توانائی بچت مہم؛ پنجاب میں 8 بجے مارکیٹیں بند ہونے سے کاروبار اور روزگار پر منفی اثرات

صوبے بھر میں دکانیں، مارکیٹس اور شاپنگ مالز کو ہفتے کے ساتوں دن رات 8 بجے بند کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے


آصف محمود May 07, 2026

لاہور:

توانائی بچت مہم کے تحت پنجاب میں 8 بجے مارکیٹیں بند ہونے سے کاروبار اور روزگار پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

پنجاب حکومت کی جانب رواں سال مارچ کے شروع میں صوبے بھر کی مارکیٹس اور دکانیں رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ توانائی کے بچاؤ، بجلی کے استعمال میں کمی اور نظم و ضبط بہتر بنانے کے مقصد سے کیا گیا، تاہم اس اقدام کے معاشی اور سماجی اثرات پر بحث جاری ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر میں تمام دکانیں، مارکیٹس اور شاپنگ مالز کو ہفتے کے ساتوں دن رات 8 بجے بند کرنا لازمی قرار دیا گیا۔ یہ اقدام وفاقی حکومت کے فیصلے اور توانائی بچت پالیسی کے تحت کیا گیا۔

شہر کے مصروف تجارتی علاقے انارکلی میں کپڑے کی دکان چلانے والے 45 سالہ تاجر خالد محمود کے لیے یہ فیصلہ کاروبار کے معمولات میں نمایاں تبدیلی لے کر آیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ہماری اصل سیل شام کے بعد شروع ہوتی تھی، خاص طور پر گرمیوں میں لوگ رات کو خریداری کے لیے نکلتے ہیں، اب وقت کم ہونے سے فروخت متاثر ہوئی ہے۔

حکومت کے مطابق اس پالیسی کا بنیادی مقصد بجلی کی بچت اور توانائی بحران پر قابو پانا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں غیر ضروری روشنیوں اور ایئر کنڈیشننگ کے استعمال کو محدود کر کے مجموعی بجلی کی طلب کم کی جا سکتی ہے۔

توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہر  ڈاکٹرفہیم گو ہراعوان کے مطابق ابتدائی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کاروباری اوقات محدود کرنے سے شام کے بعد بجلی کے استعمال میں کچھ کمی آئی ہے، تاہم یہ کمی مجموعی طلب کے مقابلے میں محدود ہے۔

دوسری جانب مارکیٹوں میں کام کرنے والے ملازمین اس فیصلے کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔

گلبرگ کے ایک شاپنگ مال میں سیلز مین کے طور پر کام کرنے والے 28 سالہ علی رضا کہتے ہیں کہ پہلے ہم رات دیر تک کام کرتے تھے، اب جلدی چھٹی مل جاتی ہے، جس سے ذاتی زندگی کے لیے وقت بڑھا ہے، لیکن اوور ٹائم ختم ہونے سے آمدنی کم ہوگئی ہے۔

تاہم کچھ شعبے ایسے ہیں جو اس پابندی سے مستثنیٰ یا کم متاثر ہوئے ہیں۔ فارمیسیز، ریسٹورنٹس، پیٹرول پمپس اور آن لائن ڈیلیوری سے وابستہ کاروبار رات کے اوقات میں بھی جاری رہتے ہیں۔

فوڈ ڈیلیوری سے وابستہ ایک رائیڈر شعیب احمد کے مطابق ہمارا کام رات کو زیادہ ہوتا ہے، اس لیے ہمیں زیادہ فرق نہیں پڑا بلکہ کچھ حد تک آرڈرز میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ لوگ باہر کم جا رہے ہیں۔

اقتصادی ماہر ڈاکٹرقیصربنگالی کہتے ہیں 8 بجے کاروباری مراکز بند کرنے سے معاشی نقصان تو ہے لیکن ہمیں اس کلچرکو اپنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا جو ملازمین مارکیٹیوں، بازاروں میں کام کرتےہیں کیا دکاندار اورتاجرانہیں کوئی اوورٹائم یا بونس دیتے ہیں؟۔وہ اس حق میں ہیں کہ مارکیٹس رات 8 بجے بند ہونی چاہیں۔

لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر فہیم الرحمن سیگل کا خیال ہے کہ یہ پالیسی غلط وقت پر لائی گئی ہے۔ ملک کی معیشت پہلے سے ہی متاثر ہے۔ مہنگائی اور سود کی شرح میں اضافہ ہو چکا ہے۔ ایسے وقت میں کاروباری گھنٹوں میں کمی کرنا تمام تر اقتصادی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کی خریداری کی عادات نہیں بدلی ہیں۔ وہ اب رات کو غیر رسمی بازاروں میں سامان خریدنے جانے لگے ہیں۔ اس سے حکومت کو ٹیکسز میں بھی نقصان ہو رہا ہے۔

چین اسٹور ایسوسی ایشن کے چیئرمین اسفندیار فرخ کے مطابق صرف 2 ہفتوں میں 200 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ اگر یہ سلسلہ چلتا رہا تو ہفتہ وار 100 ارب روپے کا نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا ہے کہ باقاعدہ دکانیں بند ہو رہی ہیں جب کہ غیر رسمی بازار رات بھر کھلے رہتے ہیں۔ یہ نہ تو توانائی میں بچت دے رہا ہے اور نہ ہی معیشت کو فائدہ پہنچ رہا ہے

مرکزی انجمن تاجران راولپنڈی نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ دکانوں کی بندش کے اوقات میں نرمی کرتے ہوئے انہیں رات 8 بجے سے بڑھا کر 10 بجے تک کیے جائیں۔

انہوں نے ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز کے اوقات کار رات 10 بجے سے بڑھا کر 12 بجے تک مقرر کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاجروں نے خطرناک انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو تاجر برادری نہ صرف راولپنڈی بلکہ پورے پنجاب میں احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوگی۔

دوسری طرف عوامی دباؤ کے بعد حکومت نے لاک ڈاؤن میں جزوی نرمی کا فیصلہ کر لیا ہے جس میں جم، فٹنس سینٹرز اور انڈور اسپورٹس سرگرمیوں کے اوقات میں اضافہ کردیاگیا ہے۔