آئی ایم ایف معاہدہ، سوورین ویلتھ فنڈز کے اختیارات محدود کرنے کا فیصلہ

ریاستی اداروں کی فروخت صرف شفاف ،مسابقتی طریقہ کار کے تحت ممکن ہوگی


شہباز رانا May 05, 2026
فوٹو: فائل

اسلام آباد:

پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو یقین دہانی کرائی ہے کہ سوورین ویلتھ فنڈ (SWF) سے ریاستی اداروں کی براہِ راست فروخت، قرض لینے اور آمدنی اپنے پاس رکھنے کے اختیارات واپس لے لیے جائیں گے، حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ جب تک پارلیمنٹ ان ترامیم کی منظوری نہیں دیتی ہے، ان فنڈز کو فعال نہیں کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ پارلیمنٹ میں مقررہ وقت تک ترامیم پیش کرنے میں ایک بار پھر ناکام رہی، جس پر آئی ایم ایف نے سخت شرط عائد کی ہے کہ قانون میں بڑی تبدیلیوں کے بغیر فنڈ کو فعال نہیں کیا جا سکتا۔ 

نئی مجوزہ ترامیم کے تحت فنڈ کو ایک ہولڈنگ کمپنی تک محدود کر دیا جائیگا، جو صرف سرکاری اداروں کا انتظام سنبھالے گی اور ان کی کارکردگی بہتر بنانے پرتوجہ دے گی۔

معاہدے کے مطابق سوورین ویلتھ فنڈکسی بھی ریاستی اثاثے کو براہِ راست فروخت نہیں کرسکے گا، بلکہ نجکاری کاعمل بین الاقوامی معیارکے مطابق شفاف اور مسابقتی طریقے سے ہوگا۔

مزید برآں، فنڈ اپنی آمدنی حکومت کو منتقل کرے گا اور اسے قرض لینے یاکسی قسم کی مالی ضمانت دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔

حکومت نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ فنڈکے بورڈ اور مشاورتی کمیٹی کی تقرریاں میرٹ اور شفاف طریقہ کارکے تحت کی جائیں گی، تاکہ اس کی خودمختاری برقراررہے۔

دوسری جانب نجکاری کے شعبے میں سست روی برقرار ہے،جہاں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے )کی نجکاری کے علاوہ خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی،جبکہ بعض بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں میں نجی شعبے کی شمولیت بھی تاخیرکاشکار ہے۔