راولپنڈی:
پولیس نے شمالی چھاؤنی کے علاقے سے اغوا 3 سالہ بچے موسیٰ کو بحفاظت بازیاب کراتے ہوئے اغوا میں ملوث 3 خواتین کو گرفتار کرلیا، بچے کو بھیک منگوانے کی غرض سے اغوا کیا گیا تھا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق شمالی چھاؤنی سے بچہ اغوا ہونے پر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے معصوم بچے کے اغوا کا فوری نوٹس لیا، ایس پی انویسٹی گیشن کینٹ راحیلہ اقبال کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا اور بچے کو بازیاب کرا لیا۔
انچارج انویسٹی گیشن تھانہ شمالی چھاؤنی منصب خان نے پولیس ٹیم کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزمہ سمیت اس کی دو ساتھی خواتین کو گرفتار کیا۔ ملزمان کو سی سی ٹی وی فوٹیج اور ہیومن انٹیلی جنس کی مدد سے ٹریس کر کے گرفتار کیا گیا۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق دو خواتین نے گھر کے باہر کھیلتے ہوئے بچے موسیٰ کو اغوا کیا بعد ازاں اسے اپنی ایک ساتھی خاتون جو کہ راولپنڈی کی رہائشی ہے اس کے ہاتھوں فروخت کردیا۔
ایس پی انویسٹی گیشن کینٹ کے مطابق ملزمان نے بچے کو بھیک منگوانے کی غرض سے اغوا کیا تھا۔
بچے کی بازیابی کے موقع پر والد جذبات سے مغلوب ہو گئے اور انہوں نے اپنے بیٹے کو گلے لگا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ بچے کو بحفاظت بازیاب کر کے والدین کے حوالے کر دیا گیا، جس پر انہوں نے انویسٹی گیشن پولیس ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے کہا کہ پولیس پراسیکیوشن پارٹنرشپ کے تحت ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوائے گی، خواتین اور بچوں کے اغوا میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید نے کامیاب کارروائی پر پولیس ٹیم کے لیے تعریفی اسناد کا اعلان کیا۔