وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں مہنگائی وزارت خزانہ کے تخمینے سے بھی زیادہ ہو گئی ہے


فوٹو: فائل

وفاقی وزارت خزانہ کے ملک میں مہنگائی کے حوالے سے تخمینے غلط ثابت ہوگئے ہیں جہاں سالانہ بنیاد پر اپریل میں مہنگائی کی شرح ڈبل ڈیجٹ کے ساتھ 10.89 فیصد اور مہنگائی کی سالانہ شرح 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری رپورٹ کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں مہنگائی وزارت خزانہ کے تخمینے سے بھی زیادہ ہو گئی ہے اور اپریل 2026 میں مہنگائی میں 2.48 فیصد کے بڑے اضافے کے ساتھ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی میں اضافے کی شرح 10.89 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ وزارت خزانہ کی جانب سے ایک روز قبل جاری کردہ اقتصادی آؤٹ لک رپورٹ میں حکومت نے اپریل میں مہنگائی 8 سے 9 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سالانہ بنیاد پر ٹرانسپورٹ کرائے 30 فیصد تک بڑھ گئے، ایک سال میں خوراک کی قیمتوں میں 7.63 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جلد خراب ہونے والی کھانے پینے کی اشیا 10.20 فیصد، ایک سال میں ہاؤسنگ، پانی، بجلی اور گیس 16.84 فیصد، کپڑے اور جوتے سالانہ بنیاد پر 6.20 فیصد مہنگے ہوگئے ہیں اور سالانہ بنیاد پر ہوٹل ریسٹورنٹ چارجز میں 5.28 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی سالانہ شرح 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، اپریل میں ٹماٹر کی قیمت میں 57 فیصد سے زیادہ، سبزیوں کی قیمتیں 40 فیصد تک بڑھ گئیں، انڈے 14 فیصد، پیاز 9 فیصد اور آلو 4 فیصد مہنگے ہوئے، دودھ اور دودھ سے بنی اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اسی طرح چکن اور گوشت کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا، چاول، دال ماش اور بیکری آئٹمز بھی مہنگے ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق گندم کی قیمت میں 9 فیصد کمی ہوئی، آٹے کی قیمت میں تقریباً 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، مچھلی، تازہ پھل اور چینی سستی ہوئی، بیسن، دالیں اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

علاوہ ازیں مختلف ذاتی استعمال کی اشیا اور قالین سستے ہو گئے ہیں جبکہ ایل پی جی کی قیمت میں 38 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، ٹرانسپورٹ سروسز 27 فیصد اور پیٹرولیم مصنوعات 18 فیصد مہنگی ہوئیں، کرایوں اور تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔