حلال رزق، کالی راتیں اور ریاست کا بے رحم بوجھ

پاکستان کی مٹی سے محبت کرنے والے ایک عام انسان کے لیے آج کل زندگی جینا کسی جہاد سے کم نہیں رہا


منیر احمد May 09, 2026
مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی مشکل ترین بنادی ہے۔ (فوٹو: فائل)

یہ تحریر اس مجبور باپ کی پکار ہے جو کرپشن کے اس نظام میں اپنے بچوں کو حلال کھلانے کی جنگ لڑ رہا ہے اور جس کے لیے اب جینا ایک معجزہ بن چکا ہے- اور وہ ہاتھ اٹھا کر کبھی اپنے رب سے دعا مانگتا ہے کبھی یہ ان حکمرانوں کی طرف دیکھتا ہے-

پاکستان کی مٹی سے محبت کرنے والے ایک عام انسان کے لیے آج کل زندگی جینا کسی جہاد سے کم نہیں رہا۔

 ہم وہ لوگ ہیں جو صبح کی پہلی کرن کے ساتھ اس امید میں گھر سے نکلتے ہیں کہ شام کو جب لوٹیں گے تو بچوں کے چہروں پر ایک مسکراہٹ خرید سکیں گے۔ ہماری کل کائنات وہ تیس ہزار روپے کی تنخواہ ہے جسے ہم مہینے کے تیس دنوں پر اس طرح تقسیم کرتے ہیں جیسے کوئی پیاسا صحرا میں پانی کی بوند بوند بچاتا ہے۔ لیکن آج کے دور میں، جہاں ریاست کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو شاید موت بھی یاد نہیں رہی، وہاں ہم جیسے سفید پوشوں کے لیے سانس لینا بھی ایک ٹیکس بن چکا ہے۔

ظلم کی انتہا دیکھیے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں، دنیا بھر میں عوام کو ریلیف مل رہا ہے، لیکن ہمارے ہاں رات کے اندھیرے میں پٹرول کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ کردیا گیا۔ یہ کیسا نظام ہے کہ عالمی منڈی کی کمی کا فائدہ کبھی غریب کی جیب تک نہیں پہنچتا، لیکن وہاں ہونے والا ذرا سا اضافہ یہاں مہنگائی کا طوفان بن کر ٹوٹتا ہے؟ پٹرول کا مہنگا ہونا صرف ایک فیول کا مہنگا ہونا نہیں ہے، بلکہ یہ اس مزدور کی سواری، اس کے بچوں کے دودھ اور اس کے گھر کے راشن پر براہِ راست ڈاکہ ہے۔

میرا درد صرف میرا نہیں، یہ پاکستان کی ان گلیوں کا درد ہے جہاں ایک باپ حبس بھری رات میں اپنے بچوں کو پنکھے کے نیچے سے ہٹا کر چھت پر لے جاتا ہے۔ آپ کو اندازہ ہے کہ اس باپ کے دل پر کیا گزرتی ہوگی جو تپتی دوپہر میں اپنے معصوم بچے کو پنکھا چلانے پر ڈانٹ دیتا ہے؟ وہ بچہ جو ابھی زندگی کی تلخیوں سے ناواقف ہے، اسے کیا معلوم کہ اس کا باپ اسے اس لیے نہیں ڈانٹ رہا کہ اسے ٹھنڈی ہوا سے دشمنی ہے، بلکہ وہ اس لیے ڈانٹ رہا ہے کیونکہ اسے ڈر ہے کہ اگر اس ماہ بجلی کے یونٹ دو سو کی حد پار کر گئے تو اگلے مہینے اس کے گھر کا چولہا نہیں جلے گا۔

ہم وہ بدنصیب لوگ ہیں جو جون جولائی کی گرمی میں ائیر کولر تو دور کی بات، پنکھا چلاتے ہوئے بھی اللہ سے ڈرتے ہیں کہ کہیں میٹر کی رفتار ہماری زندگی کی رفتار سے تیز نہ ہو جائے۔ ہم راتیں چھتوں پر تارے گنتے گزار دیتے ہیں تاکہ بجلی کا بل قابو میں رہے، لیکن ریاست ہے کہ اس کی بھوک ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ اب سنا ہے کہ وہ جو دو سو یونٹ والی تھوڑی بہت رعایت تھی، وہ بھی چھینی جا رہی ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ اب سبسڈی صرف ان کو ملے گی جو امدادی پروگراموں کی لسٹوں میں نام لکھوائیں گے۔

لیکن ریاست کو کون سمجھائے کہ ایک غیرت مند محنت کش، جو اپنی حلال کمائی سے گھر چلا رہا ہے، وہ ان لائنوں میں کھڑا ہونا اپنی توہین سمجھتا ہے؟ کیا ہم اس لیے حلال کما رہے ہیں کہ ہمیں کسی امدادی کارڈ کا محتاج کر دیا جائے؟ یہ کیسا نظام ہے جہاں ایک کمرے کے مکان میں رہنے والا کرائے دار، جس کا اپنا کوئی میٹر نہیں، وہ مالک مکان کی امیری کی سزا اپنے بلوں میں بھگتتا ہے؟ کرائے دار کے پاس تو کوئی آپشن ہی نہیں بچا، وہ پہلے ہی رینٹ اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور اب اس کی زندگی مزید اجیرن بنائی جا رہی ہے۔

کرائے داروں کا معاملہ اس نئے سسٹم میں سب سے بڑا ظلم بن کر ابھرے گا، کیونکہ بجلی کا میٹر تو مالک مکان کے نام پر ہوتا ہے۔ اگر مالک مکان بی آئی ایس پی کا اہل نہیں ہے، تو اس میٹر پر آنے والی بجلی کبھی سستی نہیں ہوگی، چاہے اس میں رہنے والا کرائے دار کتنا ہی غریب کیوں نہ ہو۔ کوئی بھی مالک مکان اپنی پراپرٹی کو کسی اور کے امدادی ڈیٹا سے لنک نہیں ہونے دے گا، جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ کروڑوں کرائے دار اس بنیادی رعایت سے ہمیشہ کے لیے محروم کر دیے جائیں گے۔ یہ ایک ایسا سنگین مذاق ہے جو کرائے دار کو دوہری آگ میں جھونک دے گا جہاں اسے نہ تو سرکاری رعایت ملے گی اور نہ ہی مہنگائی سے نجات۔

اب اوپر سے یہ فکسڈ چارجز اور رینٹ کے نام پر جو ہزار، پندرہ سو روپے کا اضافی ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، وہ ایک غریب آدمی کہاں سے لائے؟ سب سے بڑی تکلیف یہ دیکھ کر ہوتی ہے کہ اس ملک میں کرپشن کا اژدہا سب کچھ نگل رہا ہے، لیکن اسے پکڑنے والا کوئی نہیں۔ اگر صرف بجلی چوری روک لی جائے، اگر صرف سرکاری محکموں کی مفت بجلی بند کر دی جائے اور یہ کرپشن کا بازار بند ہو جائے، تو شاید ہمیں یہ دن نہ دیکھنے پڑیں۔ ہم یہاں بیٹھ کر اپنی اولاد کے نوالوں کا حساب لگا رہے ہیں اور اوپر بیٹھے حکمران اپنی مراعات میں مست ہیں۔

کیا انہیں کبھی اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف نہیں آتا؟ کیا انہیں احساس نہیں ہوتا کہ جب ایک مزدور کا بل اس کی آدھی تنخواہ کے برابر آتا ہے تو اس رات اس کے گھر میں ماتم کا سماں ہوتا ہے؟ آج ہم اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں جینے کے راستے مسدود ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف وہ خودکشی کا راستہ ہے جسے یہ معاشرہ ’’خاموشی‘‘ سے قبول کر لیتا ہے، اور دوسری طرف وہ راستہ ہے جو ہمیں سڑکوں پر لے جاتا ہے۔ اگر ہم بھوک سے مر جائیں تو یہ نظام خاموش رہتا ہے، لیکن حق مانگنے پر ہمیں ریاست کا باغی کہا جاتا ہے۔

میں پوچھتا ہوں کہ جب جینا ہی نامکن بنا دیا جائے، تو پھر انسان کے پاس کیا راستہ بچتا ہے؟ میرا گھر میری ریاست سے پہلے آتا ہے، کیونکہ میں نے اس گھر کو اپنے خون پسینے سے سینچا ہے۔ اگر ریاست مجھے حلال طریقے سے سر اٹھا کر جینے نہیں دے گی، تو پھر میرے پاس چھیننے کے علاوہ کیا راستہ رہے گا؟ یہ کوئی بلاگ نہیں، یہ ان کروڑوں پاکستانیوں کی فریاد ہے جو اب تھک چکے ہیں۔ ہم تھک چکے ہیں آئی ایم ایف کی شرطوں سے، ان فکسڈ چارجز سے، پٹرول کے ان ظالمانہ اضافوں سے اور ان حکمرانوں سے جنہیں ہماری آہ سنائی نہیں دیتی۔

اگر اب بھی کرپشن پر قابو نہ پایا گیا اور غریب کو جینے کا حق نہ دیا گیا، تو یاد رکھیں کہ بھوکا انسان جب سڑک پر نکلتا ہے تو وہ کسی قانون کو نہیں مانتا۔ ہم حلال طریقے سے جینا چاہتے ہیں، ہمیں حرام کے راستے پر چلنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ ریاست یاد رکھے، جب ایک غیرت مند باپ کی آنکھ میں آنسو آتے ہیں، تو عرش ہل جاتا ہے۔ اب وقت ہے کہ عوام کا گلا گھونٹنے کے بجائے ان مگرمچھوں کو پکڑا جائے جنہوں نے اس ملک کا لہو پی لیا ہے، ورنہ جب عوام کے پاس کھونے کو کچھ نہیں بچتا، تو وہ سب کچھ الٹ دیتے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
منیر احمد
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔