امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے کہا ہے کہ وہ تباہ ہوچکا، چاہتا ہے ہم ہرمز جلد کھول دیں، انھوں نے ہمیں اطلاع دی ہے کہ وہ انتہائی بحران کی حالت میں ہیں۔ ایرانی تجاویز مسترد کرنے کے صدر ٹرمپ کے اشارے کے بعد پاکستانی ثالثوں کو جنگ بندی کی نئی ایرانی تجاویز ملنے کا امکان ہے۔
پچاس دن سے جاری امریکا ایران تنازع کے نتیجے میں عالمی مالیاتی منڈیاں شدید دباؤ کا شکار ہو گئیں جب خام تیل کی قیمتوں میں تیزی، جغرافیائی سیاسی بے یقینی اور متحدہ عرب امارات کے اوپیک اور اوپیک پلس سے اخراج کے فیصلے سے ایکویٹی منڈیوں میں بیک وقت فروخت (سیل آف) کی لہر پیداہوگئی جب کہ تیل کی عالمی قیمتیں کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔تیل کی بڑھتی قیمتوں نے صنعتی لاگت میں اضافے اور معاشی سست روی کے خدشات کو دوبارہ زندہ کر دیا،سپلائی مینجمنٹ کی صلاحیت متاثر ہونے کا امکان ہے۔
دوسری جانب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان خلیجی جنگ کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کے ممکنہ معاشی اثرات جانچنے کے لیے تیل کی قیمتوں میں جھٹکوں، مال برداری میں رکاوٹوں اور مہنگائی کے خطرات سے متعلق مختلف منظرناموں پر کام کر رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ توانائی کا انفرااسٹرکچر شدید متاثر ہوا ہے جس کے باعث رسد اور قیمتوں پر دور رس منفی اثرات مرتب ہوں گے اور اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا جیسا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پیش گوئی کی ہے۔
عالمی سیاست کے پیچیدہ افق پر جب طاقت، مفاد اور نظریاتی کشمکش ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو جائیں تو تاریخ کے دھارے میں ایسے موڑ پیدا ہوتے ہیں جو محض وقتی واقعات نہیں بلکہ آنے والی دہائیوں کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی بھی اسی نوعیت کا ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے، جہاں بظاہر جنگ بندی کے سائے تلے ایک نازک سکون تو دکھائی دیتا ہے، مگر اس سکون کے نیچے بے یقینی، بداعتمادی اور تصادم کے امکانات پوری شدت کے ساتھ موجود ہیں۔ یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ اسے محض دو ریاستوں کے درمیان تنازع کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ اسے ایک وسیع تر عالمی، معاشی اور تزویراتی تناظر میں سمجھا جائے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات اس بحران کی نفسیاتی اور سفارتی جہتوں کو مزید الجھا دیتے ہیں۔
ایک طرف ایران کو’’تباہ شدہ‘‘ قرار دینا اور دوسری طرف اسی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کی درخواست کا ذکر کرنا، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن کی حکمت عملی میں تضادات نمایاں ہیں۔ یہ تضادات محض بیانیہ نہیں بلکہ ایک ایسے دباؤ کا حصہ ہیں جس کے ذریعے مخالف فریق کو عالمی سطح پر کمزور اور غیر مستحکم ظاہر کیا جائے۔ تاہم اس طرزعمل سے عالمی برادری میں یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ کیا امریکا واقعی ایک منظم اور مربوط پالیسی کے تحت آگے بڑھ رہا ہے یا داخلی و خارجی دباؤ کے باعث اس کی حکمت عملی میں ارتعاش پیدا ہو چکا ہے۔ ایران کے لیے یہ تنازع محض سفارتی اختلاف نہیں بلکہ قومی بقا اور خودمختاری کا مسئلہ بن چکا ہے۔
ایرانی قیادت کی جانب سے بارہا اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین، نظریاتی شناخت اور دفاعی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ Strait of Hormuz کی بندش یا اس میں رکاوٹ کو ایران ایک موثر تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی توانائی سپلائی کا مرکزی راستہ ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے شدید دھچکے کا باعث بنتی ہے۔
حالیہ اطلاعات کے مطابق چند بحری جہازوں کا اس گزرگاہ سے گزرنا، اس بات کی علامت ضرور ہے کہ مکمل تعطل نہیں، مگر اس محدود نقل و حرکت کو کسی بھی طور پر استحکام کی علامت نہیں سمجھا جا سکتا۔ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں کا 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنا، اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ معمولی سی کشیدگی بھی کس طرح عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ برینٹ کروڈ، ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ اور دیگر بینچ مارکس میں اضافہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ صنعتی لاگت، نقل و حمل اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا پیش خیمہ ہے۔
توانائی کے اس بحران نے عالمی مالیاتی نظام کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی، سرمایہ کاروں کا عدم اعتماد اور صنعتی پیداوار میں سست روی کے خدشات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگی کشیدگی صرف عسکری میدان تک محدود نہیں رہتی بلکہ معیشت کے ہر شعبے کو متاثر کرتی ہے۔ متحدہ عرب امارات کا اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان اس غیر یقینی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اب علاقائی طاقتیں اجتماعی مفادات کے بجائے اپنے قومی مفادات کو ترجیح دینے لگی ہیں، جو عالمی توانائی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اگر ہم تاریخی تناظر میں اس صورتحال کا جائزہ لیں تو امریکا کی گزشتہ سات دہائیوں پر محیط جنگی پالیسی ایک واضح سبق فراہم کرتی ہے۔ کوریا کی جنگ، ویتنام، عراق، افغانستان اور دیگر تنازعات میں امریکا نے عسکری برتری تو حاصل کی، مگر ان جنگوں کے انسانی اور معاشی اثرات نہایت تباہ کن ثابت ہوئے۔ لاکھوں انسانی جانوں کا ضیاع، کھربوں ڈالرز کے اخراجات اور پورے خطوں کا عدم استحکام اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل فراہم نہیں کرتی۔ افغانستان میں دو دہائیوں تک جاری رہنے والی جنگ اس کی ایک نمایاں مثال ہے، جہاں نہ صرف امریکی وسائل کا بے دریغ استعمال ہوا بلکہ مقامی آبادی کو بھی بے پناہ جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اسی طرح ایران کے ساتھ حالیہ مختصر مگر مہنگی جنگ نے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ جدید جنگیں انتہائی مہنگی اور تباہ کن ہوتی ہیں۔
ابتدائی دنوں میں اربوں ڈالرز کے اخراجات اور بعد ازاں روزانہ سیکڑوں ملین ڈالرز کا خرچ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جنگی معیشت کس قدر بوجھل ہوتی ہے۔ اس تنازع کے اثرات خود امریکی معاشرے پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ، مہنگائی کا بڑھتا ہوا دباؤ اور عوامی سطح پر جنگ کے خلاف ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کا بوجھ صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتا۔ جب ایک بڑی تعداد میں امریکی شہری اس جنگ کی مخالفت کرتے ہیں تو یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ کیا یہ پالیسی واقعی عوامی مفاد کی عکاس ہے یا محض عالمی طاقت کے اظہار کا ایک ذریعہ بن چکی ہے۔
پاکستانی سول و عسکری قیادت کی جانب سے امن مذاکرات کو فروغ دینے کی کوششیں نہایت قابلِ قدر ہیں۔ اسلام آباد کی سفارتی کاوشیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان خطے میں استحکام اور امن کا خواہاں ہے۔ تاہم یہ راستہ آسان نہیں، کیونکہ دونوں فریقوں کے درمیان بداعتمادی کی خلیج بہت گہری ہے اور ہر قدم انتہائی احتیاط کا متقاضی ہے۔پاکستان کے لیے اس بحران کے معاشی اثرات بھی نہایت اہم ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے مختلف معاشی منظرناموں پر کام کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت اس صورتحال کی سنگینی کو بخوبی سمجھتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، درآمدی بل میں اضافہ، مال برداری میں رکاوٹیں اور مہنگائی کا دباؤ پاکستانی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی پیش گوئیاں بھی اسی خدشے کی تصدیق کرتی ہیں کہ اگر یہ بحران طول پکڑتا ہے تو اس کے اثرات نہایت دور رس ہوں گے۔
عالمی سطح پر اس تنازع نے یہ سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ کیا موجودہ عالمی نظام واقعی موثر ہے یا اسے ازسرنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے اگرچہ امن کے قیام کے لیے سرگرم ہیں، مگر ان کی محدود تاثیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بڑی طاقتوں کے مفادات کے سامنے یہ ادارے اکثر بے بس دکھائی دیتے ہیں۔اس تمام صورتحال میں میڈیا کا کردار بھی نہایت اہم ہو جاتا ہے۔
اطلاعات کے اس دور میں بیانیہ ہی سب سے بڑا ہتھیار بن چکا ہے، اگر میڈیا ذمے داری کا مظاہرہ نہ کرے تو وہ جنگی جنون کو ہوا دے سکتا ہے، جو مزید تباہی کا باعث بنے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ صحافت حقائق پر مبنی، متوازن اور ذمے دارانہ ہو۔آخرکار، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں سے واپسی کا راستہ ابھی موجود ہے، مگر وقت تیزی سے گزر رہا ہے، اگر عالمی برادری نے بروقت اور دانشمندانہ اقدامات نہ کیے تو یہ تنازع ایک بڑے عالمی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔دنیا کو اس وقت طاقت کے مظاہرے نہیں بلکہ تدبر، تحمل اور حکمت کی ضرورت ہے۔ سفارت کاری، مکالمہ اور باہمی احترام ہی وہ راستے ہیں جو اس بحران کو پرامن انجام تک پہنچا سکتے ہیں۔ جنگیں وقتی برتری تو دے سکتی ہیں، مگر ان کے زخم صدیوں تک بھر نہیں پاتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عالمی قیادت اس حقیقت کو سمجھے اور ایسے فیصلے کرے جو نہ صرف موجودہ بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی امن اور استحکام کی ضمانت بن سکیں۔