سیاسی مخالف

پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابی دنیا نے تسلیم کی ہے اور دنیا بھر میں پاکستان کی ثالثی کا خیرمقدم کیا ہے


[email protected]

امریکا و ایران کے درمیان پاکستان کی سفارتی کامیابی سے ہونے والی عارضی جنگ بندی سے حکومتی حلقوں نے اپنے مخالف سیاسی حلقوں کی زبانوں کو خاموش کردیا ہے اور حکومت کی مخالفت میں پاکستان کی مخالفت کرنے والوں کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی ہے، کیونکہ وہ تو اس سلسلے میں پاکستانی سفارتی کوششوں کی ناکامی کے اعلان کے منتظر تھے جس سے انھیں تنقید کا موقعہ مل جاتا تھا اور اس سلسلے میں بیانات جاری کرکے پاکستان کو دنیا میں رسوا کرانے کا سنہری موقع مل جاتا تھا اور حکومت پر اپنی دو سالہ بھڑاس دل بھر کر نکالتے مگر 2024 میں ان کی خواہش کے مطابق منتخب ہونے والے امریکی صدر ٹرمپ نے بھی ان کی خواہش پوری نہیں کی کہ جس کی کامیابی کے سب سے زیادہ اس لیے خواہاں تھے کہ انھیں قوی امید تھی کہ صدر ٹرمپ 5 جنوری 2025 کو حلف اٹھاتے ہی حکومت پاکستان کو حکم دیں گے کہ فوری طور پر بانی پی ٹی آئی کو رہا کرے مگر صدر ٹرمپ کو یاد ہی نہیں رہا کہ پانچ چھ سال قبل ان سے کوئی پاکستانی وزیر اعظم ملنے آیا تھا اور واپسی پر اس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایک اور کرکٹ ورلڈ کپ جیت کر واپس آیا ہے اور اس نے اپنی خواہش پر اپنے لوگوں کو ایئرپورٹ پر اپنے استقبال کے لیے کہہ کر بلایا تھا جس پر اس کے مخالفین نے شدید تنقید کی تھی کیونکہ اس سے قبل بھی پاکستان کے وزرائے اعظم امریکا جاتے اور امریکی صدور سے ملتے رہے ہیں کیونکہ امریکی صدر سے ملاقات کوئی بھی انہونی بات ہے نہ فخریہ ملاقات بلکہ عام بات ہے مگر سابق وزیر اعظم نے اسی ملاقات کو امریکا کا سرکاری اعزاز سمجھ کر اسلام آباد واپسی پر خود اپنا سرکاری استقبال کرایا تھا اور یہ ظاہر کیا تھا کہ انھیں امریکی صدر نے دنیا کے تمام حکمرانوں پر ترجیح دی اور انھیں خصوصی ملاقات کا شرف بخشا۔

2025 شروع ہوتے ہی پی ٹی آئی والے امریکی صدر کی کال یا ہدایت کے منتظر تھے کہ مئی میں بھارتی حملے کا پاک فوج نے منہ توڑ جواب دیا اور بھارتی جہاز گرائے جن کی سب سے زیادہ تعداد امریکی صدر اب بھی بتا رہے ہیں اور انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم مودی نے فوری طور جنگ بند کرانے کی درخواست کی تھی اور انھوں نے پاکستانی قیادت کو کہہ کر پاک بھارت جنگ بند کرائی تھی جس میں پاکستان کا پلہ بھاری رہا تھا، جسے دنیا نے تسلیم کیا اور پاکستانی فوجی طاقت کو بھارت کے مقابلے میں تسلیم کیا تھا جو بھارت پر پاکستان کی واضح برتری تھی جس میں پاک ایئر فورس اور پاک فوج کی شان دار کامیابی کی دنیا بھر میں دھوم مچی تھی۔

پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کو حکومت نے فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی تھی ، حکومت پاکستان نے ان کی شان دار کارکردگی پر انھیں اس بڑے اعزاز سے نوازا تھا ۔ جنرل عاصم منیر اپنی اہلیت پر فیلڈ مارشل بنائے گئے جنھیں امریکی صدر ٹرمپ نے بھی امریکا مدعو کرکے وہ عزت دی جو ماضی میں کسی پاکستانی فوجی سربراہ کو نہیں ملی تھی جس کی سب سے زیادہ تکلیف حکومت کے سیاسی مخالفین کو ہے ۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابی دنیا نے تسلیم کی ہے اور دنیا بھر میں پاکستان کی ثالثی کا خیرمقدم کیا ہے جس کو کامیاب بنوانے میں وزیر اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل کا اہم کردار ہے جسے دنیا سراہ رہی ہے، مگر اسرائیل، بھارت اور طالبان رجیم اور ملک میں موجود حکومت مخالف سیاسی رہنما ملک سے باہر بیٹھے پاکستانی اینکر ناخوش اور مایوس ہیں ۔

پاکستان کے اس عالمی اعزاز کے باعث دنیا میں پاکستان جتنا نمایاں ہوا اور ثالثی اہمیت کا حامل مانا گیا ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی اور پاکستان کی اس ثالثی کوششوں کی کامیابی پر سابق وزیر اعظم اٹلی پاؤلو جینٹی لونی نے تو وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اس اہم جنگ بندی پر نوبل انعام کا حق دار قرار دے دیا اور عالمی میڈیا بھی ان دونوں پاکستانی رہنماؤں کے ناموں سے بھرا پڑا ہے مگر حکومت کے سیاسی مخالفین کو یہ پاکستانی کارکردگی پسند نہیں آ رہی اور وہ اس حقیقت کو تسلیم ہی نہیں کر رہے تو وہ سراہیں گے کیا۔

اسی لیے وہ پاکستان کو ملنے والی عزت پر خاموش رہنے پر مجبور ہیں اور پاکستان کی تعریف میں ان کے منہ نہیں کھل رہے مگر ان کا بس نہیں چل رہا۔اس شان دار کامیابی اور پاکستان کو عزت ملنے پر ملک اور بیرون ملک یوم تشکر منایا گیا کیونکہ یہ انفرادی ہی نہیں بلکہ پاکستان کی دنیا میں پہلی اور شان دار کامیابی ہے جو قوم اور محب وطنوں کا فخر ہے مگر مفادات کے غلام اور ملک کی خیر خواہی نہ چاہنے کا جو سیاسی مخالفین افسوس ناک کردار ادا کر رہے ہیں وہ انتہائی قابل مذمت ہے اور سیاسی مخالفین کے چاہنے والوں کے لیے لمحہ فکریہ بھی ہے۔