جامعہ کراچی کے اساتذہ نے لیووانکیشمنٹ جاری نہ ہونے، ایوننگ پروگرام کا معاوضہ نہ ملنے اور ہاؤس سیلنگ میں عدم اضافے کے خلاف امتحانی عمل کا بائیکاٹ کردیا جس سے جامعہ میں شروع سیمسٹر امتحانات متاثر ہوگئے۔
امتحانی عمل کے بائیکاٹ کا اعلان انجمن اساتذہ جامعہ کراچی نے اپنے گزشتہ اجلاس عمومی (جنرل باڈی) میں کیا تھا تاہم منگل کو جب سیمسٹر امتحانات کا آغاز ہوا تو پہلے پرچے کے موقع پر یونیورسٹی اساتذہ تقسیم نظر آئے، سائنس کے کچھ جبکہ آرٹس فیکلٹی کے اکثر شعبوں میں امتحانات لیے گئے تاہم فارمیسی میں اساتذہ نے بائیکاٹ کیا۔
بائیکاٹ کے سبب ہزاروں طلبہ شدید گرمی اور حبس میں پرچہ دیے بغیر گھروں کو لوٹ گئے۔
واضح رہے کہ شیڈول کے مطابق یہ امتحانات مئی کے پورے ماہ جاری رہیں گے تاہم امتحانی عمل کے بائیکاٹ کے سبب طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ اکثر اساتذہ جون میں تعطیلات پر چلے جائیں گے۔
اس حوالے سے انجمن اساتذہ نے اس سلسلے میں اپنا اعلامیہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ’’امتحانی عمل کے بائیکاٹ کا فیصلہ جذباتی نہیں منطقی ہے، ہاؤس سیلنگ اور اس کے ایریئرز، ایوننگ مشاہرے، سپروائزر فیس، کاپی چیکنگ، پیپر سیٹنگ، امتحانی نگرانی اور لیو انکیشمنٹ جیسے واجبات کی مسلسل عدم ادائیگی نے اساتذہ کو شدید مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے‘‘۔
واضح رہے کہ ڈیڑھ ارب روپے خسارے کے باوجود اساتذہ لیووانکیشمنٹ اور ہاؤس سیلنگ میں اضافے کا تقاضا کررہے ہیں جبکہ نیب تمام جامعات کو ہاؤس سیلنگ دینے سے پہلے ہی روک چکا ہے اور اس پر آبزرویشن بھی دی ہے۔
فیڈرل ایچ ای سی ہاؤس سیلنگ کی ادائیگی سے جامعات کو روک رہی ہے جبکہ جامعہ کراچی کے اساتذہ اس میں اضافے کا تقاضا کررہے ہیں۔
انجمن اساتذہ نے خود اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ جامعہ کراچی اس وقت تقریباً 1.6 بلین روپے کے مالی خسارے کا سامنا کر رہی ہے اس خسارے کی وجوہات کا شفاف تعین کیا جائے۔
انجمن اساتذہ نے بارہا انتظامیہ کو مذاکرات، تحریری مراسلوں اور مشاورتی فورمز کے ذریعے ان مسائل کے حل کی جانب متوجہ کیا تاہم عملی پیش رفت نہ ہونے کے باعث یہ احتجاجی قدم ناگزیر ہو گیا۔
امتحانی عمل کا بائیکاٹ کرنے والی انجمن اساتذہ کا کہنا یے کہ طلبہ کے تعلیمی نقصان کی بنیادی ذمہ داری اساتذہ پر عائد نہیں ہوتی۔
ادھر اپنے مطالبات میں انجمن اساتذہ نے کہا ہے کہ ہاؤس سیلنگ اور اس کے 6 ماہ کے ایریئرز کا فوری نفاذ و ادائیگی کی جائے، ایوننگ پروگرام کے 2 سال کے تمام بقایاجات کی ادائیگی کی جائے، گزشتہ سات آٹھ برس سے ایم فل/پی ایچ ڈی سپروائزر فیس، کاپی چیکنگ، پیپر سیٹنگ اور امتحانی نگرانی کے واجبات کی فوری ادا کیے جائیں، لیو انکیشمنٹ سمیت دیگر تمام بقایاجات کی کلیئرنس کی جائے۔