اگرچہ پاکستان بھارت کا ہمسایہ ملک ہے لیکن پاکستانیوں کی بھارتی سیاست میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر رہتی ہے اور عوام کے پاس بھارتی سیاست کے بارے میں بہت محدود معلومات ہیں۔ خاص طور پر جنوبی بھارت کی ریاستوں بارے میں عوام کے پاس معلومات صرف فلموں کی حد تک ہیں۔
پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو بھارت کی ریاستی سیاست اکثر وفاقی سیاست سے مختلف رخ اختیار کرتی ہے۔ پاکستان میں جہاں زیادہ توجہ قومی سیاست اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر مرکوز رہتی ہے، وہیں بھارت میں ریاستی حکومتیں تعلیم، صحت، صنعت، زبان اور مقامی شناخت کے معاملات میں کافی خودمختاری رکھتی ہیں۔
تامل ناڈو، کیرالہ اور کرناٹک جیسی ریاستیں اپنی مضبوط معیشت، تعلیم اور صنعتی ترقی کی وجہ سے الگ شناخت رکھتی ہیں۔ اسی لیے بھارتی سیاست کو سمجھنے کے لیے صرف دہلی نہیں بلکہ ریاستی سیاست کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
جنوبی بھارت کی ریاست تامل ناڈو ہمیشہ سے ہندوستان کی سیاست، ادب، فن، تعلیم اور سماجی شعور کا ایک منفرد مرکز رہی ہے۔ یہاں کے لوگ اپنی زبان، ثقافت اور تہذیب پر جس شدت سے فخر کرتے ہیں، اس کی مثال پورے برصغیر میں کم ہی ملتی ہے۔
حالیہ برسوں میں جنوبی ہند کے معروف اداکار تھلاپتی وجے نے سیاست میں قدم رکھ کر تامل ناڈو کی روایتی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان کی جماعت تملگا ویٹری کزگم (TVK) نے 2026 کے اسمبلی انتخابات میں حیران کن کامیابی حاصل کی اور دہائیوں سے جاری سیاسی اجارہ داری کو چیلنج کر دیا۔ اگرچہ ابھی حکومت سازی کا عمل مکمل طور پر واضح نہیں، تاہم وجے کی جماعت ریاست کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔
تامل ناڈو کی تاریخ دو ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ خطہ قدیم دراوڑی تہذیب کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں چولا، پانڈیا اور چیرا جیسی عظیم سلطنتیں قائم رہیں جنہوں نے سمندری تجارت، ادب اور فن تعمیر میں حیرت انگیز ترقی کی۔ تامل زبان دنیا کی قدیم ترین زندہ زبانوں میں شمار ہوتی ہے اور تامل لوگ اپنی زبان کے تحفظ کے لیے ہمیشہ سرگرم رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تامل ناڈو میں ہندی یا اردو زبان کے نفاذ کے خلاف کئی بڑی تحریکیں بھی چلیں۔ یہاں کی سیاست بھی زیادہ تر علاقائی شناخت اور ثقافتی شعور کے گرد گھومتی رہی ہے۔
تامل ناڈو کے لوگوں کی ایک نمایاں خصوصیت ان کا بلند تعلیمی شعور ہے۔ ریاست کا شرح خواندگی ہندوستان کے زیادہ تر علاقوں سے بلند ہے اور یہاں تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے میدان میں غیر معمولی ترقی ہوئی۔ انجینئرنگ، میڈیکل، آئی ٹی اور سائنسی تحقیق میں تامل نوجوان پوری دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ چنئی، کوئمبٹور اور مدورائی جیسے شہر جنوبی بھارت کے تعلیمی اور صنعتی مراکز سمجھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی کمپنیاں یہاں سرمایہ کاری کرتی ہیں اور اسے ہندوستان کا ایک اہم صنعتی حب قرار دیا جاتا ہے۔
اکثر برصغیر میں جنوبی ہندوستان کے لوگوں کی رنگت کے بارے میں تعصبانہ رویے دیکھنے کو ملتے ہیں، لیکن تامل ناڈو نے بارہا ثابت کیا ہے کہ ذہانت، تخلیقی صلاحیت اور علمی برتری کا تعلق رنگ سے نہیں بلکہ تعلیم، تہذیب اور محنت سے ہوتا ہے۔ تامل معاشرہ عمومی طور پر عملی سوچ، محنت اور میرٹ کو اہمیت دیتا ہے۔ یہاں کے لوگ فن، موسیقی، ادب، سائنس اور فلم سازی میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ جنوبی ہندوستان کی فلم انڈسٹری نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر میں اپنی تکنیکی مہارت اور مضبوط کہانیوں کی وجہ سے مشہور ہے۔
وجے کی مقبولیت بھی اسی فلمی ثقافت کا حصہ ہے۔ ان کا پورا نام جوزف وجے چندر شیکھر ہے۔ ان کے والد عیسائی اور والدہ ہندو تھیں، جس سے جنوبی بھارت کے مذہبی تنوع کی جھلک ملتی ہے۔ وجے نے کئی دہائیوں تک فلمی دنیا پر راج کیا اور ان کی فلمیں باکس آفس پر ریکارڈ کامیابیاں حاصل کرتی رہیں۔ تاہم 2024 میں انہوں نے سیاست میں باقاعدہ قدم رکھتے ہوئے اپنی جماعت تملگا ویٹری کزگم قائم کی۔ صرف دو سال کے اندر ان کی جماعت نے تامل ناڈو کی روایتی سیاسی قوتوں، یعنی DMK اور AIADMK، کو سخت چیلنج دے دیا۔
تامل ناڈو کی سیاست کی ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ یہاں فلمی ستارے ماضی میں بھی اقتدار تک پہنچتے رہے ہیں۔ مشہور اداکار ایم جی رام چندرن (MGR) اور جے للیتا بھی فلمی دنیا سے سیاست میں آئے تھے اور برسوں حکومت کرتے رہے۔ اس لیے وجے کی کامیابی جنوبی ہندوستان کی سیاسی روایت سے مکمل طور پر الگ نہیں، لیکن ان کی کامیابی کی رفتار حیران کن ضرور ہے۔ نوجوان ووٹرز، خواتین اور متوسط طبقے میں ان کی مقبولیت نے انہیں نئی سیاسی قوت بنا دیا ہے۔
تامل ناڈو کا سماجی ماحول ہندوستان کی نسبت زیادہ لبرل اور ترقی پسند سمجھا جاتا ہے۔ یہاں ذات پات کے خلاف سماجی تحریکیں چلیں، خواتین کی تعلیم پر زور دیا گیا اور مذہبی شدت پسندی نسبتاً کم دیکھی گئی۔ دراوڑی تحریک نے مذہبی بالادستی اور ذات پات کے نظام کے خلاف شعور بیدار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں لوگ سیاسی شعور رکھتے ہیں اور شخصیت پرستی کے باوجود پالیسی اور عوامی مسائل پر گفتگو بھی کرتے ہیں۔
تامل ناڈو میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 6 فیصد کے قریب ہے اور یہاں مسلمان تجارت، تعلیم اور سیاست میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ چنئی، ویلور، رام ناتھ پورم اور کیرالہ کی سرحد سے ملحقہ علاقوں میں مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ تامل مسلمان اپنی الگ ثقافتی شناخت رکھتے ہیں اور تامل زبان میں مذہبی و ادبی خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ یہاں کے مسلمانوں میں تعلیم کا رجحان نسبتاً بہتر سمجھا جاتا ہے۔
تامل ناڈو کے معروف مسلم رہنماؤں میں سابق ہندوستانی صدر پی جے عبد الکلام کا نام سب سے نمایاں ہے۔ اگرچہ ان کا تعلق ایک سادہ ماہی گیر خاندان سے تھا، مگر وہ ہندوستان کے عظیم سائنسدان اور بعد ازاں صدرِ جمہوریہ بنے۔ انہیں ’’میزائل مین آف انڈیا‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر کلام نہ صرف مسلمانوں بلکہ پورے بھارت کے لیے علم، انکساری اور حب الوطنی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ انڈین یونین مسلم لیگ اور دیگر جماعتوں سے وابستہ کئی مسلم سیاستدان بھی ریاستی سیاست میں سرگرم رہے ہیں۔
تامل ناڈو کے سری لنکن تاملوں کے ساتھ تعلقات بھی نہایت گہرے ہیں۔ سری لنکا میں خانہ جنگی کے دوران تامل ناڈو کے عوام نے سری لنکن تاملوں کے لیے ہمدردی اور حمایت کا اظہار کیا۔ بہت سے پناہ گزین تامل ناڈو آئے اور یہاں آباد ہوئے۔ LTTE اور تامل علیحدگی پسند تحریکوں کے حوالے سے بھی تامل ناڈو کے سری لنکن تاملوں کے ساتھ تعلقات بھی نہایت گہرے اور جذباتی نوعیت کے رہے ہیں۔
سری لنکا میں تاملوں اور سنہالی حکومت کے درمیان کئی دہائیوں تک جاری رہنے والی خانہ جنگی نے تامل ناڈو کی سیاست، سماج اور عوامی جذبات پر گہرا اثر ڈالا۔ تامل ناڈو کے عوام خود کو نسلی، لسانی اور ثقافتی طور پر سری لنکن تاملوں کے قریب سمجھتے ہیں، اسی لیے جنگ کے دوران وہاں کے عوام، طلبا تنظیموں، سیاسی جماعتوں اور فلمی شخصیات نے کھل کر سری لنکن تاملوں کے حق میں آواز اٹھائی۔ ہزاروں پناہ گزین تامل ناڈو منتقل ہوئے جنہیں مقامی سطح پر پناہ اور ہمدردی ملی۔ اسی تناظر میں LTTE اور دیگر تامل علیحدگی پسند تحریکوں کے بارے میں بھی ریاست میں ایک پیچیدہ مگر جذباتی مؤقف پایا جاتا رہا۔
اگرچہ بھارت کی مرکزی حکومت نے بعد ازاں LTTE پر پابندی عائد کر دی تھی، خاص طور پر سابق بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کے قتل کے بعد، لیکن اس کے باوجود تامل ناڈو میں آج بھی سری لنکن تاملوں کے انسانی حقوق، شناخت اور سیاسی تحفظ کے مسئلے کو ایک اہم عوامی اور سیاسی موضوع سمجھا جاتا ہے۔
وجے کی سیاسی کامیابی صرف ایک فلمی ستارے کی مقبولیت کا نتیجہ نہیں بلکہ تامل ناڈو کے بدلتے ہوئے سماجی اور سیاسی مزاج کی عکاس بھی ہے۔ نوجوان نسل، متوسط طبقے اور پہلی بار ووٹ دینے والے لاکھوں افراد روایتی جماعتوں سے ہٹ کر نئی قیادت، شفاف طرزِ حکومت، روزگار، بہتر تعلیم، ٹیکنالوجی اور کرپشن کے خاتمے کی امید لے کر وجے کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔
اب اصل امتحان وجے کے لیے شروع ہوتا ہے کہ آیا وہ فلمی مقبولیت کو مؤثر حکمرانی، مضبوط پالیسیوں اور عوامی فلاح میں تبدیل کر پاتے ہیں یا نہیں۔ عوام ان سے صرف جذباتی نعروں نہیں بلکہ عملی تبدیلی، بہتر طرزِ حکمرانی اور ایک جدید، ترقی یافتہ اور ہم آہنگ تامل ناڈو کی توقع رکھتے ہیں۔
تامل ناڈو کی سیاست ہمیشہ نظریات، ثقافت، زبان اور عوامی شعور کے گرد گھومتی رہی ہے، اور وجے کی آمد نے اس روایت میں ایک نیا باب ضرور کھول دیا ہے۔ اگر وہ عوامی اعتماد پر پورا اترنے میں کامیاب رہے تو ممکن ہے جنوبی ہندوستان میں ایک نئی سیاسی نسل جنم لے، جو فلمی شہرت سے آگے بڑھ کر حقیقی عوامی خدمت اور سماجی ترقی کی علامت بن جائے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔