دھرنا سیاست نہ منطق نہ جواز
دو متضاد سیاسی موقف رکھنے والے گروہ اس وقت اسلام آباد میں دھرنا دیے بیٹھے ہیں ...
PESHAWAR:
اسلام آباد چند دنوں سے دھرنوں کا مرکز ہے۔ ان دھرنوں میںسول نافرمانی کے اعلان کے ساتھ ساتھ اور کیا کچھ ہورہا ہے اس کی تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں ۔ لمحہ بہ لمحہ کی خبروں سے آپ واقف ہیں۔ براہِ راست نشریات کے ذریعے ہر منظر اور ہر طرح کے تجزیے پیش کیے جارہے ہیں ۔ غورکرنے کی بات یہ ہے کہ ان دو دھرنوں کے بنیادی مسائل اور تضادات کیا ہیں اور وہ کون سے حقائق ہیں جو یہ طے کریں گے کہ مذکورہ دھرنے مطلوبہ نتائج حاصل کرسکیں گے یا نہیں ۔
ان دھرنوں کی بہت بڑی کمزوری یاخامی یہ ہے کہ یہ ایسے دو سیاسی گروہوں کی جانب سے کیے جارہے ہیںجن کی سیاسی اور نظریاتی فکر ایک دوسرے سے متضاد ہے لیکن اس کے باوجود یہ بہ ظاہر تعاون کرتے نظر آرہے ہیں ۔ ایک سیاسی گروہ کا مطالبہ ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے ' حکومت کا مینڈیٹ جعلی ہے لہٰذا وزیر اعظم استعفیٰ دیں اور نئے انتخابات کرائے جائیں ۔ دوسرا گروہ سرے سے آئین اور جمہوری نظام کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے ۔ اس کا مطالبہ ہے کہ موجودہ نظام کا تختہ الٹ دیا جائے اور حکمرانوں کو ان کی کابینہ سمیت برطرف اور گرفتار کرلیا جائے۔
دو متضاد سیاسی موقف رکھنے والے گروہ اس وقت اسلام آباد میں دھرنا دیے بیٹھے ہیں ' ان کی زبردست ٹی وی کوریج ہورہی ہے لہٰذا عوام تک دونوں متضاد مطالبات پہنچ رہے ہیں ۔ اس حقیقت کو چھوڑیں کہ عوام کی کتنی بڑی تعداد کوحکومت کی تبدیلی یا انقلاب مطلوب ہے ۔ جن لوگوں کوتبدیلی کی خواہش ہے ان کی بھی سمجھ میں یہ بات آرہی ہے کہ وہ ان دونوں متضاد متبادل میں سے کس ایک کا انتخاب کریں ؟ اس وجہ سے عوامی ابھار پیدا نہیں ہوا اور ان دھرنوں میں عوام کی شرکت اس تعداد سے کہیں کم ہے جس کے ابتداء میں دعوے کیے جارہے تھے ۔
ان دو مختلف اور متضاد سیاسی فکر رکھنے والوں کے دھرنوں میں جو کچھ کہا جارہا ہے اس سے بھی لوگ ابہام کا شکار ہیں ۔ مثال کے طور پر پی ٹی آئی نے اب تک جو الزامات عائد کیے ہیں وہ محض الزامات ہیں' ان کو کسی قانونی اور آئینی فورم پر ثابت نہیں کیا جاسکا ہے اور نہ ایسا کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر آرہی ہے ۔ الزامات اتنے ہمہ گیر ہیں کہ ان کی زد میں ریاست کا ہر ادارہ اور اس کا سربراہ آچکا ہے ۔ وزیر اعظم قائد حزب اقتدار ہیں' ان پر الزام ہے کہ انھوں نے گزشتہ انتخابات میں دھاندلی کرائی ہے۔
اس الزام کو ثابت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ نگراں وفاقی اور صوبائی حکومتیں بنانے میں جب نواز شریف کا تنہا کوئی کردار نہیں تھا اور انتخابات میاں صاحب کی حکومت نے نہیں بلکہ نگراں حکومت نے کرائے تو وہ اس میں دھاندلی کس طرح کرسکتے تھے ؟ چونکہ یہ الزام سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے ہے لہٰذا اسے کہیں اور کسی بھی فورم پر ثابت نہیں کیا جارہا ہے ۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس پر بھی دھاندلی کرانے کا الزام عائد کیا گیا ہے جب کہ سپریم کورٹ کا عام انتخابات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
اس وقت کے چیف جسٹس صاحب نے خود عمران خان کے مطالبے کو مانتے ہوئے عدلیہ کے ریٹرننگ افسروں کو تعینات کرنے کے لیے صوبائی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کو کہا تھا ۔ یہ الزام بھی لگایا گیا کہ تمام دھاندلی ان ریٹرننگ افسران کی جانب سے کی گئی جنھیں چاروں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان نے مقرر کیا تھا ۔ اسی طرح الزامات کی زد میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کو بھی لے لیا گیا۔
سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس صاحب نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات پر ہتک عزت کا جو نوٹس روانہ کیا تھا اس کا جواب تک نہیں دیا گیا حالانکہ اس نوٹس کے جواب میں لگائے گئے الزامات کے حق میں ثبوت پیش کرکے متعلقہ عدالت میں الزامات ثابت کیے جاسکتے تھے ۔ ہر سطح کی عدلیہ پر عدم اعتماد کی وجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں تھی کہ دھاندلی کے الزامات کو عدالتوں میں چونکہ ثابت نہیں کیا جاسکتا لہٰذا اس فورم کو بھی متنازعہ بنادیا جائے۔
انتخابی دھاندلی کے خلاف مذکورہ جماعت کی جانب سے 58 عذرداریاں داخل کرائی گئی ہیں جن میں اکثریت کا فیصلہ ہوچکا ہے ۔ کہیں بھی دھاندلی ثابت نہیں کی جاسکی ہے ۔ چند نشستوں پر پی ٹی آئی کے جیتے ہوئے امیدواروں پر دھاندلی ثابت ہوئی ہے اور ان کی جگہ دوسرے امیدواروں کو کامیاب قرار دے دیا گیا ہے ۔ الیکشن کمیشن پر بھی عدم اعتماد یہ ظاہر کرتا ہے کہ دھاندلی کے الزامات پر قانونی چارہ جوئی سے جان چھڑائی جائے۔
پی ٹی آئی دھرنے کی دوسری بڑی کمزوری وزیر اعظم کے استعفے اور نئے سرے سے عام انتخابات کا مطالبہ ہے ۔یہ ایک ناقابل عمل بات ہے ۔ آئینی اور قانونی طور پر ایسا ممکن نہیں ۔ کسی غیرآئینی اقدام کے ذریعے ہی یہ غیر معمولی صورتحال پیدا کی جاسکتی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں 30نشستیں رکھنے والی پارٹی کے دبائو یا مطالبے پر وہ وزیرا عظم کس طرح استعفیٰ دے سکتا ہے جسے 200 سے زیادہ ارکان پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہے اور جمہوریت کی تائید میں پی ٹی آئی کے سوا پوری پارلیمنٹ متحد ہے۔
یہ فرض کرلیا جائے کہ وزیر اعظم مستعفی بھی ہوجائیں توکیا پارلیمنٹ کے ارکان اپنے ادارے کو توڑنے کی حمایت کریں گے؟ 18 ویں ترمیم کے بعد آئینی صورتحال بدل چکی ہے ۔ پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا جواب دینا ہوگا ' اعلیٰ عدلیہ ایسے کسی اقدام کو جائز قرار نہیں دے گی ۔ یہ سوال بھی ہے کہ عمران خان کے کہنے پر چاروں صوبوں کی اسمبلیاں کیسے ٹوٹ جائیں گی ؟ کوئی وزیر اعلیٰ ایسا نہیں کرے گا ' جو کرے گا اس کا اقدام چیلنج ہوگا۔ خود کے پی کے میں جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے وہاں بھی یہ عمل ممکن نہیں ہو سکے گا۔
پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے بارے میں ان کے جو ارشادات سامنے آئے ہیں اس کے خلاف سینیٹ کی جانب سے تحریک استحقاق بھی منظور ہوچکی ہے ۔ پاکستان کے عوام ' سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتیں اچھی طرح جانتی ہیں کہ ایسے مطالبات کو پورا کرناآئین اور قانون کے مطابق ممکن نہیں' اس کے لیے ماورائے آئین اقدام کی ضرورت ہوگی جو پاکستان کی بقا اور سلامتی کے لیے تباہ کن ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ دھرنا تحریک کو عوام کے ساتھ اہم سیاسی قوتوں کو بھی عملی اور پُر جوش حمایت نہیں مل سکی ہے۔
اب دوسرے دھرنے کا تجزیہ کرلیا جائے ۔ اس دھرنے کے قائد ایک مذہبی شخصیت ہیں جن کی سیاسی جماعت نے عام انتخابات میں حصہ نہیں لیا ۔ موصوف سرے سے پاکستان کے اس جمہوری نظام کو تسلیم نہیں کرتے جو آئین کے ذریعے معرض وجود میں آیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ پورے نظام اور ہر ادارے کو تہہ و بالا کردیا جائے اور ایک ایسا انقلاب برپا کیا جائے جس کے سامنے تاریخ انسانی کے تمام انقلاب ماند پڑجائیں۔ اتنا فضول اور بے سروپا اعلان ؟ انقلاب نہ ہوا بچوں کا کھیل ہوا ۔دنیا کے عظیم انقلابات تاریخی اور معاشی ارتقاء کے نتیجے میں رونما ہوئے۔ کسی فلسفی یا سیاستدان کی خواہشِ اقتدار سے انقلاب نہیں آیا کرتے۔
صنعتی انقلاب نے بادشاہتوں کے خلاف انقلاب برپا کیے۔ نو آبادیاتی نظام میں غلام ملکوں کے ابھرتے ہوئے معاشی طبقات کا ٹکرائو سامراجی آقائوں سے ہوا جس سے قومی آزادی اور سوشلسٹ انقلاب آئے ۔ سرد جنگ ختم ہوئی تو امریکا اور سابق سوویت یونین کے حامی آمروں کے خلاف جمہوری انقلاب برپا ہوئے ۔ یہ تمام فطری انقلابات تھے ۔ ان میں کسی ''مولانا'' کی خواہش کار فرما نہیں تھی ۔ جمہوریت کا تختہ الٹنے کے اقدام کو انقلاب سے موسوم کرنا ' لفظ انقلاب کی بد ترین توہین ہے ۔ جمہوریت کے خلاف فوجی انقلاب آیا کرتے ہیں جو غیر فطری عمل کا نتیجہ ہوتے ہیں لہٰذا جلد یا بدیر ناکامی ان کا نصیب ہوتی ہے۔
دوسرے دھرنے کے مذہبی قائد خود کو انقلاب کا داعی قرار دیتے ہیں حالانکہ وہ مذہب کے ایک مسلک کے بھی ایک حصے کی نمایندگی کرتے ہیں۔ پاکستان ایک کثیر المسلکی'کثیر النسلی' کثیر القومی اور کثیر اللسانی ملک ہے ۔ یہاں کسی مخصوص ملک ' نسل یا لسان کی بالادستی نہیں ہوسکتی ۔ انقلاب کے نام پر ایسا کرنے کی کوشش سے ملک میں فرقہ واریت کو فروغ ملے گا ' منافرت پھیلے گی ' وفاق کی یک جہتی متاثر ہوگی اور مذہبی اور نسلی انتہا پسندی فروغ پائے گی ۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی غالب ترین اکثریت انقلاب کے نام پر دھرنے دینے والوں کی حمایت نہیں کر رہی ہے ۔
اب تک دھرنا سیاست کے جو رنگ نظر آئے ہیں ان سے یہ اندازہ لگانا بالکل مشکل نہیں ہے کہ دھاندلی اور انقلاب کے نام پر دھرنوں کی جو سیاست ہورہی ہے اس کا اصل ہدف یہ ہے کہ چونکہ انھیں عوامی حمایت ' سیاسی جماعتوں ' منتخب پارلیمنٹ اور آئین کے دائرہ کار میں کام کرنے والے اداروں کی حمایت نہیں مل سکی ہے لہٰذا حالات کو بد ترین حد تک پہنچا دیا جائے تاکہ جمہوریت کی بساط لپیٹ کر اقتدار میں آنے کی خواہش جلد سے جلد پوری ہوسکے۔
ویسے تو خوابوں کی اپنی ایک الگ دنیا ہوتی ہے لیکن منطق اور حقائق یہی بتاتے ہیں کہ پاکستان کے تمام آئینی اور ریاستی ادارے ' سیاسی جماعتیں اور عوام نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ 21ویں صدی میں کسی بھی مہم جوئی یا غلط فیصلے سے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے لہٰذا جمہوری عمل کو ہر قیمت پر جاری رکھا جائے ' ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کی حماقت نہ کی جائے اور معاشی ترقی کو اولین ترجیح دی جائے ۔
حقائق اور منطق سے ٹکرانا لا حاصل ہے موجودہ صورتحال کے اختتام کے بعد شاید یہ مثبت سبق سب کو مل جائے گا ۔