ایک شاندار تقریب اور یادگار تقریر

اولڈ راوینز ایسوسی ایشن کا سالانہ عشائیہ ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا، جس کے مہمانِ خصوصی چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی تھے۔



اولڈ راوینز ایسوسی ایشن کا سالانہ عشائیہ ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا، جس کے مہمانِ خصوصی چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی تھے۔

اس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ اور معین وٹو بھی شریک ہوئے۔ ان کے علاوہ سابق آئی جی پولیس ذوالفقار چیمہ، اخوّت کے سربراہ ڈاکٹر امجد ثاقب اور سابق وائس چانسلر صاحبان کو بھی اسٹیج پر بٹھایا گیا۔ ہال ریٹائرڈ بیوروکریٹوں، ممتاز ڈاکٹروں، پروفیسر صاحبان اور صنعتکاران سے بھرا ہوا تھا۔ کئی معروف اداکار اور گلوکار بھی موجود تھے۔ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری شہباز شیخ اس تقریب کے منتظمِ اعلیٰ ہوتے ہیں۔ ماضی میں سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد، جسٹس نسیم حسن شاہ اور ایس ایم ظفر ایسوسی ایشن کے صدر رہے ہیں، آج کل نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اس کے صدر ہیں۔

 شہباز شیخ نے خطبۂ استقبالیہ میں مہمانِ خصوصی اور دیگر مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ قائم مقام صدرِ مملکت سیّد یوسف رضا گیلانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ انھوں نے اپنی مادرِ علمی سے بہت کچھ سیکھا اور وہ پرانے راونیز کے درمیان آکر اسی طرح محسوس کرتے ہیں جیسے اپنے گھر واپس آگئے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ زرداری صاحب کے بیرونِ ملک جانے کی وجہ سے قائم مقام صدرِ مملکت بن گئے ہیں اس طرح وہ واحد اولڈ راوین ہیں جو ملک کے ہر آئینی عہدے پر فائز رہا ہے۔

وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایسوسی ایشن کے صدر اسحاق ڈار کا پیغام پڑھ کر سنایا، جس میں انھوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بند کرانے کی مخلصانہ کوششیں کررہی ہے، انھوں نے کہا کہ وہ مذاکرات کی وجہ سے آج کے عشائیے میں شامل نہیں ہوسکے جس کا انھیں از حد افسوس ہے۔ یہ تو تھیں روایتی تقریریں… اور اب آتے ہیں اس تقریر کی جانب جو حاصلِ محفل تھی اور جو سب سے زیادہ پسند کی گئی یا یوں کہیں کہ جس نے مجمع لوٹ لیا۔

وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کے بعد اسٹیج سیکریٹری شہباز شیخ نے کہا کہ اب میں ایک انتہائی قابلِ احترام اولڈ راوین، تمام سول سروسز کے رول ماڈل اور سابق انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار احمد چیمہ کو اظہارِ خیال کی دعوت دیتا ہوں۔ اس پر اسٹیج پر بیٹھے ہوئے ذوالفقار چیمہ ڈائس پر آگئے۔ وہ کچھ سالوں سے سالانہ عشائیے میں شرکت نہیں کررہے تھے اور بہت سے لوگ ان کی کمی شدّت سے محسوس کرتے تھے۔

اس لیے ان کے آنے پر حاضرین نے خوشی اور مسرّت کا اظہار کیا۔ ذوالفقار چیمہ نے اپنی تقریر اس طرح شروع کی کہ "اگر چہ ملکی اور عالمی منظر نامے کو مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے سیاہ بادلوں نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے مگر وہاں بھی راوینز کا ہی چرچا ہے۔ پہلا منظر نامہ امریکا اور ایران کے بے جوڑ مقابلے کا ہے، ایک طرف دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت ہے جس کا سامنے کرنے سے دنیا کی بڑی طاقتیں بھی ڈرتی ہیں، روس اور چین بھی اسے confront کرنے سے گریز کرتے ہیں، یورپی ممالک بھی اس سے گھبراتے ہیں مگر دنیا یہ دیکھ کر حیران وششدر ہے کہ انتہائی کم وسائل والا ایک چھوٹا ملک اس سپر پاور کے سامنے چٹان کی طرح ڈٹ کر کھڑا ہوگیا ہے، اس کی سول اور ملٹری قیادت ختم کردی گئی، کارپٹ بمباری سے کئی شہر ملبے کا ڈھیر بن گئے مگر وہ چھوٹا ملک نہ ڈرا ہے نہ گھبرایا ہے اور نہ ہی سپرپاور کی دھمکیوں کو خاطر میں لایا ہے۔

دنیا پوچھتی پھرتی ہے کہ آخر ایران کے پاس کون سی طاقت ہے؟ ایرانی کن سہاروں کی بناء پر پورے قد سے کھڑے ہیں اور للکار رہے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک ایرانی سفارتکار سے پوچھا کہ کن سہاروں نے آپ کو گرنے نہیں دیا؟ تو اس نے کہا دو سہاروں نے… کلامِ الٰہی اور کلامِ اقبال۔ یہ وہ سہارے ہیں جو ہماری امید اور حوصلہ قائم رکھتے ہیں۔ ایران سے آنے والے ایک صحافی سے ملاقات ہوئی تو اس نے اس سوال کا تفصیل سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ "ہمارے تین پاور ہاؤس ہیں، ربِّ ذوالجلال کا نام، کربلا کا پیغام اور ڈاکٹر اقبال کا کلام۔

 ذوالفقار چیمہ نے کہا کہ "اقتدار کی چکاچوند میں لوگ کائنات کے خالق ومالک کا یہ اٹل قانون بھول جاتے ہیں جو اس نے اپنی کتابِ مقدس میں لکھ دیا ہے کہ ہم قوموں اور افراد کے درمیان دن پھیرتے رہتے ہیں، ہمیشہ کی بادشاہت اور حکمرانی صرف ربِّ ذوالجلال کی ہے، ورنہ ہر حکمران کو ایک دن حکومت چھوڑنا پڑتی ہے اور اقتدار سے الگ ہونا پڑتا ہے، اس کے بعد اسے اپنے لیے انصاف مانگنے کے لیے عدالت سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ خواتین وحضرات! اس وقت ملک کو درپیش چیلنجز سے نپٹنے کے لیے سب سے زیادہ ضرورت امن اور استحکام کی ہے۔ استحکام زیادتی اور ظلم سے نہیں فراخ دلی اور رواداری سے ہی آسکتا ہے اور امن، جبر سے نہیں صرف انصاف سے قائم ہوسکتا ہے۔ چیمہ صاحب نے انگریزی کے اس فقرے پر بات ختم کی

"The future of our country lies in upholding rule of law and human dignity and certainly not in such constitutional amendments which trample the democratic values and undermine the independence of judiciary".

چیمہ صاحب کی تقریر کے دوران معزّز خواتین وحضرات بار بار تالیاں بجاتے رہے اور کھانے کے دوران تو لوگ ان کے پاس آکر انھیں حق گوئی پر مبارک دیتے رہے۔ کچھ خواتین وحضرات نے یہ بھی کہا کہ جب جنرل مشرّف کے اقتدار کا سورج نصف النّہار پر تھا آپ نے اس وقت اسی فورم سے اس پر تنقید کی تھی، آج آپ کی تقریر نے اس تاریخی تقریر کی یاد تازہ کردی ہے۔