زندگی کی سہولتوں سے محروم کراچی

بس چلتا تو سورج کو سیاسی حکمت عملی کی نذر کر دیا جاتا


نسیم انجم May 03, 2026
[email protected]

پاکستان کا سب سے بڑا شہر عرصہ دراز سے بے حد مشکلات اور مسائل کا شکار ہے، ارباب اختیار نے کراچی کے عوام کو بنیادی سہولتوں سے محروم کر دیا ہے اور پتھر کے زمانے کی یاد دلا دی ہے ساتھ میں 60 اور 70 کا زمانہ بھی یاد آ جاتا ہے۔

جب محلے اور علاقوں کے چوک پر سرکاری نلوں اور گھروں میں لکڑیاں جلائی جاتی تھیں اور انگیٹھیوں میں کوئلے دہکا کرتے تھے ،زیادہ پسماندہ علاقوں میں گوبر کے تھاپے ہوئے اپلوں سے آگ جلائی جاتی تھی، 25 کلو واٹ سے زائد سولر انرجی پیدا کرنے والوں پر بھی ٹیکس لگانے کے طریقے وضع کر دیے گئے ہیں۔

بس چلتا تو سورج کو سیاسی حکمت عملی کی نذر کر دیا جاتا اور ہمارے مقتدر حضرات سورج کو قید کر لیتے اور خوب بیوپار کرتے جو زیادہ سے زیادہ پیسہ ادا کرتا، اسے اتنی ہی حرارت اور دھوپ کے فائدے میسر آتے اور غریب بے چارہ تو ہر طرح سے خسارے میں ہی رہا ہے وہ دھوپ بلکہ قدرتی موسموں کو ترس جاتا ہے ۔

اب بھلا کسی نے سنا ہے کہ سولر کی خریداری اور استعمال پر بھی ٹیکس کی ادائیگی ضروری ہے، وہ وقت بھی دور نہیں جب ہوا، برسات اور موسم سرما کے مزے لینے والوں کو تپتے جنگل میں پھینکنے کے منصوبوں پر عمل کیا جائے گا۔ بچت اسی صورت میں ہے کہ رقم کی ادائیگی زیادہ سے زیادہ ہو یا پھر سفارش اور تعلقات ہوں۔

شہر کراچی میں کسی زمانے میں قلت آب نے زندگی کو ایک ایسے دوراہے پر لا کر کھڑا کر دیا تھا جہاں جینا اور مرنا مشکل تھا اور اب بھی پانی کے ترسے ہوئے لوگ کسی نہ کسی طریقے سے ٹینکر کا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں ٹینکر بھی آسانی سے نہیں ملتا ،اس کے لیے صبح و شام دوڑ بھاگ کی جاتی ہے، پانی کے حصول کی دوسری صورت یہ ہے کہ بے شمار گھرانوں میں بورنگ کروا کر کھارے پانی سے کام چلایا جاتا ہے۔

پانی کا مسئلہ جوں کا توں ہے ۔اس کے ساتھ گیس کی بندش نے معصوم بچوں اور بزرگوں کو بھوکا مار دیا ہے، وقت پر کھانا اور بچوں کی غذا گیس نہ ہونے کی وجہ سے پکانا محال ہو چکا ہے اور کمال کی بات یہ ہے کہ گیس کے آنے جانے کے اوقات بھی مقرر نہیں ہیں، دیگچیاں، بھگونے، کڑاہی اور روٹی پکانے کا توا چولہے پر سوار ہو کر کھانوں کی خوشبوؤں سے اشتہا کو بڑھانے کا کام انجام دیتے ہیں۔

گھر کے بچے، بوڑھے اور دیگر افراد کھانے کی میز پر جمع ہو کر گرم گرم دال، چاول، گوشت کا انتظار بے چینی اور ندیدے پن سے کرتے ہیں کہ اسی دوران چولہے ٹھنڈے ہو جاتے ہیں پتا چلا کہ گیس بی بی نے اپنا رخ روشن دبیز گھونگھٹ سے ڈھانپ لیا ہے۔

الوداعی گیت سنے بغیر ہی رخصت ہو گئی ہیں۔ ایسی صورتحال اکثر اوقات اس وقت بھی پیش آ جاتی ہے جب اچانک وارد ہونیوالے مہمان کھانا کھانے کے منتظر ہوں اس وقت صاحب خانہ کا دہرے صدمے کا شکار ہونا بے معنی ہرگز نہیں ہوتا ہے، کھانے کا وقت ہے، سب بھوکے ہیں ،بازار سے منگوانے کی سکت نہیں۔

پانچ سو کی رقم سے جو کھانا آتا تھا اب وہی پندرہ سو اور دو ہزار سے کم کا ہرگز نہیں آتا، وہ بھی عام سے ہوٹل سے۔ اچھے ہوٹلوں اور سپر مارکیٹوں سے کھانا اور خور و نوش خریدنا ایک عام آدمی کے بس میں ہرگز نہیں ہے۔

بجلی اور گیس کا رونا اپنی جگہ، ساتھ میں حکومت کا پٹرول مہنگا کرنا عوام کی گردنوں پر چھری پھیرنے کے مترادف ہے۔ پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو ضرورت زندگی کی اشیا کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔

ان حالات میں پاکستان کے عوام کیا کریں، کہاں جائیں؟ یہ ملک عوام کا ہے، اس ملک کی تعمیر میں دامے، درمے، قدمے سخنے ہر طرح سے مدد کرنے والے ہمارے بزرگ تھے۔ ان لوگوں نے اپنی دولت، جائیداد، زمین اور اپنے پیاروں کی قربانی دی اور خود بھی ملک کی ترقی میں اپنی جوانی کے خوبصورت دن بتا دیے، کس طرح اور کس پریشانی، غربت اور تکلیف کے ساتھ اپنے بچوں کی تعلیم مکمل کروائی۔

جب وہ ملازم ہو گئے اور دن اچھے آئے تو نہ جانے کس سازش کے تحت ان تعلیم یافتہ، باکردار نوجوانوں کو ٹرالر اور ٹینکر سے کچلنے کی اجازت دے دی؟ کراچی میں شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب دو، دو بھائی، میاں بیوی اور بہن بھائی کو ہیوی ٹریفک کچلتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے انھیں کوئی گرفتار کرنے اور سزا دینے والا نہیں۔

انھیں بھی شہر کے چوراہوں پر پھانسی دی جائے، جس آسانی کے ساتھ یہ لوگ نوجوانوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے،جیسے انھیں معلوم ہے کہ ان کی اس سفاکی پر کسی قسم کی سزا نہیں ملے گی، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے حکمران بے حسی کی حد سے گزر چکے ہیں۔

انھیں اس بات کا احساس طمانیت بخشتا ہے کہ وہ اور ان کے بچے محفوظ ہیں، خوش ہیں، باہر کے ملکوں میں زیر تعلیم ہیں اور اگر اپنے ملک میں بھی ہیں تو انھیں مکمل آزادی ہے کہ کراچی کی سڑکوں پر دندناتے پھریں اور سال چھ مہینوں میں کوئی حادثہ کر بیٹھیں تو انھیں کوئی پوچھنے والا نہیں، قانون، عدالتیں سب ان کے غلام ہیں جو وہ چاہیں گے وہی اس ملک میں ہوگا۔

ان کا کوئی بال بیکا نہیں کر سکتا ،چوں کہ وہ شہزادے، شہزادیاں ہیں لیکن ماضی میں تو بادشاہ وقت اپنی غلطی یا کسی الزام کے تحت قاضی کے کٹہرے میں ملزم کی طرح خود حاضر ہو جاتا تھا، لیکن اب تو وہ وقت ہے کہ 100 قتل بھی معاف ہیں۔

اس موقع پر ایک شعر یاد آ گیا جو حالات زمانہ سے مماثلت رکھتا ہے۔

آپ مظلوم کے اشکوں سے نہ کھلواڑ کریں

یہ وہ دریا ہیں جو شہروں کو نگل سکتے ہیں

ریاض ساغر کا ایک سچا شعر۔

اسی کو سونپ دی ہم نے حفاظت اپنے خیموں کی

وہ آدم خور جو لاشوں کا بیوپاری رہا برسوں

ہمارے ملک کے انقلابی شاعر حبیب جالب نے اپنے زمانے کا ہی نوحہ بیان نہیں کیا بلکہ مستقبل کے حالات بھی بیان کر دیے ہیں۔ انھیں اندازہ تھا کہ یہ ملک اسی طرح چلے گا۔

مرے ہاتھ میں قلم ہے مرے ذہن میں اجالا

مجھے کیا دبا سکے گا کوئی ظلمتوں کا پالا

مجھے فکر امن عالم تجھے اپنی ذات کا غم

میں طلوع ہو رہا ہوں تو غروب ہونے والا

اللہ ظالم کی رسی دراز کرتا ہے اس پر زوال آنے تک۔