عباس عراقچی جمعے کی شب عین اس وقت پاکستان میں تھے جب ہمارے بعض اہل دانش ایران کو غصہ ٹھنڈا کرنے اور اس مقصد کے لیے دو گھونٹ پانی پینے کا مشورہ دے رہے تھے۔ کیا یہ ہمارے اہل دانش ہی کا دباؤ تھا کہ عباس عراقچی دوڑے دوڑے پاکستان چلے آئے؟
ایسا دعویٰ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ امکانات کی دنیا بہت وسیع ہے اور اگر کوئی امکان ہماری خوشیوں کا سامان بھی کرتا ہو تو اس پر یقین کرنے میں کیا حرج ہے۔ ممکن ہے کہ ہمارے مشورے کے بعد ایران نے غصہ تھوک دیا ہو لیکن اگر قضیے کی اصل حقیقت کو سمجھنے کے لیے یہ بھی جان لیا جائے کہ ایران غصہ تھوکنے پر آمادہ کیوں نہیں تھا تو ممکن ہے کہ کچھ غلط فہمیاں دور ہو جائیں اور شاید وہ پردے بھی چاک ہو جائیں جو جانے بوجھے یا سادگی میں حقیقت پر ڈالے جا رہے تھے۔
ہماری یہ فکر مندی بارہ ماشے پاؤ رتی درست ہے کہ ہماری فکر مندی کا محور صرف ایک ہونا چاہیے اور وہ ہے ایرانی قوم کی بقا ، تحفظ اور اس کی بہبود اور ترقی۔ اگر کوئی حکمت یا برہمی اس کا راستہ روکتی ہو تو اس کے باطل ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس اصول پر اتفاق کے بعد یہ کھوج لگانے کی ضرورت ہے کہ کیا ایران واقعی غصے میں باولا ہو رہا ہے یا تھا یا صورت حال مختلف ہے؟
کچھ حقائق ناقابل تردید ہیں جیسے ایران کے رہبر معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای اور ایران کی عسکری قیادت تہہ تیغ کر دی گئی۔ ایران کا دفاعی اور شہری انفراسٹرکچر بھی تباہ کر دیا گیا۔ یہ تباہی ہمہ گیر تھی۔ خود ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ روز قبل کہا تھا کہ جنگ اگر آج ختم کردوں تو ایران کو بحالی میں آئندہ بیس پچیس برس لگ سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ اس سے پہلے کہ ایرانی عوام صفحہ ٔ ہستی سے مٹ جائیں، ایران جیسے بن پڑے کسی معاہدے پر پہنچ جائے تاکہ جو کچھ ہاتھ میں ہے (یعنی تیل کے ذخائر وغیرہ) اسے بچایا جا سکے۔ یہ دلیل قابل قدر ہے لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اس ہمہ گیر تباہی کا خوف ہمارے دلوں میں اس لیے پیدا ہوا کہ ہم نے ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف جوں کا توں تسلیم کر لیا، ایک ایسے شخص کا مؤقف جو دن میں ہزار بار موقف بدلنے اور ایک ہی سانس میں متضاد دعوے کرنے کی بے نظیر اہلیت رکھتا ہے۔
ہم نے ڈونلڈ ٹرمپ کی بات مان لی۔ اس میں کوئی حرج نہیں لیکن ایک مشورہ انصاف کا کم یاب اصول بھی دیتا ہے۔ یہ اصول کہتا ہے کہ آپ جو چاہیں رائے اختیار کریں لیکن اگر کوئی معاملہ دو فریقوں کے درمیان ہے تو ازراہ کرم دوسرے فریق کی بھی سن لیں۔ اگر دوسرے فریق کو واقعی غصے میں سمجھتے ہیں تو یہ جاننے کی کوشش بھی کر لیں کہ وہ غصے میں کیوں ہے۔ ایران اپنی قیادت کا صفایا کردینے اور پورے ملک کو کھنڈر بنائے جانے پر برہم ہو تو یہ اس کا حق ہے اور اگر وہ اس وجہ سے انتقام کے جذبات رکھتا ہے تو اس کا بھی جواز ہے لیکن سوال پھر وہی ہے کہ لمحۂ موجود میں کیا ایران غصے میں ہے؟ اس سوال کا جواب تصویر کا دوسرا رخ پیش کرتا ہے۔
ایران کے نقصانات جس طرح کھلی حقیقت ہیں، بالکل اسی طرح اس حقیقت کو بھی کوئی جھٹلا نہیں سکتا کہ ایران نے اسرائیل کے بہ ظاہر ناقابل تسخیر دفاع کو توڑ پھوڑ کے رکھ دیا ہے۔ ایران نے اس جنگ میں عدیم النظیر حکمت عملی اختیار کی۔ بی بی سی نے ایک تحقیقی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران کی حکمت عملی کی بنیاد کم خرچ ڈرون طیارے تھے جنھیں وہ دشمن پر شہد کی مکھیوں کی طرح چھوڑ دیتا تھا جس کا سامنا کرنے کی کوشش میں دشمن کے اسلحہ خانے کا بیشتر ذخیرہ خرچ ہو گیا۔ بی بی سی نے ہی بتایا ہے کہ جنگ کو جاری رکھنے کے لیے اسلحے کے مزید انبار درکار ہیں جن کی تیاری کے لیے کئی برس چاہئیں۔
دوسری حقیقت آبنائے ہرمز ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کر کے دشمن کی شہ رگ انگوٹھے سے دبا ڈالی۔ آبنائے ہرمز کی بندش کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے ایران کی ناکہ بندی ہو گئی بلکہ یہ ہے کہ توانائی یعنی تیل اور گیس کی رسد بند ہو گئی جس کی وجہ سے امریکا کے اتحادی پریشان ہو گئے۔ یہ دباؤ بھی امریکا پر ہے۔ یہ دباؤ دوہری شدت اختیار کر سکتا ہے اگر باب المندب بھی بند ہو جائے جسے بند کرنے کی چابی بھی ایران کے پاس ہے۔
تیسری حقیقت امریکا کی داخلی سیاست ہے جس نے ٹرمپ کے سیاسی دھڑے کی ناکامی کی خبر دیوار پر لکھ دی ہے۔
یہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ معاہدے کے لیے اتاولے ہو رہے ہیں۔ اب ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ دشمن یوں آپ کے شکنجے میں پھنس چکا ہو تو کیا آپ اسے چھوڑ دیں گے؟ تو واقعہ یہ ہے کہ اس وقت ایران کا انگوٹھا واقعی دشمن کی شہ رگ پر ہے۔ یہ گویا تاریخ کا ایک نادر واقعہ ہے۔ ایسی کیفیت میں غصہ تھوک دینے کا مشورہ دے کر ایران سے یہ کہا جا رہا ہے کہ ہاتھ آئی ہوئی کام یابی کو چھوڑ دے اور دب کر سمجھوتہ کر لے۔ یہ ایران کو دوستانہ مشورہ ہے یا کچھ اور۔