چیئرمین حیدرآباد بورڈ نے اچانک استعفیٰ دے دیا

پروفیسر شجاع الدین کے استعفی کی بظاہر وجہ انتظامی ذمے داریوں کے سبب ان کے تحقیقی امور میں پیدا ہونے والی پریشانی ہے


صفدر رضوی May 04, 2026

شفاف نتائج کے اجراء کے باوجود 4 ماہ تک معطل رہنے والے چیئرمین حیدرآباد تعلیمی بورڈ پروفیسر شجاع احمد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں اور انھوں نے اپنا استعفی سیکریٹری یونیورسٹی اینڈ بورڈ عباس بلوچ کو بھیج دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پروفیسر شجاع الدین کا فی الحال ان کا استعفی منظور نہیں ہوا ہے تاہم انھوں نے اپنے استعفی کی بظاہر وجہ انتظامی ذمے داریوں کے سبب ان کے تحقیقی امور میں پیدا ہونے والی دقتوں کو قرار دیا ہے ۔

لیکن ذرائع بتاتے ہیں کہ وزارت و محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز سے بورڈ میں مداخلت کے سبب ان کے اختلافات بڑھ گئے تھے گزشتہ برس ان کی چیئرمین شپ میں ہی انٹر سال دوئم اور دسویں جماعت کا نتیجہ جاری کیا گیا تھا جسے بورڈ کی تاریخ کا شفاف ترین نتیجہ قرار دیا جارہا تھا۔

ازاں بعد بورڈ کے کچھ افسران کی جانب سے نویں اور گیارہوں جماعتوں کے نتائج میں جب تاخیر شروع کی گئی تو ان کی جانب سے ایک اسسٹنٹ کنٹرولر کو ٹرانسفر کردیا گیا تھا تاہم ذرائع بتاتے ہیں کہ محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈ اس ٹرانسفر کو رکوانے کے لیے درمیان میں آگیا ناصرف یہ کہ متعلقہ اسسٹنٹ کنٹرولر کا تبادلہ روکا گیا بلکہ نتائج میں تاخیر کا زمے دار چیئرمین بورڈ کو ٹہراتے ہوئے ان تقریبا 4 ماہ تک معطل رکھا گیا اور اس اثناء میں نویں جماعت کے نتائج جاری کیے گئے۔

قابل ذکر امر یہ یے کہ مستعفی ہونے والے چیئرمین پروفیسر شجاع احمد نے بھی اپنے استعفے میں صرف دسویں اور بارہویں کے نتائج کو شفاف قرار دیا ہے جبکہ نویں اور گیارہوں کے نتائج جو ان کی معطلی کے دوران جاری ہوئے اس پر خاموشی اختیار کی ہے ۔

حال ہی میں جب وزیر یونیورسٹیز اینڈ بورڈ نے حیدرآباد کے امتحانی مراکز کا دورہ کیا تو بجائے چیئرمین کے بورڈ کے اسسٹنٹ کنٹرولر ان کے ہمراہ تھے جو ایک معنی خیز عمل تھا ۔

ادھر استعفی دینے والے چیئرمین حیدر آباد بورڈ نے اپنے استعفی میں کہا ہے کہ وہ وزیرِ اعلیٰ کے شکر گزار ہیں انھوں نے تلاش کمیٹی search  committee کی سفارش پر بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن حیدرآباد  کے چیئرمین کے طور پر ان کا انتخاب کیا اس سے قبل میں وہ جامعہ سندھ کے پاکستان اسٹڈی سینٹر میں پروفیسر اور ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں انھیں اکیس سالہ تدریسی و تحقیقی اور دس سالہ انتظامی تجربہ حاصل ہے انھوں نے اپنا پی ایچ ڈی رائل ہولوے یونیورسٹی آف لندن برطانیہ سے مکمل کیا وہ 8 پی ایچ ڈی اور25 سے زائد ایم فل اسکالرز تیار کر چکے ہیں۔