جامعہ کراچی کے اساتذہ نے واجبات کی عدم ادائیگی پر امتحانات کا بائیکاٹ کردیا

بائیکاٹ کے سبب ہزاروں طلبہ شدید گرمی اور حبس میں پرچہ دیے بغیر لوٹ گئے


صفدر رضوی May 05, 2026

کراچی: جامعہ کراچی کے اساتذہ نے لیو انکیشمنٹ، ایوننگ پروگرام کا مشاہرہ نہ ملنے اور ہائوس سیلنگ میں عدم اضافے کے خلاف امتحانی عمل کا بائیکاٹ کردیا۔

امتحانی عمل کا بائیکاٹ انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے فیصلے پر کیا گیا، منگل کو جامعہ کراچی میں مارننگ پروگرام سیمسٹر امتحانات کا پہلا پرچہ تھا۔ 

بائیکاٹ کے حوالے سے اساتذہ تقسیم نظر آئے، آرٹس فیکلٹی کے اکثر شعبوں میں امتحانات لیے گئے جبکہ سائنس اور فارمیسی میں اساتذہ نے بائیکاٹ کیا، بائیکاٹ کے سبب ہزاروں طلبہ شدید گرمی اور حبس میں پرچہ دیے بغیر لوٹ گئے۔

انجمن اساتذہ کے مطابق فیصلہ جذباتی نہیں منطقی ہے، ہاؤس سیلنگ اور اس کے ایریئرز، ایوننگ مشاہرے، سپروائزر فیس، کاپی چیکنگ، پیپر سیٹنگ، امتحانی نگرانی اور لیو انکیشمنٹ جیسے واجبات کی مسلسل عدم ادائیگی نے اساتذہ کو شدید مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق نیب تمام جامعات کو ہائوس سیلنگ دینے سے پہلے ہی روک چکا ہے اور اس پر آبزرویشن بھی دی ہے، ایچ ای سی نے بھی جامعات کو ہائوس سیلنگ کی ادائیگی سے منع کیا ہے مگر جامعہ کراچی کے اساتذہ اس میں اضافے کا تقاضہ کررہے ہیں۔ 

انجمن اساتذہ کا کہنا ہے کہ جامعہ کراچی کو اس وقت تقریباً 1.6 بلین روپے کے مالی خسارے کا سامنا ہے، اس خسارے کی وجوہات کا شفاف تعین کیا جائے، انتظامیہ کو بارہا مسائل کے حل کی جانب متوجہ کیا تاہم عملی پیش رفت نہ ہونے کے باعث یہ احتجاجی قدم ناگزیر ہوگیا تھا، طلبہ کے تعلیمی نقصان کی بنیادی ذمہ داری اساتذہ پر عائد نہیں ہوتی۔