مقبوضہ فلسطین کی مقدس سر زمین پر قابض صیہونی اسرائیل کا دستِ ستم رُک نہیں رہا ۔ ویسے تو پچھلے سات عشروں کے دوران جتنے بھی اسرائیلی وزرائے اعظم برسر اقتدار آئے، سبھی نے مقبوضہ فلسطین اور مظلوم فلسطینیوں پرمظالم ڈھانے اور اپنی مقبوضات کو وسعت دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ صیہونی اسرائیلی وزیر اعظم ، نیتن یاہو،مگر سابقہ سبھی اسرائیلی وزرائے اعظم پر سبقت لے گیا ہے ، یوں کہ اُس کے دستِ ستم سے اسرائیل کا کوئی ایک بھی ہمسایہ مسلمان ملک محفوظ و مامون نہیں رہا ۔
نیتن یاہو اور اس کی قاہر صیہونی اسرائیلی افواج نے فلسطین کے مغربی کنارے ، غزہ ، لبنان اور شام کو اپنے تباہ کن فوجی اہداف بنا رکھا ہے ۔ غزہ میں وہ تقریباً ایک لاکھ نہتے فلسطینیوں کو شہید اور لاکھوں کو شدید زخمی اور اپاہج کر چکا ہے۔مغربی کنارے (West Bank) کے خلاف اسرائیلی افواج اور اسرائیلی آبادکاروں (Settlers) کی ہوس روز افزوں ہے ۔ مغربی کنارے میں آئے روز صدیوں پرانے فلسطینی کسان اسرائیلی آبادکاروں اور قبضہ گروپوں کے ہاتھوں اپنی زرعی زمینوں سے محروم ہو رہے ہیں ۔ کوئی طاقتور ملک مگر اِن مظلومین کے حق میں نہیں بولتاسنائی دیتا۔ شائد اِسی لیے اقوامِ متحدہ کی ڈپٹی سیکریٹری جنرل (آمنہ جے محمد) کو بیچارگی سے 27اپریل2026ء کو اشارتاً کہنا پڑا ہے :’’دُنیا پر درندوں نے قبضہ کر لیا ہے ۔ انسانوں نے انسانیت کھو دی ہے ۔‘‘
اسرائیل نے امریکہ سے مل کر ایران کے خلاف جو تباہ کن حملے کیے ہیں ، یہ مجرمانہ وارداتیں تو ابھی تازہ ترین سانحات کے زمرے میں آتی ہیں ۔ امریکی دباؤ پر سیز فائر کے باوجود لبنان میں ‘‘حزب اللہ‘‘ کے خلاف صیہونی اسرائیل کے خونریز حملے جاری ہیں ۔ امریکہ و اسرائیل یہ دعویٰ کرکے ’’حزب اللہ‘‘ کوصفحہ ہستی سے مٹا ڈالنا چاہتے ہیں کہ (۱) یہ ایران کی پراکسی ہے (۲) جب تک حزب اللہ کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا ، تب تک اسرائیل محفوظ نہیں ہے ۔
اِنہی دو بڑے مقاصد کے تحت صیہونی اسرائیل ،جنوبی لبنان ( جہاں حزب اللہ کو مرکزیت حاصل ہے) پر مسلسل حملہ آور بھی ہے اور اِس کے کئی سرحدی علاقوں پر قابض بھی ہو چکا ہے ۔ اِن کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ جنوبی لبنان میں جنگ کی کوریج کرتے ہُوئے لبنان کی معروف ترین صحافی ، امل خلیل ، کو اسرائیل نے نشانہ باندھ کر ،23اپریل2026ء کو، شہید کر دیا ۔ شہید امل خلیل لبنان کے مشہور اخبار ’’ الاخبار‘‘ سے وابستہ تھیں ۔ یاد رہے رواں برس صیہونی اسرائیل لبنان کے 9صحافیوں کو ٹارگٹ کرکے شہید کر چکا ہے ۔
اِن سنگین اور پُر خطر حالات میں دُنیا غزہ ، القدس الشریف اور مغربی کنارے کے غریب اور مظلوم مسلمان فلسطینیوں بارے فراموشی کا رویہ اپنائے ہُوئے ہے ۔ غزہ ، جس کا80فیصد حصہ صیہونی اسرائیل ملیامیٹ کر چکا ہے، کی تعمیرِ نَوبارے جملہ عالمی دعوے اور وعدے ہوا ہو چکے ہیں۔ تباہ شدہ ’’غزہ‘‘ کی خوشحالی ، بے خانماں اہلِ غزہ کی بحالی اور غزہ کی تعمیرِ نَو بارے جو’’20نکاتی امن منصوبہ‘‘ منظور کیا گیا تھا، عالمی امن کے نام نہاد ٹھیکیدار اِس منصوبے کو بھی بھُول بھال چکے ہیں ۔ امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ ، نے بڑے ادعا، شور اور دعوؤں کے ساتھ ’’بورڈ آف پِیس‘‘(BoP) ترتیب دیا تھا ( جس میں پاکستان بھی شریک تھا) تاکہ ’’غزہ‘‘ کو ایک نئی تعمیری شکل دی جا سکے ، مگر ایران ، امریکی جنگی محاربے میں یہ منصوبہ بھی طاقِ نسیاں میں رکھ دیا گیا ۔ گمان غالب یہ بھی ہے کہ اسرائیل نے دانستہ امریکہ کو ایران پر حملہ آور ہونے کی اس لیے بھی شہ دی تاکہ خود امریکہ ، مشرقِ وسطیٰ اوردُنیا کی نظریں’’غزہ‘‘ کی تباہی سے بھی ہٹ جائیں اور اسرائیل کو ’’غزہ‘‘ کی جانب مزید دستِ ستم بڑھانے کے مواقع ملتے رہیں ۔
صیہونی اسرائیل رہے سہے فلسطین اور بچھے کھچے غزہ بارے اپنے گھناؤنے منصوبوں کو آگے بڑھانے سے دستکش نہیں ہورہا ۔ القدس الشریف اور غزہ میں اُس کی زیادتیاں روزافزوں ہیں ۔ فروری2026ء میں، عین رمضان کے مبارک ایام میں، مسجدِ اقصیٰ کے بزرگ تین خادم (الشیخ محمد العباسی) کو اسرائیلی فورسز نے گرفتار کر لیا۔ 22اپریل2026ء کو95 صیہونی اسرائیلی آباد کاروں نے ، اسرائیلی پولیس کی نگرانی میں، القدس الشریف کے مغربی دروازے سے داخل ہو کر مسجدِ الاقصیٰ پر دھاوا بول دیا ۔
اِن بدبختوں نے وہاں اپنی مذہبی کتاب ’’تالمود‘‘ بھی باآوازِ بلند پڑھی اور مسجدِ اقصیٰ کے مقدس صحنوں میں اسرائیلی پرچم بھی لہرا دیے۔ یہ اقدام سراسر عالمی قوانین اور اُردن سے کیے گئے قدیم معاہدوں کے منافی تھا اور القدس الشریف کے مسلمانوں کی دل آزاری بھی ۔ عالمِ اسلام کے ساتھ ساتھ پاکستان نے بھی مذکورہ اسرائیلی اقدام کی مذمت کی ۔مگر صرف زبانی مذمتوں سے اسرائیل کا کیا بگاڑا جا سکتا ہے ؟ایسے میں یہ توقع رکھنا کہ القدس الشریف اور یروشلم میں بسنے والے مسلمانوں کی کوئی مسلمان ملک یا کوئی مسلم نجی ادارہ اخلاقی ، مالی اور رُوحانی مدد کر سکے گا، عبث معلوم ہوتا ہے ۔ مگر بُرے اور سُکڑے حالات کے باوصف عالمِ اسلام میں چند ایک ایسی این جی اوز ہیں جو القدس الشریف کے مکینوں کی مالی اعانت کرنے کی مقدور بھی کوششیں کر رہی ہیں ۔ اِنہی اولوالعزم اور جانباز این جی اوز میں ایک قابلِ فخر مسلم ادارہ’’ المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ‘‘ نام کا بھی ہے ۔
جناب عبد الرزاق ساجد اِس این جی او کے سربراہ ہیں ۔پاکستانی ہیں ، مگر اُن کا ادارہ جاتی مرکز برطانیہ میں ہے ۔ سیاسی عالمی محاربوں سے بلند اور لاتعلق رہ کر وہ مظلوم مسلمانوں کی دامے درمے اعانت کو بروقت پہنچنے کی شہرت رکھتے ہیں ۔ اُن کے غیر سیاسی ہونے کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ میانمار( برما) کے مظلوم مسلمانوں (روہنگیا) کی مالی امداد کرنے میں کامیاب رہتے ہیں ، حالانکہ سب جانتے مانتے ہیں کہ میانمار کی سخت گیر فوجی حکومت کے روہنگیا مسلمانوں بارے کیا خیالات و نظریات ہیں ۔ اِسی طرح وہ ’’غزہ‘‘ کے مظلومین کی امداد بھی کررہے ہیں ۔ وہاں پہنچنے کے لیے وہ کبھی مصر کا جوکھم بھرا راستہ اختیارکرتے ہیں اور کبھی اُردن کا ۔ القدس الشریف (مسجدِ اقصیٰ) کے آس پاس بسنے والے غریب فلسطینیوں تک پہنچنے کے لیے بھی جناب عبدالرزاق ساجد( اور اُن کی این جی او سے وابستہ مقامی افراد) کبھی مصر اور کبھی اُردن کے راستے اختیار کررہے ہیں۔
جن لوگوں نے مسجدِ اقصیٰ کے ہمسایہ میں بسنے والے فلسطینیوں کی حالتِ زار اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھی ، وہ قطعی اندازہ نہیں کر سکتے کہ یہ مسلمان کس قدر تنگی ترشی اور ناقابلِ بیان مالی تنگدستیوں کا شکار ہیں ۔ اِنہی بے بس فلسطینیوں کی باعزت اعانت کے لیے ’’المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ‘‘ نے اُردن کے شاہی خاندان کی اعانت و تعاون سے القدس الشریف میں ایک ایسا شاندار ادارہ بنایا کہ القدس الشریف کے مستحق مسلمانوں کے تعلیمی اخراجات بھی پورے کیے جائیں اوراُن کے ماہانہ خورونوش کے اخراجات کا بندوبست بھی کیا جا سکے۔
اُردن کے شاہی خاندان کے توسط اور درمیان داری سے ’’المصطفیٰ ‘‘ نے مسجدِ اقصیٰ کے اندر قرآن مجید کے حفظ و تجوید اور قرأت کے لیے نیا ادارہ بھی قائم کیا ہے ۔ اِس ادارے میں جدید عربی زبان سیکھنے اور اِس کے فروغ کے لیے جدید ترین سائنسی سلیقے بروئے کار لائے گئے ہیں ۔ خاص بات یہ ہے کہ اِس عظیم ، قابلِ فخر اور روحانی پراجیکٹ کو آگے بڑھانے کے لیے مسجدِ اقصیٰ کے مرکزی امام و خطیب ( ڈاکٹر عمر الکسوانی) بھی ’’ المصطفیٰ‘‘ کے شریکِ سفر ہیں ۔
مسجدِ اقصیٰ کے اندر ’’المصطفیٰ‘‘ کے زیر نگرانی جس ادارے کی اساس رکھی گئی ، اُسے ’’قرآن سرکل‘‘ سے موسوم کیا گیا ہے ۔ اِس منفرد اور شاندار ادارے کی بنیادیں رکھنے اور اِس کے تحفظ کے لیے فلسطینی اتھارٹی کے صدر ، جناب محمود عباس، اور اُردن کے شاہی خاندان کے معرف فرد،کنگ غازی، کا بھرپور تعاون بھی ’’المصطفیٰ‘‘ کو دستیاب ہے ۔یوں ادارہ ہٰذا کو ایک ذمے دار چھتری بھی مل گئی ہے ۔’’ قرآن سرکل‘‘کے شرکت کنندگان کو وظائف بھی دیے جاتے ہیں ۔ اور مسجدِ اقصیٰ ( قبلہ اوّل) سے متصل اور مضافات میں بسنے والے فلسطینیوں کی خدمت میں ، فرداً فرداً، دو ہزار ڈالرز کے واؤچرز بھی پیش کیے جاتے ہیں ۔ اور یہ مالی امداد ایسی خاموشی اور ایسے ادب سے پیش کی جاتی ہے کہ کسی کی عزتِ نفس کے نازک آبگینے کو ٹھیس نہ پہنچنے پائے ۔ دعا ہے کہ القدس الشریف میں انسانی و رُوحانی خدمت کے یہ روشن چراغ کبھی بجھنے نہ پائیں اور چراغ سے مزید چراغ جلتے رہیں ۔