عارضی عہدوں کی تاحیات مراعات

ہر حلقے کے سیاستدان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے ڈویژن کے کمشنر، ڈی آئی جی، آر پی او اور اپنے ضلع کے ڈپٹی کمشنر و ایس ایس پی سے تعلقات بنا کر رکھے


[email protected]

پاکستان میں صدر سے لے کر صوبائی وزرا اور مشیروں تک کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے دور اقتدار میں اعلیٰ سرکاری افسروں کے ساتھ  تعلقات بہتر بنائیں اور اپنے ان سرکاری تعلقات کو دوستی کا رنگ دے کر اتنا گہرا کر دیا جائے کہ وہ جب اپنے ان عارضی سرکاری عہدوں سے فارغ ہوں تو ان کے ان اعلیٰ افسران سے تعلقات برقرار رہیں۔ ان عارضی عہدوں کے سیاسی عہدیداروں کو پتا ہے کہ انھوں نے کچھ عرصہ بعد گھر چلے جانا ہے جب کہ اعلیٰ افسران نے ریٹائرمنٹ تک نہ صرف مختلف عہدوں پر برقرار رہنا ہے بلکہ ترقی بھی کرنی ہے۔

اعلیٰ افسران دوسرے محکموں اور صوبوں میں بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں لہذا ہر سیاستدان ان سے اپنے تعلقات اچھے رکھتا ہے۔ اسے اپنے ذاتی کاموں کے علاوہ اپنے دوستوں اور اہل خانہ کے کام بھی لینے ہوتے ہیں اور کبھی کبھی اسے اپنے حلقے کے مسائل بھی یاد آ جاتے ہیں اور وہ اپنے حلقے کے بڑوں اور عام ووٹروں کو بھی ممنون احسان رکھنے کے لیے ان اعلیٰ افسران سے رابطے میں رہتے ہیں۔ انھیں تحفے تحائف پیش کرتے اور اپنی ذاتی تقریبات میں بھی مدعو کرتے رہتے ہیں ۔

ہر حلقے کے سیاستدان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے ڈویژن کے کمشنر، ڈی آئی جی، آر پی او اور اپنے ضلع کے ڈپٹی کمشنر و ایس ایس پی سے تعلقات بنا کر رکھے۔ آج کل اعلیٰ افسران کی کھلی کچہری کا رواج کم ہے۔ کمشنر و ڈپٹی کمشنر عوامی شکایات سننے اور اپنے علاقہ معززین سے ملنے اپنے علاقوں میں کھلی کچہری لگاتے یا دورے کیا کرتے تھے تو اختتام پر انھیں علاقہ کے بڑے معزز یا سیاستدان اپنے گھر ظہرانہ پر ضرور مدعو کرتے تھے۔

راقم کو اپنے آبائی شہر شکارپور میں اعلیٰ افسران کی کھلی کچہری کے بعد ان افسران کے اعزاز میں دی جانے والی نجی دعوتوں میں شرکت کا موقعہ ملتا رہا۔ بعض دفعہ وزرا حضرات بھی ان سیاستدانوں کی دعوتوں میں ان کے بنگلوں پر جاتے تھے تو ان کے ساتھ اعلیٰ افسران بھی ظہرانوں میں شریک ہوتے تھے جس سے میزبان سیاستدان کی اپنے علاقے میں اہمیت بڑھتی تھی اور لوگ اپنے کاموں کے لیے ان کے پاس آتے تھے۔

واضح رہے کہ سیاستدان مستقل اور افسران عارضی ہی ہوتے ہیں۔ راقم کو اعلیٰ افسروں کی کھلی کچہریوں کے علاوہ جنرل ضیا الحق حکومت میں ڈی ایم ایل کی منعقدہ سرکاری کھلی کچہریوں میں بھی شرکت کا موقعہ ملا ،مگر یہ اعلیٰ فوجی افسران کسی سیاستدان کی دعوت میں شریک نہیں ہوتے تھے اور ان کی کھلی کچہریاں بھی موثر اور لوگوں کے لیے سودمند ثابت ہوتی تھیں جب کہ بیورو کریٹس کی کھلی کچہری لوگوں کے لیے کم سودمند اور آسروں والی ہوتی تھیں اور زیادہ فائدہ ان کی دعوتیں کرنے والوں کا ہوتا تھا اور ان سیاسی لوگوں کا اثرو رسوخ بڑھتا تھا جس سے ان کے ووٹر بھی متاثر ہوتے تھے۔ اپنے ووٹروں کے کاموں کے لیے ہر سیاستدان اپنے علاقے کے بڑے افسروں سے تعلقات بنا کر رکھتا ہے جس سے اس کے علاقے کے چھوٹے افسران بھی متاثر رہتے ہیں اور ان کے ناجائز کام بھی کر دیتے ہیں۔

 ملک میں ریٹائرڈ افسران کی پنشن اور مراعات اہم مسئلہ بنی ہوئی ہیں اور آئی ایم ایف کا قرضہ بھی عوام کی بجائے پنشن و مراعات میں خرچ ہو رہا ہے جس کی ادائیگی حکمرانوں نے نہیں عوام نے کرنی ہے اور حکمرانوں کا کام ملک کو مقروض اور اعلیٰ بیورو کریٹس کی خوشنودی رہ گیا ہے کیونکہ عہدے سے ہٹنے کے بعد انھوں نے اپنے کام اور مفادات بھی انھی کے ذریعے حاصل کرنے ہوتے ہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے دور میں گولڈن شیک ہینڈ کے ذریعے پنشن و مراعات کا سلسلہ کسی حد تک بند یا کم کیا تھا۔ اس وقت ملک پر پنشن و مراعات کا سب سے زیادہ بوجھ اعلیٰ عدلیہ اور بیورو کریٹس کو دی جانے والی پنشن و مراعات کا ہے جو انھیں باقاعدگی سے مل رہی ہیں۔ دیگر سرکاری محکموں کے برعکس محکمہ پولیس، ریونیو اور بلدیاتی محکموں کے ریٹائرڈ ملازمین مراعات تو دور صرف پنشن کے حصول کے لیے دھکے کھاتے پھر رہے ہیں کیونکہ ان غریبوں کو کسی سیاستدان کی مدد و سرپرستی حاصل نہیں اور حکمرانوں کو اعلیٰ افسران ہی کا خیال ہے۔