ویڈ لاک پالیسی رہنما اصول، قانونی استحقاق نہیں، آئینی عدالت

پالیسی جواز بنا کر بیوروکریٹک ڈھانچہ متاثر یا سروسز رولز کا دائرہ کار طے نہیں کیا جاسکتا


حسنات ملک May 05, 2026

اسلام آباد:

وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے ویڈلاک پالیسی سے متعلق حالیہ فیصلے پر سوالات اٹھا دیے، سرکاری شادی شدہ جوڑوں سے متعلق اس فیصلے پر سپریم کورٹ نے تمام سرکاری اداروں کو سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی تھی۔

آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق نے 12 صفحاتی فیصلے میںکہا کہ ویڈلاک پالیسی کو غیر معینہ پوسٹگ کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا، نہ اس پالیسی سے قانونی استحقاق ملتا ہے، یہ پالیسی ایک رہنما اصول ضرور ہے مگر اس کی بنیاد پر فیصلے نہیں دیے جا سکتے، نہ اسے جواز بنا کر بیوروکریٹک ڈھانچہ متاثر  یا سروسز قوانین کا دائرہ کار طے کیا جاسکتا ہے۔

آئینی عدالت کے مطابق سپریم کورٹ نے فیصلے میں شریک زندگی کی تعینات کے مقام پر پوسٹنگ کو سول سرونٹ کا مکمل حق تسلیم کیا ہے، اور حیرت کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ نے اس معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلوں کا جائزہ نہیں لیا۔

آئینی عدالت کے مطابق اگرچہ سپریم کورٹ ہائیکورٹ کے فیصلوں کے پابند نہیں، مگر وہ فیصلے  قابل تقلید ہو سکتے ہیں کہ ان میں سروسز قوانین واضح تشریح  ان الفاظ میں کی گئی ہے کہ  یہ سول سرونٹ کا استحقاق نہیں کہ اسے ڈیپوٹیشن پر غیر معینہ مدت کیلئے شریک حیات کی تعیناتی کے مقام پر پوسٹنگ دی جائے۔ 

وفاقی آئینی عدالت نے نشاندہی کی  اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی پابندی چونکہ تمام ماتحت عدالتوں اور حکام پر لازم ہے، اسلئے آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کو  انتہائی باریک بینی کیساتھ فیصلے کرنے چاہئیں، قانونی نکات کی تشریح میں غلطی ہو سکتی، جس کی بروقت اصلاح ہونی چاہیے۔

یاد رہے  سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں فیڈرل سروسز ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے مبشر اقبال ظفر کی ویڈ لاک پالیسی کے تحت ان کی سکول ٹیچر اہلیہ کی ملازمت کے مقام خانیوال سے ٹرانسفر  منسوخ کر دی تھی۔