صلح حدیبیہ

وہ عظیم معاہدہ جس نے عظیم اسلامی سلطنت کی تعمیر کیلئے بنیادیں فراہم کیں



تاریخِ انسانی کے جریدے پر کچھ واقعات ایسے ثبت ہیں جنہیں وقت کی گرد دھندلا نہیں سکی بلکہ جوں جوں وقت گزرتا ہے ان کی معنویت اور آفاقیت نکھر کر سامنے آتی ہے۔

’’ صلح حدیبیہ ‘‘ تاریخِ اسلام کا وہ درخشندہ باب ہے جسے عقلِ انسانی بظاہر ایک پسپائی یا وقتی سمجھوتہ سمجھتی تھی مگر وحیِ الٰہی نے اسے ’’ فتحِ مبین ‘‘ کے لقب سے نوازا۔ یہ واقعہ محض دو گروہوں کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ نہ تھا بلکہ یہ حق اور باطل کے درمیان ایک نئی فکری جنگ کا آغاز تھا، جہاں تلواروں کو میان میں رکھ کر دلوں کو مسخر کرنے کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں فرشِ زمین پر بظاہر مسلمانوں کی شرائط مانی نہیں جا رہی تھیں مگر عرشِ بریں پر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے محبوب ﷺ اور ان کے جاں نثاروں کے لیے کامرانی کے پروانے جاری کر رہا تھا۔

اس صلح کا مطالعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ بعض اوقات ظاہری مغلوبیت ہی درحقیقت حقیقی کامیابی کی کلید ہوتی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کی بصیرت اور وحی الٰہی کی رہنمائی نے اس معاہدے کے ذریعے وہ بنیادیں فراہم کیں جس پر مستقبل کی عظیم اسلامی سلطنت کھڑی ہونی تھی۔ یہ محض ایک سیاسی دستاویز نہ تھی بلکہ صبر، حکمت، اطاعت اور یقینِ کامل کا وہ عملی اظہار تھا جس نے عرب کے ریگزاروں میں اسلام کی جڑوں کو اس قدر مضبوط کر دیا کہ پھر کوئی آندھی انہیں ہلا نہ سکی۔

ہجرت کے چھٹے سال جب مدینہ کی اسلامی ریاست ایک مستحکم شکل اختیار کر چکی تھی، سرکارِ دو عالمﷺ نے ایک مبارک خواب دیکھا کہ آپ اپنے صحابہ کے ہمراہ امن و امان کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہو رہے ہیں، کعبہ کا طواف کر رہے ہیں اور عمرہ کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ انبیاء کے خواب محض واہمہ نہیں ہوتے بلکہ وحیِ ربانی کا ایک حصہ ہوتے ہیں۔ اس خواب نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے دلوں میں وہ تڑپ اور ولولہ پیدا کر دیا جو ہجرت کے بعد سے مکہ کی گلیوں اور خانہ کعبہ کی زیارت کے لیے تڑپ رہے تھے۔

آپﷺ نے اس سفر کا اعلان فرمایا تو چودہ سو (1400) جاں نثار لبیک کہتے ہوئے نکل کھڑے ہوئے۔ یہ قافلہ کسی جنگی مہم پر نہیں جا رہا تھا، اس لیے ان کے پاس صرف مسافرانہ اسلحہ (وہ تلوار جو میان میں رہتی تھی) تھا۔ قربانی کے جانور ساتھ تھے اور احرام بندھے ہوئے تھے۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ مسلمانوں کا رخ صرف اور صرف عبادت اور بیت اللہ کی تعظیم کی طرف ہے۔ یہ سفر تڑپِ زیارت اور حکمِ خداوندی کی بجا آوری کا ایک حسین سنگم تھا۔ صحابہ کرام کے چہروں پر موجود مسرت اور لبوں پر موجود ’’لبیک اللہم لبیک ‘‘ کی صدائیں اس بات کی گواہ تھیں کہ وہ اپنے رب کے گھر کی زیارت کے لیے ہر خطرے سے بے نیاز ہو چکے ہیں۔

جب یہ پرامن قافلہ مکہ کے قریب ’’ حدیبیہ ‘‘ کے مقام پر پہنچا تو قریشِ مکہ کی انا اور تکبر آڑے آ گیا۔ انہوں نے مسلمانوں کا راستہ روکنے کے لیے اپنے جنگجوؤں کو روانہ کر دیا۔ مسلمانوں کے لیے یہ ایک نازک مرحلہ تھا۔ ایک طرف بیت اللہ کی حرمت اور زیارت کا شوق تھا تو دوسری طرف امن کی بقا کا سوال۔ رسول مقبول ﷺ نے کمالِ دانش مندی سے کام لیتے ہوئے حدیبیہ کے مقام پر قیام فرمایا اور یہ واضح کر دیا کہ ’’ ہم لڑنے نہیں بلکہ عمرہ کرنے آئے ہیں۔ ‘‘

یہاں سے مذاکرات کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو انسانی تاریخ میں سفارتی آداب اور صبر و تحمل کا بے مثال نمونہ ہے۔ قریش کی طرف سے مختلف نمائندے آئے جن میں بدیل بن ورقاء اور عروہ بن مسعود ثقفی شامل تھے۔ عروہ بن مسعود جب واپس قریش کے پاس گیا تو اس نے وہ تاریخی جملہ کہا جو آج بھی ادب کا حصہ ہے۔ اس نے کہا : اے قریش! میں نے بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار دیکھے ہیں، میں نے قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے محلات بھی دیکھے ہیں، لیکن خدا کی قسم! میں نے کسی بادشاہ کے پیروکاروں کو اپنے بادشاہ کی ایسی تعظیم کرتے نہیں دیکھا جیسی محمد ﷺ کے اصحاب ان کی کرتے ہیں۔‘‘ عروہ کی اس مشاہداتی رپورٹ نے قریش کے دلوں میں ہیبت بٹھا دی، مگر ان کی ضد ابھی برقرار تھی۔ وہ اسے اپنی ناکامی سمجھتے تھے کہ مسلمان یوں آسانی سے مکہ میں داخل ہو جائیں۔

مذاکرات کے اسی طویل سلسلے کے دوران آپ ﷺ نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا تاکہ وہ قریش کو قائل کر سکیں۔ سید نا عثمانؓ کی واپسی میں تاخیر ہوئی اور یہ خبر اڑ گئی کہ انہیں شہید کر دیا گیا ہے۔ یہ خبر مسلمانوں کے لیے بجلی بن کر گری۔ صلح کا ارادہ کرنے والے رسول مقبول ﷺ نے فوراً ایک درخت (سمرہ) کے نیچے صحابہ سے بیعت لینے کا فیصلہ کیا۔

یہ ’’ بیعتِ رضوان ‘‘ تھی۔ صحابہ نے اس بات پر بیعت کی کہ وہ میدانِ جنگ سے پیٹھ نہیں پھیریں گے اور خونِ عثمان کا بدلہ لیں گے۔ اس بیعت کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں اس کا ذکر فرمایا ’’ بے شک اللہ مومنوں سے راضی ہوا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے۔‘‘ (سورہ الفتح)

اس بیعت نے ثابت کر دیا کہ مسلمان اپنے نبی ﷺ کے ایک اشارے پر اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ یہ وہ جذبہ تھا جس نے قریش کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دیا اور وہ سمجھ گئے کہ یہ گروہ شکست خوردہ ہونے والا نہیں ہے۔ یہی وہ دباؤ تھا جس نے آخر کار قریش کو صلح پر آمادہ کیا اور انہوں نے سہیل بن عمرو کو مذاکرات کے لیے بھیجا۔ جب سہیل بن عمرو مذاکرات کیلئے آیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے نام کی مناسبت سے فرمایا : تمہارا کام سہل (آسان) کر دیا گیا۔ معاہدے کی تحریر کے دوران جو واقعات پیش آئے وہ محبت ِ رسولﷺ اور اطاعتِ امیر کے کڑے امتحان تھے۔ جب سیدنا علی کرم اللہ وجہہ نے ’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم ‘‘ لکھا تو سہیل نے اعتراض کیا : "ہم رحمان کو نہیں جانتے وہی لکھو جو ہمارا دستور ہے یعنی 'باسمک اللہم'۔" رحمتِ عالم ﷺ نے اسے قبول کر لیا۔

پھر جب لکھا گیا کہ "یہ وہ معاہدہ ہے جو اللہ کے رسول محمد ﷺ نے طے کیا ہے "، تو سہیل نے پھر ہٹ دھرمی دکھائی کہ "اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول مان لیتے تو جھگڑا ہی کیا تھا؟ آپ اپنا نام اور اپنے والد کا نام لکھیں۔" صحابہ کے لیے یہ لمحہ انتہائی کربناک تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ رک گئے وہ اپنے ہاتھوں سے "رسول اللہ" کا لفظ مٹانے پر تیار نہ تھے۔ تب فخرِ موجودات ﷺ نے خود وہ لفظ مٹایا۔ یہ مٹانا درحقیقت مٹنا نہیں تھا بلکہ تاریخ کے ماتھے پر ابدی فتح کا نقش ثبت کرنا تھا۔

صلح نامے کی جو شرائط طے پائیں وہ بظاہر مسلمانوں کی سیاسی ساکھ کے خلاف معلوم ہوتی تھیں۔ ان شرائط میں دس سالہ جنگ بندی، اس سال عمرہ کیے بغیر واپسی اور سب سے کڑی شرط یہ تھی کہ اگر مکہ کا کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ جائے گا تو اسے واپس کرنا ہوگا، لیکن اگر مدینہ کا کوئی شخص مکہ آئے گا تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔ ان شرائط نے صحابہ کرام کے دلوں کو بوجھل کر دیا۔ انہیں ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ دب کر صلح کر رہے ہیں۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جن کی طبیعت میں حق کے لیے جلال تھا وہ بار بار حضورﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر پوچھتے ’’ کیا ہم حق پر نہیں؟ پھر ہم یہ ذلت کیوں اٹھائیں؟ مگر حضورﷺ کا جواب ایک ہی تھا: "میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، میں اس کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا اور وہ مجھے ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔"

ابھی معاہدہ مکمل ہی ہوا تھا کہ سہیل بن عمرو کے بیٹے حضرت ابوجندل رضی اللہ عنہ، جو مکہ میں قید تھے، بیڑیوں سمیت گھسٹتے ہوئے وہاں پہنچ گئے۔ ان کے جسم پر زخموں کے نشان تھے اور وہ پکار رہے تھے: "اے مسلمانو! کیا مجھے دوبارہ کافروں کے حوالے کر دیا جائے گا؟" یہ ایک ایسا دلخراش منظر تھا جس نے پورے اسلامی لشکر کو تڑپا دیا۔ مگر معاہدہ ہو چکا تھا اور اسلام کی اخلاقیات "عہد کی پاسداری" کا حکم دیتی تھیں۔ رسول ﷺ نے حضرت ابوجندل کو صبر کی تلقین کی اور فرمایا:

"اے ابوجندل! صبر کرو، اللہ تمہارے لیے کوئی راستہ نکالے گا ہم بد عہدی نہیں کر سکتے۔" یہ وہ مقام تھا جہاں صلح حدیبیہ ایک "عملی اخلاقیات" کا درس بن گئی کہ اسلام میں معاہدے کی اہمیت جذبات سے بلند ہوتی ہے۔تب عرشِ بریں سے اللہ کی طرف سے یہ اعلان ہوا یہ صلح نہیں بلکہ ’’ فتحِ مبین ‘‘ ہے۔ جب مسلمان مدینہ کی طرف لوٹ رہے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی:

 بے شک ہم نے آپ کو ایک واضح فتح عطا فرما دی۔" صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم حیران تھے کہ یہ کیسی فتح ہے جس میں ہم بظاہر اپنی شرائط منوانے میں ناکام رہے؟ مگر آنے والے وقت نے ثابت کیا کہ یہ واقعی فتح مبین تھی ایسی فتح جو مکہ کی فتح کی کلید بنی۔چنانچہ تھوڑا ہی عرصہ بعد ایک ایک کر کے بہت سے ایسے واقعات سامنے آتے چلے گئے جن سے واضح ہوگیا کہ حدیبیہ کی صلح فتح مبین تھی۔ اب ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کیوں کر مسلمانوں کیلئے فتح مبین ثابت ہوئی۔ صلح حدیبیہ سے مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان سماجی تعلقات بڑھے۔ مسلمانوں کے اخلاق دیکھ کر لوگ جوق درجوق اسلام لانے لگے۔ ان دو سالوں میں اتنے لوگ مسلمان ہوئے جتنے پچھلے اٹھارہ سالوں میں نہیں ہوئے تھے۔ خالد بن ولید اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنھما عرب کے یہ دو بڑے جرنیل اسی صلح کے دورانیے میں اسلام لائے۔ مشرکین مکہ کے ساتھ صلح کا معاہدہ طے ہونے کے بعد مسلمانوں نے اپنی تمام تر توجہ خیبر کے فتنہ پرور یہودیوں پر مرکوز کی اور اسے فتح کر کے معاشی طور پر مستحکم ہوئے۔ جب قریش نے حدیبیہ کے مقام پر طے پانے والے صلح کے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو مسلمانوں کو مکہ پر لشکر کشی کا اخلاقی اور قانونی حق حاصل ہو گیا جو فتحِ مکہ کا سبب بنا۔

علمی اور ادبی نقطہ نظر سے صلح حدیبیہ ’’ عزم و استقلال ‘‘ اور ’’ سیاسی تدبر ‘‘ کا شاہکار ہے۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اسلام صرف طاقت کا نام نہیں بلکہ یہ حکمت اور بصیرت کا نام ہے۔ رسول اللہﷺ نے جذباتیت کے بجائے حقیقت پسندی اور مشیتِ ایزدی کو ترجیح دی۔ اس صلح نے ثابت کر دیا کہ جب حق اپنی پوری سچائی کے ساتھ میدان میں آتا ہے تو اسے ہتھیاروں کی ضرورت نہیں رہتی ا س کا کردار ہی اسے فتح یاب کر دیتا ہے۔

صلح حدیبیہ کے معاہدے میں قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے یہ پیغام ہے کہ امن، جنگ سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ اگرچہ فرشِ زمین پر یہ ایک صلح نامہ تھا، مگر عرشِ بریں پر یہ باطل کی شکست کا اعلان تھا۔ اس نے ثابت کر دیا کہ جو اللہ کے حکم کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں اللہ پوری دنیا کو ان کے سامنے جھکا دیتا ہے۔ آج بھی اگر امتِ مسلمہ صلح حدیبیہ کی روح کو اپنائے یعنی صبر، حکمت اور اطاعتِ رسولﷺ تو وہ دنیا کے کسی بھی میدان میں شکست نہیں کھا سکتی۔ حدیبیہ کا میدان درحقیقت اسلام کی اخلاقی برتری کا وہ نشان ہے جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔