کراچی اپنی آغوش میں ہر زبان و نسل کے لوگوں کو سمیٹے ہوئے ہے، وہیں اس کے وسیع دامن میں ٹریفک، دھوئیں اور تیز رو زندگی کی حشر سامانیوں کے ساتھ ساتھ کچھ ایسا بھی ہے جو آپ کو چونکا کر رکھ دے گا۔ آیئے ہم کراچی کے اسی اَن دیکھے علاقے میں چلتے ہیں جس سے بہت سے لوگ واقف نہیں۔
کیر تھر پہاڑی سلسلہ سندھ و بلوچستان کی گویا حد متعین کرتا میلوں جاتا ہے جس سے مزید چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں آن ملتی ہیں۔ اس پہاڑی سلسلے کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں جنگلی حیات اب بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ آج ہماری منزل بھی ایسا ہی ایک پہاڑ پاچران جبل ہے۔
ہم چار دوستوں نے ایک خوبصورت منصوبہ بنایا کہ ہفتہ کے دن شہر کی مصروف زندگی سے دور نکل کر فطرت کے حسین مناظر میں کھو جائیں گے۔ منزل تھی ’’پاچران جبل‘‘، جو کہ کیرتھر کے دلکش پہاڑوں میں واقع ہے۔
ابتدا میں، میں اس سفر کا حصہ نہیں تھا، مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ہمارے گروپ کا ایک دوست کسی ناگزیر وجہ کی بنا پر شامل نہ ہوسکا، تو اچانک مجھے ساتھ چلنے کی دعوت دی گئی۔ میں نے بھی بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بلکہ شکرگزاری کے ساتھ فوراً ہاں کردی، گویا ایک خوبصورت مہم میرا انتظار کر رہی تھی۔
اس یادگار سفر کا باقاعدہ آغاز اظفر بھائی نے صبح ٹھیک 7 بجے کیا۔ سب سے پہلے وہ انور ہاشمی بھائی کو لینے پہنچے، پھر ایک اور دوست کو ساتھ لیا، اور آخر میں، میں بھی ان کے قافلے میں شامل ہوگیا۔ کباب جیز ریسٹورنٹ، سپر ہائی وے کے سامنے سے میری شمولیت نے اس سفر کو میرے لیے اور بھی خاص بنادیا، یوں لگا جیسے ایک اچانک بننے والی پکنک اب ایک مکمل اور دلچسپ مہم میں بدل چکی ہو۔
ہم چاروں جوش و خروش سے بھرے اس مہم کے لیے نکل پڑے۔ شہر کی بھیڑ بھاڑ پیچھے رہ گئی اور سامنے پھیلی ہوئی خاموش وادیاں اور پہاڑ ہمیں اپنی طرف کھینچنے لگے۔
اس سفر کا پہلا پڑاؤ ناشتے کے لیے عثمانیہ ریسٹورنٹ، سپر ہائی وے پر تھا۔ صبح کی ٹھنڈی ہوا، خالی سڑکیں اور سفر کا جوش، ان سب کے ساتھ گرم گرم پراٹھے، چائے اور مزیدار ناشتہ، گویا اس مہم کی بہترین شروعات ثابت ہوا۔ یہاں کچھ دیر رک کر ہم نے نہ صرف اپنی بھوک مٹائی بلکہ آنے والے سفر کے لیے توانائی بھی حاصل کی، اور ساتھ ہی ہنسی مذاق کا سلسلہ بھی خوب جاری رہا۔
ناشتے کے بعد سفر کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ ہم بحریہ ٹاؤن کے راستے آگے بڑھے، اور جہاں بحریہ ٹاؤن ختم ہوتا ہے، وہیں سے کچے راستوں کا اصل سفر شروع ہوا۔ دشوار گزار پگڈنڈیوں اور ناہموار راستوں سے گزرتے ہوئے ہم اس نیشنل پارک کی ایک چیک پوسٹ پر پہنچے، جہاں وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کے اہلکار انور ہاشمی صاحب کے منتظر تھے۔
کچھ دیر بعد ان میں سے ایک اہلکار ہمارے ساتھ شریکِ سفر ہو گیا اور راستوں کی رہنمائی کرتے ہوئے ہمیں گھاٹیوں سے گزار کر منزل کی طرف لے جانے لگا۔ گرمی کی شدت کافی تھی، مگر جنگلی نباتات، نیلا آسمان اور بلند و بالا پہاڑوں کے دلکش نظارے اس سفر کی تھکن کو کم کر رہے تھے۔
جیسے جیسے ہم پاچران جبل کے قریب پہنچتے گئے، فضا میں تازگی، سکون اور ایک انجانی سی خوشی گھلتی چلی گئی۔ راستے میں کبھی ہنسی مذاق، کبھی پرانے قصے، اور کبھی خاموشی میں فطرت کا حسن محسوس کرنا، یہ سب لمحے اس سفر کو یادگار بنا رہے تھے۔
تقریباً چالیس منٹ کے مسلسل سفر کے بعد ہم قدرتی پانی کے تالابوں کے قریب پہنچ گئے، جہاں فطرت اپنی اصل خوبصورتی کے ساتھ ہمارا استقبال کر رہی تھی۔ یہ پانی قدرتی چشموں سے نکل کر بہتا ہے اور آہستہ آہستہ ایک چھوٹی ندی کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جہاں جگہ جگہ بڑے بڑے تالاب بن گئے ہیں۔ ان میں سے کچھ تالاب کم گہرے ہیں جبکہ کچھ خاصے گہرے اور پرکشش ہیں۔

خوب نہانے کے بعد ہم سب پانی سے باہر آئے اور پھر وہ مزیدار کھانا کھایا جو ہم اپنے ساتھ لے کر آئے تھے۔ اس کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا اور راستے میں وہاں ہونے والی سرگرمیوں، ماحول، فطرت اور دیگر دلچسپ موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے ہم اپنے گھروں کو واپس لوٹ آئے۔
پاچران جانے کا راستہ نہ بہت مشکل ہے نہ بہت طویل۔ عام کار سے باآسانی جایا جاسکتا ہے، اور بہت سے لوگ تو موٹر سائیکلوں پر بھی آئے ہوئے تھے۔ انور بھائی کے دولت خانے نارتھ ناظم آباد سے پاچران تک آنے جانے کا کل فاصلہ تقریباً 150 کلومیٹر بنتا ہے۔ سایہ اور دیگر سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے یہ فیملی پوائنٹ نہیں ہے، تاہم قدرتی خوبصورتی سے مالا مال ایک شاندار مقام ہے۔ آبشار والا مقام یقیناً بہت دلکش ہوگا، مگر گرمی کی شدت کے باعث ہم وہاں تک نہ پہنچ سکے۔ بعض مقامات گہرے بھی ہوسکتے ہیں، لہٰذا جانے والے حضرات احتیاطاً لائف جیکٹ ساتھ رکھیں۔

کیرتھر نیشنل پارک کی چیک پوسٹ پر موجود وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کے عملے نے ہمیں یہاں پائے جانے والی جنگلی حیات کے بارے میں بھی دلچسپ معلومات فراہم کیں۔ ان کے مطابق اس علاقے میں مختلف اقسام کے جانور پائے جاتے ہیں جن میں ماہی گیر بلی، جنگلی بلی، ہندوستانی تیندوا، دھاری دار لکڑبھگا، ہندوستانی خاکستری بھیڑیا، سفید پیروں والی لومڑی اور سنہری گیدڑ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ جنگلی سور، ہندوستانی سیہ، لمبے کانوں والا خارپشت، صحرائی خرگوش، چنکارا ہرن، اڑیال اور سندھ کا آئی بیکس بھی یہاں کے نمایاں جانوروں میں شمار ہوتے ہیں۔
مزید برآں پاڑہ ہرن، ہنی بیجر (کبر بجو)، چھوٹی ہندوستانی مشک بلی، اود بلاؤ، بڑی چمگادڑ (فلائنگ فاکس)، دریائے سندھ کی اندھی ڈولفن (بھلن) اور پینگولن (چیونٹی خور) بھی اس خطے کی حیاتیاتی تنوع کو مزید منفرد بناتے ہیں۔

ہم نے بھی کافی کوشش کی کہ کوئی جانور ہمیں نظر آ جائے، مگر وائلڈ لائف کے اہلکاروں نے بتایا کہ زیادہ تر جانور رات کے وقت نکلتے ہیں اور دن میں شاذ و نادر ہی کوئی جانور دکھائی دیتا ہے۔ رات کے وقت بھی یہ جانور روشنی دیکھ کر دور بھاگ جاتے ہیں۔
تاہم ہمیں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ اس نیشنل پارک میں کون سے جانور کتنی تعداد میں موجود ہیں اور کون سی انواع ایسی ہیں جن کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ وائلڈ لائف محکمے کی جانب سے اس حوالے سے کوئی تفصیلی معلومات وہاں دستیاب نہیں تھیں۔
یہ علاقہ کراچی سے بہت کم فاصلے پر واقع ہے، اور اگر یہاں سڑکوں کو بہتر بنا دیا جائے اور سیکیورٹی کا مناسب انتظام ہو جائے تو فیملیز بھی یہاں آکر پکنک منا سکتی ہیں۔ اس سے نہ صرف اس علاقے کے لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ کراچی کے شہریوں کو بھی ایک خوبصورت تفریحی مقام میسر آ سکے گا۔
اس یادگار سفر میں شامل کرنے پر میں اپنے ان دوستوں کا بے حد مشکور ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آئندہ بھی ان کے ساتھ ایسے ہی خوبصورت سفر کا سلسلہ جاری رہے گا۔
یہ صرف ایک سادہ سا سفر نہیں تھا، بلکہ دوستی، خوشی اور فطرت کے ساتھ ایک گہرا تعلق محسوس کرنے کا ایک ایسا تجربہ تھا جو دل میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔