انجام دے رہا ہے جس نے دنیا کو حیران کردیا ہے۔ چین کی مجموعی توانائی کے استعمال میں تیل کا استعمال کم سے کم ہوتا جا رہا ہے اس لیے ایران و امریکا کی جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کی سبب چین میں پٹرول کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوا۔ڈالر بہ حیثیت بین الاقوامی کرنسی،اس کی اڑان میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔
آہستہ آہستہ ڈالر کی اجارہ داری کم ہو رہی ہے۔عرب امارات میںدبئی جیسے ممالک جن کو سرمایہ کاری کے حوالے سے بہترین ممالک سمجھا جاتا تھا اور جہاں ہم جیسے ممالک کی اشرافیہ اپنے کالے پیسے کو چھپا کر رکھتے تھے اور اس ملک کی کل آبادی 2002 تک محض پچیس لاکھ تک اور اب اس اس کی آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے اور اس کا فنانشل کیپیٹل دنیا کے چند بڑے ممالک ہانگ کانگ، لندن اور نیو یارک وغیرہ کی مارکیٹ میں استعمال ہوتا ہے۔
ایک بات ہمیں آج بھی سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ جب اور جیسے جیسے دبئی ابھر رہا تھا، کراچی کی اہمیت کم ہو رہی تھی، اس بات کے پیچھے کیا راز ہیں، اس کی اب تک پردہ داری ہے ۔
آہستہ آہستہ گوادر کی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔گوادر ، پاکستان کا وہ حصہ ہے جو نہ صرف سینٹرل ایشیاء کو جوڑتا ہے بلکہ وہ کراچی سے بھی ملحق ہے۔
گوادر آبنائے ہرمز اور نہر سویز سے ہونے والی ایشیاء میں تجارت کے لیے بہترین ٹرانزٹ بن سکتا ہے۔ ایران و امریکا کی جنگ کے بعد گوادر میں کارگو کا تخمینہ حیران کن انداز میں بڑھ چکا ہے۔
دوسری طرف ایران اور پاکستان کے اعتماد کا رشتہ مضبوط ہو رہا ہے۔ایران سے مضبوط تعلقات کی بناء پر ہم افغانستان کو بائی پاس کر کے ایران کے توسط سے سینٹرل ایشیاء تک پہنچ سکتے ہیں۔جو ملک آبنائے ہرمز کی دہلیز پر ہے وہ پاکستان ہے اور جو ملک سمندر کو سینٹرل ایشیاء سے جوڑتا ہے وہ بھی پاکستان ہے۔جو ملک سعودی عرب اور قطر کا دفاع کر سکتا ہے وہ پاکستان ہے۔
پاکستان کو یہ اند یشہ تھا کہ ایران و امریکا کی جنگ شاید اس ملک کو لے ڈوبے گی مگر سفارتی طور پر پاکستان نے اس جنگ بندی کے لیے بہترین کردار ادا کیا اور دنیا میں گرین پاسپورٹ کی اہمیت بڑھی۔
ایران و امریکی کی جنگ سے پہلے جو بھی جنگیں ہوئیں ،ان کے معاشی اثرات دنیا پر اتنے گہرے نہ تھے۔اس جنگ نے دنیا کی معاشی پوزیشن کوکمزور بنایا ہے۔اس جنگ میں عراق اور صدام حسین جیسے معاملات نہیں ہوئے۔
آبنائے ہرمز کی بندش اور ایران کے عوام کا اپنی حکومت کے ساتھ کھڑا ہونا ، ایران کی کامیابی کا باعث ہے اور یہی وجہ تھی کہ امریکا اپنی فوج ، ایران نہیں بھیج سکا۔اس جنگ کو ایران نے پورے مشرق وسطیٰ تک پھیلا دیا۔جن ممالک میں امریکا کے دفاعی اڈے تھے وہاں ایران نے میزائل داغے۔
پلاسی کی جنگ میں جو مکاری کا کردار ایسٹ انڈیا کمپنی نے ادا کیا وہ ہی مکاری ہمیں ایران و امریکا کی جنگ بندی کے عمل میں نظر آئی۔عالمی طور پر یہ سوچ پیدا ہوئی کہ امریکا جنگ بندی کے مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے۔
امریکا نے دنیا میں جو اپنی حیثیت دکھائی صدر ٹرمپ کے بیان اس کے متضاد تھے۔امریکی فوج کے جرنیل بھی صدر ٹرمپ کے بیانات کی نفی کرتے رہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے اس رویے کے باعث اپنی مقبولیت کا گراف انتہائی نیچے گرا دیا۔نیتن یاہو کے بعدصدر ٹرمپ دوسرے نمبر پر دنیا کی نا پسندیدہ شخصیت بن گئے۔ایمنٹسی انٹرنیشنل نے انسانی حقوق کو نقصان پہنچانے والی شخصیات کی لسٹ میں پیوٹن صاحب کو بھی شامل کرلیا ہے۔
ہر طرف جنگ کے بادل تھے اور دنیا امن کے لیے پریشان تھی۔ مارکیٹ فورسز بھی امن کے ساتھ کھڑی ہو گئیں۔دنیا کی سپلائی چین متاثر ہوئی،دنیا بھر کی صنعتیں متاثر ہوئیں۔ بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔کھیتی باڑی متاثر ہوئی ۔
یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ، صنعتی اداروں اور مزدور پیشہ لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔بلواسطہ یا بلاواسطہ دنیا کی معیشت کمزور ہوئی۔ایسے ممالک جو اس جنگ سے متاثر ہوئے ہیں ان کے لیے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک امداد ی پروگرام ترتیب دے رہی ہے۔
ایران و امریکا کی جنگ کے بعد اسرائیل کے ارادوں پر بھی پانی پھر گیا ہے۔پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ اب پھیلاؤ کی طرف جا رہا ہے ۔ترکیہ اور مصر بھی پاکستان کے ساتھ نیٹوکے طرز کا اتحادترتیب دینے جا رہے ہیں۔
ہندوستان کو یہ گماں بھی نہیں تھا کہ پاکستان سفارتی طور پر اتنی کامیابی حاصل کرلے گا۔اب اگر ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کر کے اس کا الزام پاکستان پر لادنے کا سوچے گا اور پاکستان پر حملہ کرے گا تو ایسا ممکن نہیں رہا، کیونکہ اب پاکستان پر حملہ ، سعودی عرب اور ان تمام ممالک پر تصور کیا جائے گا جو اس دفاعی معاہد ے میں شامل ہوںگے، ان ممالک میں آذربائیجان اور سینٹرل ایشیاء کی اور بھی ریاستیں شامل ہوںگی۔
عرب ریاستوں نے اپنی سرزمین پر امریکا کو فوجی اڈے دیے ہوئے تھے، ان کو گمان یہ تھا کہ جنگ کی صورت میں امریکا ان کا دفاع کرے گا۔مگر یہ تمام اندازے اس جنگ کی نذر ہو گئے۔مشرق وسطیٰ میں اب نئی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔
اسرائیل اب یورپ سے کٹ رہا ہے۔ شاید اب یواے ای اوراسرائیل کے تعلقات پہلے جیسے نہ رہیں۔ ہمیں اپنا بیانیہ تبدیل کرنا ہوگا۔ اپنی خارجہ پالیسی میں تجارت کو ایک اہم ستون بنانا ہوگا۔اس کے لیے ایک مخصوص حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی۔
صنعتوں کا جال بچھانا ہوگا تاکہ ہماری برآمدات میں اضافہ ہو۔ضیاء الحق اور دائیں بازو کے انتہاپسندوںکے دیے بیانیے سے نکلنا ہوگا جس نے اس ملک میں دہشت گردی کے بیج بوئے، اسلحہ، منشیات فروشی اور اسمگلنگ جیسے کاروبار کو فروغ دیا۔نوجوان نسل کو گمراہ کیا۔وڈیرہ شاہی ، قبائلی، سرداری نظام اور مذہبی انتہا پسندی ہماری معاشی ترقی اور ایک Plural اور Inclusive معاشرے کے لیے خطرہ ہیں۔
سرد جنگ کے زمانوں میں ہم فرنٹ لائن اسٹیٹ بنے۔اس کے نتائج یہ نکلے کہ ملک میں انتہا پسندی پھیلی اور اس کا نتیجہ دہشت گردی کی شکل میں نکلا ۔ہمیں عالمی طور پر تنہا کرنے کو کوشش کی گئی۔داخلی طور پر سازشوںکے جال بچھائے گئے،ہر جگہ ایسے مہرے استعمال کیے گئے جو اپنے اپنے آقاؤں کی زبان بولتے تھے۔پراکسی وار کے میدان سجائے گئے۔
2026 خارجہ پالیسی کے حوالے سے پاکستان کے لیے ایک بہتر سال ثابت ہوا ہے مگر ہمیں داخلی تبدیلیوں کی شدید ضرورت ہے تاکہ ہم ان مواقع کا فائدہ اٹھا سکیں۔
ایران کے اندر آنے والی تبدیلیاں بھی ہمارے حق میں بہتر ثابت ہونگی اور ان تبدیلیوں پر بحث ایران میں چھڑ چکی ہے۔ ایرانی رجیم کے اہم کرداروں کے اندر بھی اس احساس نے جنم لیا ہے کہ مذہبی انتہا پسندی ان کو تنہا کر رہی ہے۔
ایک سیکولر اور معقول ایران سے، گیس اور تیل کی درآمد کے لیے ہمیں کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں اور اس طرح پاکستان ، ایران کو تنہا کرنے والے تمام راستوں کو بند کر سکتا ہے۔ پاکستان کا وجود اس خطے سے ہے اور ہندوستان کا بھی۔مودی کو مستقبل قریب میں ضرور شکست ہوگی اور ہمیں بھی مثبت تعلقات کے لیے ہندوستان میں تبدیلی درکا ر ہے تاکہ اس خطے کو مستحکم اور ایک پر امن خطہ بنایا جا سکے۔