عالمی ضمیر زندہ ہے یا مر چکا ہے؟

آمنہ جے محمد اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ہیں۔ ویسے تو اُن کا نسلی تعلق نائیجیریا سے ہے ، لیکن وہ پیدائشی طور پربرطانوی شہری ہیں ۔


[email protected]

آمنہ جے محمد اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ہیں۔ ویسے تو اُن کا نسلی تعلق نائیجیریا سے ہے ، لیکن وہ پیدائشی طور پربرطانوی شہری ہیں ۔ فلسطین و غزہ اور لبنان و ایران پر اسرائیلی و امریکی حملے و مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ دُنیا کے ہر حساس فرد کی مانند محترمہ آمنہ جے محمد بھی پریشان ہیں۔ اُنہوں نے 27اپریل 2026ء کو نیویارک میں انسانی ہمدردی سے متعلق بحرانوں کی ایک عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہُوئے کہا: ’’ جب غزہ میں اسپتالوں کو میدانِ جنگ بنا دیا جائے اور امدادی کارکن دانستہ گولیوں کا ہدف بن جائیں تو یہ اِس بات کی علامت ہے کہ دُنیا میں وحشت کا راج ہے ۔

ہم ایک ایسے دَور میں جی رہے ہیں جہاں معصوم جانوں کے ضیاع پر عالمی ضمیر نہیں جاگ رہا ۔‘‘ آمنہ جے محمد پر مایوسی اور ڈپریشن طاری ہے اور یہ بے جا بھی نہیں ۔ہم یہاں دیکھیں گے کہ آیا سنگین اور مایوس کن حالات میں عالمی ضمیر مردہ ہو چکا ہے یا ابھی زندہ ہے؟امریکی اور مغربی حکمرانوں کی کوشش ہے کہ فلسطینیوں پر ڈھائے گئے اسرائیلی مظالم کی عالمی بازگشت تھم جائے ۔ مظلوم و مقہور اہلِ غزہ کی آواز بننے والے گروہ، افراد اور تنظیمیں مگر اپنے ضمیر پر لبیک کہتے سنائی دے رہے ہیں۔

اگرچہ اِس راہ میں بڑی دشواریاں بھی ہیں۔امریکی و مغربی معروف اربوں پتی فلمساز ادارے بھی اِس کوشش میں ہیں کہ کہیں کوئی ایسی فلم نہ بن جائے جو’’ غزہ‘‘ میں حالیہ اسرائیلی خونریزی و نسل کشی کی عکاسی کرتی ہو ۔ برلن ( جرمنی) میں منعقد ہونے والے تازہ ترین عالمی فلمی میلے(Berlin International Film Festival) میں ایسی مغربی و امریکی کوششیں واضح ہو کر سامنے آئی ہیں ۔ رواں برس بھی یہ میلہ منعقد ہُوا ہے ۔ وینس( اٹلی)اور کینز ( فرانس) میں منعقد ہونے والے فلمی میلوںکے بعد برلن کے فلمی میلے کو دُنیا بھر میں اہم ترین ’’آرٹ ایونٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ لاکھوں تماشائی یہ فلمی میلہ دیکھنے آتے ہیں۔ بہترین فلم کو Golden Bearاور Silver Bearکے انعامات دیئے جاتے ہیں۔

پاکستان نے بھی رواںسال کے’’برلن عالمی فلمی میلے‘‘ میں اپنی موجودگی (ایک ادارے کے تحت) درج کرائی ہے۔یہ ادارہ دراصل ایک ایسے تعلیمی منصوبے پر مبنی ہے جو بچوں کو بدسلوکی کی پہچان کرنے، اپنی حدود متعین کرنے اور آواز اٹھانے کا شعور دیتا ہے۔ اس سیریز کو اسلام آباد میں موجود ایک مغربی سفارتخانے کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے ۔اِس منصوبے کے تحت تیار کی گئی بچوں کے متنوع استحصال جیسے حساس موضوع پر مبنی ایک مقامی اینی میٹڈ سیریز فلم کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملی ہے۔ پاکستان کے نامور آرٹسٹؤؤ ،سرمد کھوسٹ، نے بھی اِس سال اپنی فلم ’’لالی‘‘ برلن کے عالمی فلمی میلے میں پیش کرکے تاریخ رقم کی ہے۔ 120 سے زائد ممالک سے موصول ہونے والی 3,438 درخواستوں میں سے 200 فلم سازوں کاانتخاب کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ سرمد کھوسٹ کی فلم بھی اِسی انتخاب کا ایک حصہ بنی ہے۔ایرانی فلم ساز، مہناز محمدی،نے بھی اپنی فلم ’’رویا‘‘ پیش کی ہے، جو اُن کی حراست کے تجربات پر مبنی ہے اور سیاسی صدمات کو موضوع بناتی ہے۔ برلن فلمی میلے میں جہاں قید، ہجرت اور نسلی صدمات جیسے موضوعات زیر بحث آئے، وہیںپاکستان نےAnimationآرٹ کے ذریعے دُنیا کو خاموش مگر نہایت اہم پیغام دیا ہے ۔

مذکورہ فلمی میلے میں دُنیا کے مشہور ترین اداکاروں، فلمسازوں، ہدائت کاروں، کہانی کاروں اور فلمی کارکنوں نے ، اپنے اپنے انداز میں،اہلِ غزہ کے خلاف اسرائیلی اقدامات کی مذمت بھی کی ہے ۔

حیرت ہے کہ اِس عالمی فلمی میلے میں کوئی بھی ایسی فلم پیش کرنے اور دکھانے کی اجازت نہیں دی گئی جس میں فلسطین(غزہ) میں اسرائیل کے ڈھائے جانے والے مظالم اور صہیونی نسل کشی کی خونریزوارداتوں کو موضوع بنایا گیا ہو۔میلے کے منتظم ِ اعلیٰ (Wim Wenders) نے فلسطینی موضوع پر فلمسازوں کو یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ’’ ہمیں سیاست سے ماورا رہنا چاہیے ‘‘ ۔ اِس بیان کی سخت مذمت کی گئی ہے اور برلن فلمی عالمی میلے کو ’’صہیونیوں کے ہاتھوں میں کھیلنے‘‘ کے مترادف قرار دیا گیا ہے ۔ غصے ، ناراضی اور طیش میں آ کر عالمی شہرت یافتہ فلم ڈائریکٹرز (Javier BardemاورTilda Swinton) نے اپنے81فلم ورکرز کے ساتھ مل کر میلے کے منتظمین کو ایک مذمتی اور غصہ بھرا خط اِن الفاظ میں لکھا: ’’ برلن کے عالمی فلمی میلے میں اسرائیل کی بدمعاشیاں نہ دکھانے کے باوجود صہیونی مظالم پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔‘‘

سات درجن کے قریب افراد کا تحریر کردہ یہ خط دراصل اِس امر کا عکاس ہے کہ ابھی عالمی ضمیر مردہ نہیں ہُوا ۔ خط میں یہ کہہ کر جرمنی کی بھی گوشمالی کی گئی ہے کہ ’’یہ جرمنی ہے جس کے تباہ کن ہتھیار بھی غزہ کے نہتے اور معصوم لوگوں کے چیتھڑے اُڑانے کے لیے استعمال ہُوئے ہیں ۔‘‘غزہ کے حوالے سے زندہ ضمیر رکھنے والے مذکورہ عالمی فنکاروں کے ساتھ ساتھ ’’غزہ‘‘ ہی کے مظلومین سے یکجہتی اور ظالم اسرائیل کے خلاف اظہارکرنے والوں میں ایک معروف نام کوثر بن ہانیہ کا بھی ہے ۔

کوثر صاحب تیونس کے معروف فلم ڈائریکٹر ہیں۔ فلسطین کی حمائت میں اُن کی فلمائی گئی آرٹ مووی The Voice of Hind Rajab(صوت الہند رجب) فلمی نقادوں کی جانب سے لاجواب قرار دی گئی ہے ۔ اِس فلم کی اہمیت ملاحظہ کیجئے کہ اگرچہ اُن کی یہ فلم میلے میں دکھانے کی اجازت نہیں دی گئی ، مگر اِس کے باوجود کوثر بن ہانیہ کو برلن فلم فیسٹول کے منتظمین کی جانب سے ’’امن کے نام ‘‘ پر بھاری مالی انعام دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ لیکن کوثر بن ہانیہ نے یہ کہہ کر انعام لینے سے انکار کر دیا :’’ جب غزہ میں اسرائیل امن قائم کرنے ہی سے دانستہ انکار کررہا ہے تو پھر مجھے امن کا انعام دینا بھی بے معنی ہے ۔‘‘ واضح رہے یہ فلم (صوت الہند رجب)غزہ میں جنوری2024ء کے دوران صہیونی اسرائیل کی ہلاکت خیز بمباری میں اپنے والدین کے ساتھ شہید ہونے والی ایک معصوم فلسطینی بچی (ہند رجب) کی زندگی کے آخری اشکبار لمحات پر فلمائی گئی ہے ۔اور یہ خبر تو صہیونی اسرائیل کے جنگی اعصاب پر بم بن کر گری ہے کہ دُنیا بھر کے 1300 معروف اداکاروں نے تحریری اعلان کیا ہے کہ ’’ہم آیندہ کسی بھی اُس کمپنی ، سرمایہ کار اور فلمساز کے ساتھ کام نہیں کریں گے جس کے بارے میں ہمیں معلوم ہُوا کہ اُس کا تعلق اسرائیل یا صہیونیت سے ہے یا اُس نے کسی بھی شکل میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کی حمائت کی ہو یا اُس نے کبھی اسرائیلی حکومت کی کسی بھی صورت میں اعانت کی ہو ۔‘‘ یہ تہلکہ خیز خبر خود اسرائیل کے معروف اخبار ’’ہارٹز‘‘ نے نمایاں طور پر شائع کی ہے۔ خبر کی اشاعت اور مذکورہ اداکاروں کی جانب سے اسرائیل کے مقاطع پراسرائیل کے وزیر ثقافت نے اِسے ’’بیہودگی ، بدتمیزی اور سنکی‘‘ قرار دیا ہے۔ اِس بیان کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کی دکھتی رَگ پر ہاتھ رکھا گیا ہے ۔ اِسی لیے اسرائیل کو تکلیف پہنچ رہی ہے ۔

برلن فلم میلے میں بوجوہ شریک نہ ہونے اور اسرائیل کی خونریزیوں کے خلاف ایک توانا اور معروف آواز ارُن دھتی رائے کی بھی سامنے آئی ہے۔ بھارتی شہری اور دردِ دل رکھنے والی ارُن دھتی رائے ( جو معروفِ عالم انعام یافتہ ناول نگار ، ادبی و سیاسی نقاد، ایکٹوسٹ ہیں)نے ہمیشہ فلسطین کے مظلومین کا ساتھ دیا ہے ۔ جرمنی نے اُنہیں بھی مذکورہ فلم میلے میں شریک ہونے کی دعوت دی تھی ۔ مگر جب فلم میلے کے منتظمِ اعلیٰ نے اسرائیل کی مذمت کرنے سے انکار کیا تو ارُن دھتی رائے نے میلے میں شریک ہونے سے صاف انکار کر دیا ۔

جرأت سے کہا:’’غزہ میں جو کچھ ہُوا ہے اور اِس وقت بھی جو خون کی ندی بہہ رہی ہے، یہ سب کیا دھرا سفاک اور قابض اسرائیل کا ہے ۔ اسرائیل کے ساتھ امریکہ ، جرمنی اور کئی مغربی ممالک بھی ، فلسطینیوں کے خلاف ، جرم اور خونریزی میں برابر کے شریک ِ جرم ہیں ۔ غزہ میں نہتے فلسطینیوں کی نسل کشی ہُوئی ہے اور اِس کا ذمے دار اسرائیل ہے۔‘‘ یہ درست ہے کہ امریکہ سمیت مغربی دُنیا میں اسرائیل کا بے حد اثرورسوخ ہے ، مگر ارُن دھتی رائے ایسے جری اور حریت پسند لوگوں نے جرأتِ انکار کرکے ثابت کر دیا ہے کہ ابھی دُنیا میں لاتعداد انسانوں کا ضمیر مردہ نہیں ہُوا ۔