سوشل میڈیا کے بریڈمین

اکثر پلیئرز اور آفیشلز بھی منفی کمنٹس پر غصے میں آ جاتے ہیں


سلیم خالق May 07, 2026

’’ بھائی میں آپ کو کیا بتاؤں جب ٹویٹر اور فیس بک دیکھوں تو مجھے لگتا ہے کہ میں نے تو کرکٹ میں کچھ کیا ہی نہیں، میں دنیا کا سب سے خراب کھلاڑی ہوں، ایسے ایسے لوگ مجھے برابھلا کہہ رہے ہوتے ہیں کہ دیکھ کر خون کھول اٹھتا ہے، ایجنٹ کو اپنا پاس ورڈ دیں تو نسیم شاہ کے ساتھ جو ہوا ویسی کسی غلطی کا ڈر رہتا ہے، ایسے میں یہی سوچا ہے کہ اب سوشل میڈیا کا استعمال نہیں کرؤں گا، مجھ سے یہ سب کچھ برداشت نہیں ہوتا، اس کا اثر میری کارکردگی پر پڑ رہا ہے‘‘

مجھ سے یہ باتیں کچھ عرصے قبل ایک کرکٹر نے کی تھیں، یہ صرف ایک کیس نہیں اور بھی بڑی مثالیں موجود ہوں گی، کرکٹ سے جڑی کئی اہم شخصیات سے میری دوستی ہے، وہ بھی ایسی باتیں کرتے ہیں، سوشل میڈیا میں بڑی طاقت ہے، چیچہ وطنی میں بیٹھا کوئی شخص بھی ایک ٹویٹ سے آپ کا موڈ خراب کر سکتا ہے۔ 

اس زمانے میں آپ ایسی ایپس سیالگ بھی نہیں رہ سکتے لیکن خود پر قابو رکھنا ضروری ہے، میں بھی سوشل میڈیا سے دور رہتا تھا لیکن جب نجم سیٹھی چیئرمین بنے تو صحافیوں کے کام کا پیمانہ فالوورز سے کیا جانے لگا، میں نے یہ بات سمجھ لی اور اس حوالے سے بھی کام کیا ، البتہ اس کا اثر آپ پر پڑتا ضرور ہے۔ 

ایک ساتھی کو چند سال قبل ٹویٹر پر کسی نے کچھ کہا تو انھوں نے ایسی گالیاں لکھیں کہ کیا بتاؤں لیکن پھر میں نے انھیں سمجھایا کہ اس بندے کا مقصد ہی آپ کو غصہ دلانا تھا، اسے کوئی نہیں جانتا آپ سے لوگ واقف ہیں، یہ بات وہ سمجھ گئے اور ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی۔ 

اکثر پلیئرز اور آفیشلز بھی منفی کمنٹس پر غصے میں آ جاتے ہیں، میں کئی لوگوں کو جانتا ہوں جنھوں نے پی ایس ایل کے دوران اپنے موبائل فونز سے سوشل میڈیا ایپس ڈیلیٹ کر دیں، مسئلہ یہ ہے کہ آپ اگر ایسا کر بھی لیں تو کوئی دوست اسکرین شاٹس بھیج دیتا ہے کہ دیکھو تمہارے بارے میں یہ کیا کہہ رہا ہے۔ 

ایک بار کسی صحافی نے مجھ پر سوشل میڈیا پر ذاتی نوعیت کا حملہ کیا ہمیشہ کی طرح میں نے اگنور کیا ، جب کچھ دوستوں نے اسکرین شاٹس بھیجے تو میرا جواب تھا کہ یار آپ کو برا لگا توخود جواب دے دیں، میں تو ایسا نہیں کرتا، میں اللہ پر چھوڑ دیتا ہوں، میرا ایمان ہے جو غلط کرتا ہے اسے سزا ضرور ملتی ہے۔ 

میں نام نہیں لینا چاہتا لیکن بخوبی جانتا ہوں کہ کئی موجودہ کرکٹرز کے کیریئر بھی سوشل میڈیا کی وجہ سے خراب ہو رہے ہیں، منفی کمنٹس پڑھ کر وہ اپنی صلاحیتوں پر ہی اعتماد کھو بیٹھے ہیں، اس کا نہ صرف انھیں بلکہ پاکستان ٹیم کو بھی نقصان ہو رہا ہے۔ 

حال ہی میں انگلش کاؤنٹی ٹیم کینٹ نے اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا کمنٹس سیکشن ہی بند کر دیا ، کوچ نے کہا تھا کہ منفی تبصرے کھلاڑیوں کی ذہنی صحت پر اثر ڈال سکتے ہیں، ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ آپ کو پتا نہیں کہ جس نام سے تبصرہ ہوا وہ اصلی ہی یا نقلی، ٹویٹر (ایکس) پر جب سے ماہانہ رقم دے کر بلو ٹک لینے کی اجازت ملی، ایسے ایسے لوگ اس کے حامل ہو گئے جنھیں محلے میں بھی کوئی نہ جانتا ہو گا۔ 

پہلے بلو ٹک صرف معروف شخصیات کو ہی دیا جاتا تھا، اب بڑے بڑے ناموں کے جعلی اکاؤنٹس بھی بلو ٹک کے ساتھ ہیں، گہرائی میں جائیں تو پتا چلتا ہے کہ یہ تو اصلی نہیں ہے، پاکستان کرکٹ کو نقصان پہنچانے کیلیے انڈیا سے بھی جعلی ناموں سے منفی تبصروں کی بھرمار ہوتی ہے،ٹویٹر پر سب سے زیادہ زہریلا ماحول ہوتا ہے، کچھ پلیئرز کے ایجنٹس بھی اپنے اسٹارز کو آسمان پر پہنچانے اور حریفوں کو نیچا دکھانے کیلیے سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس کا سہارا لیتے ہیں۔ 

نیگیٹیویٹی اتنی بڑھ چکی کہ آپ پر اثر پڑنا لازمی ہے، ایک دن آئے گا جب سوشل میڈیا کی وجہ سے کرکٹرز ماہر نفسیات سے رابطہ کیا کریں گے یا کیا پتا یہ شروع ہو چکا ہو، ماضی میں سوشل میڈیا کا سہارا لے کر خود کو اسٹار کا درجہ دلانے کی کوشش کرنے والے بیچارے آج کس حال میں ہیں،لاکھوں فالوورز کے بجائے اگر وہ چند سو رنز بنانے یا وکٹیں لینے پر توجہ دیتے تو آج خود کو ریلیونٹ رکھنے کیلیے ٹی وی چینلز پر تبصروں کی ضرورت نہ پڑتی۔ 

یاد رکھیں ٹویٹر یا فیس بک آپ کو اسٹار نہیں بنا سکتا کام ہی ہے جس کی وجہ سے شہرت ملتی ہے، اگر اچھا کریں گے تو لوگ تعریف کریں گے لیکن خراب پرفارمنس پر ایک ملین فالوورز بھی دفاع نہیں کر پائیں گے، پی سی بی کو بھی اس حوالے سے کچھ کرنا چاہیے،کھلاڑیوں کی مینٹل ہیلتھ اہم ہے، شائقین بھی سوچیں کہ پلیئرز ہوں یا کوئی اور وہ آپ کے غلام نہیں ہیں، تنقید ضرور کریں لیکن شائستگی کا دامن نہ چھوڑیں، ان کی فیملیز کو درمیان میں نہ لائیں،آپ نے خود زندگی میں کچھ نہیں کیا اور پیچھے رہ گئے تو اس کا غصہ دوسروں پر نہ نکالیں۔

ایسے ایسے لوگ سوشل میڈیا کے بریڈمین بنے ہوتے ہیں جنھیں کرکٹ کی اے سی سی کا بھی نہیں پتا، چھت پر بچے کے ساتھ کرکٹ کھیلنے والے کسی کی بولنگ یا بیٹنگ پر ایسے تبصرے کرتے ہیں جیسے برائن لارا ان سے کوچنگ لینے آتے تھے۔

یہ مسئلہ صرف عام شخصیات کا نہیں بلکہ سابق کرکٹرز بھی اس میں شامل ہو گئے ہیں، بعض کو موجودہ اسٹارز سے اس وجہ سے حسد ہوتی ہے کہ وہ ان سے زیادہ آگے نکل گئے، کسی نے سلام نہیں کیا تو اس بات کو انا کا مسئلہ بنا لیا، کسی فرنچائز نے نوکری نہیں دی تو وہ عتاب میں آ گئی، کسی کو یوٹیوب سے ویوز چاہیئں تاکہ پیسہ ملے۔ 

تنقید ایسی کریں جس میں اصلاح کا پہلو بھی ہو، اسے بتائیں کہ آپ نے یہ غلطی کی اسے ایسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے، سابق کرکٹرز اور ٹرولرز میں فرق ہونا چاہیے، یہ مسئلہ بڑا بنتا جا رہا ہے ، ابھی تو کینٹ کاؤنٹی ہی سامنے آئی ہے، مستقبل میں دیگر کو بھی شاید کچھ کرنا پڑے گا۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

تحریر کردہ
سلیم خالق

saleem-khaliq

مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔