سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے ریڈ لائن بی آر ٹی لاٹ 2 سے متعلق کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ پوری دنیا میں انہیں کہیں نہیں ہوتا کہ پوری سڑک ہی کھود دی جائے، پہلے متبادل روڈ بنانا ضروری ہے تاکہ شہریوں کو مسائل نہ ہوں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے بی آر ٹی لاٹ ٹو کے کنٹریکٹر کا دفتر سیل کرنے کیخلاف درخواست پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے جواب کی کاپی وکیل درخواستگزار کو دینے کی ہدایت کردی۔
جسٹس محمد سلیم جیسر کی سربراہی میں دو رکنی آئینی بینچ کے روبرو بی آر ٹی لاٹ ٹو کے کنٹریکٹر کا دفتر سیل کرنے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی جانب سے جواب عدالت میں جمع کرادیا گیا۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ انسپیکشن کی رپورٹ مجھے نہیں ملی ہے سافٹ کاپی ملی ہے۔
جواب میں کہا گیا ہے کہ کمشنر کراچی کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے سیل کیا ہے۔ ڈائریکٹر سفاری پارک نے 20 اپریل کو خط لکھا تھا۔
جسٹس نثار احمد بھمبھرو نے ریمارکس دیئے کہ کنٹریکٹر کا دفتر راشد منہاس روڈ پر ہے یونیورسٹی روڈ پر تو نہیں ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ڈپٹی کمشنر نے مختیار کار کو لکھا کہ کے ایم سی کی پراپرٹی سیل کی جائے۔ مختیار کار ایسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ایس ایچ او، اینٹی انکروچمنٹ فورس اور کے ایم سی کے ہمراہ تمام دفاتر کنٹینر سیل کردیئے گئے۔ مختیار کار، پولیس اور اینٹی انکروچمنٹ فورس نے کس قانون کے تحت کارروائی کی ہے؟ قانون بتایا جائے؟ مختیار کار نے کس قانون کے تحت پراپرٹی سیل کی ہے وہ بتایا جائے؟ کے ایم سی کہتی ہے یہ زمین ہماری ہے، یہ زمین کے ایم سی نے ہمیں منصوبے پر کام کرنے کے لیے دی تھی۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ کے ایم سی کے پاس بھی ایسا کوئی اختیار نہیں ہے کہ کسی پراپرٹی کو ٹیک اور کرلے۔ 20 اپریل کو کے ایم سی نے لیٹر لکھا ڈی سی نے 21 کو تمام لوگوں نے جاکر پراپرٹی سیل کردی۔ کنٹریکٹر کا ٹرانس کراچی کے ساتھ تنازع چل رہا تھا۔ اگر کوئی معاہدے پر اختلاف تھا کہ ڈسپیویٹ ریزولیوشن بورڈ کے پاس جاتے۔ کنٹریکٹ میں تنازع کے حل کے پلیٹ فورمز موجود تھے، حکومت نے ان سے کیوں رجوع نہیں کیا۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ ہم سے اب کیا چاہتے ہیں۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ پراپرٹی ڈی سیل کی جائے، حکومت کی مداخلت ختم کی جائے، ہمارے خلاف کوئی کارروائی نا کی جائے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ حکومت نے مشنری کی واپسی کے لیے ڈیڈ لائن مقرر کی تھی وہ کل ختم ہورہی ہے آپ نے سامان اٹھایا۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ کل بھی وزیر اعلیٰ سندھ نے سائٹ کا وزٹ کیا ہے، تصاویر شائع ہوئی ہیں، وہاں اور بھی کنٹریکٹر موجود تھے۔ جس طرح غیر ملکی کنٹریکٹر کے ساتھ حکومت کررہی ہے، اس سے ملک کو نقصان ہوگا۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ 21 جولائی 2022 کے کنٹریکٹ کی مدت 2025 میں ختم ہو چکی ہے۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے استفسار کیا کہ پراپرٹی پہلے سیل کی ہے نوٹس بعد میں دیا گیا ہے۔
وکیل ٹرانس کراچی نے موقف اپنایا کہ کنٹریکٹ کے ساتھ انہوں نے کے ایم سی سے جگہ لی تھی اپنا سامان رکھنے کے لیے۔ دفتر سیل کرنے کا کنٹریکٹ سے متعلق کوئی تعلق نہیں ہے۔ کنٹریکٹ سے متعلق معاملہ عدالت میں نہیں لایا جاسکتا ہے۔
کے ایم سی نے الہ دین پارک کی جگہ سامان رکھنے کے لیے دی تھی، جب چاہیے واپس لے سکتی ہے۔ کنٹریکٹ سے متعلق کنٹریکٹر کی درخواست قابل سماعت ہی نہیں ہے۔ دفتر سیل کرنا اور پروجیکٹ سے متعلق معاملات الگ الگ ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے موقف دیا کہ کے ایم سی نے کنٹریکٹر کو جگہ 3 سال کے لیے دی تھی، جو مدت 2025 میں ختم ہوچکی ہے۔ مدت ختم ہونے کے بعد کے ایم سی نے جگہ دینے کی مدت میں کوئی توسیع نہیں کی تھی۔ کے ایم سی کی جانب سے کنٹریکٹر کو متعدد بار خطوط لکھے گئے تھے جگہ کی واپس لے لیے مگر کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔ کے ایم سی کو فریق ہی نہیں بنایا گیا ہے۔
درخواستگزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ کے ایم سی جگہ ہے پیسے لیتے رہے ہیں ہر سال 10 فیصد اضافے کے ساتھ دی گئی ہے۔ دسمبر 2025 تک کے ایم سی کو جگہ کی مد میں پیسے دیئے گئے ہیں۔ ایکشن مختیار کار کی جانب سے لیا گیا ہے جو کہ سندھ حکومت کا ملازم ہے۔ کیمپ آفس کا مقصد یہ تھا کہ لیبر کی رہائش، سامان رکھنے دیا گیا تھا۔ ٹرانس کراچی نے 21 اپریل کو کنٹریکٹ ٹرمینشن کا نوٹس دیا تھا۔ جس دن ٹرانس کراچی نے نوٹس دیا اسی دن کے ایم سی نے کارروائی کردی۔ آج جو جواب ملا ہے اس میں پتہ چلا ہے کہ پراپرٹی کے ایم سی کے آرڈر پر سیل کی گئی ہے۔
وکیل ٹرانس کراچی نے موقف اپنایا کہ کنٹریکٹر کو پتہ ہوگا کہ سیل کی جانے والی پراپرٹی کس کی ہے۔ جسٹس محمد سلیم جیسر نے ریمارکس دیئے کہ سیلنگ کے بعد انکا دماغ ویسے ہی چکرا گیا ہوگا۔ کنٹریکٹر قابض نہیں تھا وہ تو کرایہ ادا کررہا تھا۔
وکیل ٹرانس کراچی نے موقف دیا کہ کے ایم سی کو پارٹی ہی نہیں بنایا گیا ہے۔ جسٹس محمد سلیم جیسر نے ریمارکس میں کہا کہ ہوسکتا ہے انسانی غلطی کی وجہ سے فریق نا بنایا گیا ہو۔
جسٹس نثار احمد بھمبھرو نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیل کرنے کا معاملہ ابھی حل کردیتے ہیں۔ ڈی سیل کرکے آپ قبضہ کیسے لیں گے؟ کے ایم سی کو ہم کیسے ہدایات جاری کریں وہ تو فریق ہی نہیں ہے؟
درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ جلد بازی یک طرفہ نہیں ہے۔ جسٹس نثار احمد بھمبھرو نے ریمارکس میں کہا کہ پوری دنیا میں ایسا نہیں ہوتا ہے، پورا روڈ کھود کر رکھا دیا جائے۔
جسٹس محمد سلیم جیسر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے متبادل روڈ بنایا جاتا ہے تاکہ شہریوں کو مسائل نا ہوں۔ غیر ملکی کمپنیوں کا اپنے ملک میں معیار کچھ اور ہوتا ہے، یہاں کچھ اور ہوتا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ کمپنی کے مطابق اگر یہ پروجیکٹ چین میں ہوتا تو 9 ماہ میں مکمل ہو جاتا۔ کنٹریکٹر کے مطابق اسلام آباد یا لاہور میں یہ پروجیکٹ ہوتا تو 2 سال میں ملک ہو جاتا۔ کنٹریکٹر کے دنیا بھر میں 9 سو سے زائد پروجیکٹ چل رہے ہیں۔ یہاں مسئلہ کا قابلیت کا نہیں ہے، مسئلہ حکومت کا ہے۔ میں بینکاک گیا وہاں تمام کمرشل کام سندھی کررہے ہیں بہترین چل رہا ہے۔ حکومت کی نااہلی یا کسی اور وجہ سے پروجیکٹ تاخیر کا شکار ہے۔ ایف ڈبلیو او پورے ملک میں پروجیکٹ بناتی ہے مگر کراچی حیدر آباد کی موٹر وے کا حال دیکھ لیں۔
جسٹس نثار احمد بھمبھرو نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے پاس دوسرا راستہ نہیں ہے اسی لیے۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے موقف دیا کہ وکیل درخواستگزار سندھ حکومت پر بڑا الزام لگا رہے ہیں۔ 6 سال کا ایشو نہیں ہے کنٹریکٹ 2022 میں جاری کیا گیا ہے۔ منصوبے کی لاگت 16 ارب تھی جو اب 31 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
جسٹس نثار احمد بھمبھرو نے ریمارکس میں کہا کہ کنٹریکٹر تو چاہتا ہے کہ 2031 تک یہی رہے۔ جسٹس محمد سلیم جیسر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی طرف سے بہت سے کام ایسے ہیں جو نہیں کیئے گیے ہیں۔ عدالت نے جواب کی کاپی وکیل درخواستگزار کو دینے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 5 مئی تک ملتوی کردی۔