امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ دوبدو ملاقات کو اہمیت دیتے ہیں لیکن اب ایران سے مذاکرات صرف فون کال پر ہی ہوں گے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ناسا کے ’آرٹیمس دوم‘ مشن پر جانے والے خلابازوں سے ملاقات کے دوران وہاں موجود صحافیوں سے گفتگو میں کیا۔
ایک صحافی کے سوال کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ ہر نئی دستاویز یا تجویز پر بات کرنے کے لیے ہر بار 18 گھنٹے کی طویل اور مہنگی پروازیں کرنا ممکن نہیں رہا۔ اب ایران سے آئندہ مذاکرات ٹیلی فون کے ذریعے ہی کیے جائیں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ میں دوبدو ملاقات کو پسند کرتا ہوں مگر ایسی ہر ملاقات کے لیے 18 گھنٹے سفر کرنا اور پھر واپسی کے لیے روانہ ہونے سے پہلے معلوم ہو کہ ایک ایسی دستاویز ملی ہے جس پر عمل نہیں کیا جا سکتا تو سب بیکار جاتا ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایران نے کافی پیش رفت کی ہے تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ سوال یہ ہے، آیا ایران بھی اتنا آگے جائے گا جتنا امریکا چاہتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہونے کی ضمانت پر اتفاق کے بغیر اس وقت کسی بھی صورت کوئی معاہدہ نہیں ہوسکتا۔
امریکا کی ایرانی بحری ناکہ بندی کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ کئی ماہ تک جاری رہے گی۔ ایران کو فوجی لحاظ سے شکست دی جا چکی ہے۔ اب انھیں ہتھیار ڈالنے ہوں گے کیونکہ اُن کے پاس کوئی اور راستہ نہیں بچا ہے۔
صدر ٹرمپ نے جنگ میں فتح کا دعویٰ کرتے ہوئے فخریہ انداز میں کہا کہ اب ایران کے پاس بس اتنا ہی کہنا رہ گیا ہے کہ ہم ہار مانتے ہیں اور دستبردار ہوتے ہیں۔