کاروکاری: ایک باب جو بند ہونا چاہیے

سندھ کی ثقافت میں بیٹی کو سات قرآن کے مثل قرار دیا جاتا تھا


کشور زہرا May 10, 2026

انسانی تاریخ محض بادشاہوں، جنگوں اور سلطنتوں کی داستان نہیں، بلکہ یہ اُن سماجی رویوں کی بھی آئینہ دار ہے جو وقت کے ساتھ انسان کے ضمیر پر سوالیہ نشان چھوڑتے رہے ہیں۔تاریخ میں ایسے کئی واقعات ہیں جو انسانی ذات، انسان دوستی اور سماجی مساوات کے حوالے سے انتہائی افسوس ناک ہیں۔

یہ واقعات کہیں جنگوں کی صورت میں رونما ہوئے، جن میں لاکھوں انسانی جانیں ضایع ہوئیں، کہیں بادشاہوں اور فرعونوں نے انسانوں کو غلام بنایا اور ان پر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے، تو کہیں بہ حیثیت سماج ہر شخص نے اپنی طاقت کے مطابق کم زور کو روندنے کی کوشش کی اور جب اپنی حاکمیت کا رعب جھاڑنے کی یہ روش عام ہوئی تو اس کا سب سے خطرناک اثر عورت پر پڑا۔

سندھ کی ثقافت میں بیٹی کو سات قرآن کے مثل قرار دیا جاتا تھا، اگر بیٹیاں چل کر جاتی تھیں تو لوگ اپنی انا سے دست بردار ہو جاتے تھے، اپنے اوپر ہونے والا ظلم صرف اس لیے معاف کر دیتے تھے کہ بیٹیاں چل کر آئی ہیں۔

پھر نہ جانے کب پہلی بار کس نے صنفی بنیاد پر مرد کی برتری اور عورت کی کمتری کا فیصلہ کیا ہوگا، لیکن یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ اس کے بعد عورت کو کبھی ایک مکمل انسان کی نظر سے نہیں دیکھا گیا اور یہ سلسلہ ہنوز اسی آب و تاب کے ساتھ جاری و ساری ہے۔

کہیں اسے مردوں کے گناہوں میں ہرجانے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، کہیں اسے جوے میں ہارا جاتا ہے تو کہیں اسے گھریلو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، کہیں بیٹی پیدا کرنے کے جرم میں پٹتی کٹتی ہے تو کہیں اولاد نہ ہونے کی صورت میں قصوروار گردانی جاتی ہے اور مرد کوئی دوسری عورت بیاہ لاتا ہے۔

بعض اوقات عورت کے خون کو بھی اتنا سستا سمجھا جاتا ہے جیسے شاید کیڑے مکوڑوں کو بھی نہ سمجھا جاتا ہو۔جہالت بھرے سماج میں اس ظلم و تشدد کی کئی وجوہات بھی گھڑ لی گئیں اور یہ ثابت کیا گیا کہ عورت پر یہ سارے ظلم کرنا نہ صرف مرد کے لیے جائز ہے بلکہ یہ اس کی مردانگی کی قابل فخر دلیل بھی ہے۔

جب کہ عورت جو صنف نازک کہلاتی ہے وہ اسی ماحول میں بچے پیدا کرنا، کھیتوں کا کام،مال مویشی کی دیکھ بھال اور حتیٰ کہ ترقی یافتہ سماج کے متوسط طبقے میں ملازمت کرنے والی عورت کو بھی کام سے واپسی کے بعد چولہا چکی ہی دیکھنا پڑتا ہے۔

دن بھر کی مشقت اور پھر گھر کے کام کاج کے بوجھ کو جیسے اس کا مقدر بنا دیا گیا ہے،لیکن اس کے عوض عمومی طور پر عورت کو کیا مل رہا ہے؟ اس کی رضامندی اور پسند کا اختیار چھین کر اسے ’’خاندان کی عزت‘‘کا استعارہ بنا دیا گیا۔

اس تصور نے ایک ایسی ذہنیت کو جنم دیا جس میں عورت کی مرضی، اس کی پسند اور اس کا وجود شک کی نظر سے دیکھا جانے لگا۔ یہی وہ فکری بنیاد تھی جس نے بعد میں کاروکاری جیسے غیر انسانی رجحان کو جنم دیا۔

حالاں کہ اگر ہم مذہبی تعلیمات کا جائزہ لیں تو اسلام نے عورت کو وہ مقام دیا ہے جس کی مثال اس دور کے کسی معاشرے میں نہیں ملتی۔ قرآنِ مجید میں واضح طور پر ارشاد ہے کہ ’’اور عورتوں کے لیے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے ہیں‘‘ (البقرہ: 228)۔

اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ’’تم میں بہترین وہ ہے جو اپنی عورتوں کے ساتھ بہتر ہو‘‘ یہ تعلیمات اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ عورت کو کمتر سمجھنا،یا اس پر ظلم کرنا، نہ صرف انسانی بلکہ اسلامی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔

اسی لیے رسولِ مقبول ﷺ نے ان تمام ظالمانہ روایتوں کو توڑ کر ایک’’بزنس وومن‘‘(جو عمر میں بھی ان سے زیادہ تھیں) سے شادی کر کے عورتوں کے لیے راہ کھول دی کہ وہ جب تجارتی معاملات دیکھ سکتی ہیں تو باقی دنیاوی معاملات میں بھی انھیں اتنی ہی اہمیت حاصل ہے جتنی کہ ایک مرد کو۔

اگلے روز پریس کلب میں دخترانِ کراچی کے بینر تلے اسی سلسلے میں نشست ہوئی، جس میں انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلا، وفاقی و صوبائی اسمبلی کے ممبران، شعرا اور سماجی کارکنان نے شرکت کی۔

ڈھائی گھنٹے کے اجلاس میں کئی واقعات زیر بحث آئے، کئی پیچیدگیوں پر گفتگو ہوئی اور ایسے وعدے اور عزم کیے گئے جیسے ہم فتح کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔

اس بات کی خوشی ضرور ہے کہ ہماری تعلیم یافتہ خواتین اپنی ہم صنف مظلوموں کے بارے میں فکر مند ہیں لیکن حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ جس وقت ہم پریس کلب میں کارو کاری کی روک تھام کی بات کر رہے تھے عین اسی وقت کوٹری کے ایک دیہاتی علاقے میں ایک اور معصوم بچی’’گلاں بھارو‘‘ قتل کی جا رہی تھی۔

پھر اگلے روز اسی پریس کلب کے سامنے ایک اور واقعہ پیش آیا جس میں خواتین کے حقوق کے لیے جانی پہچانی کارکن شیما کرمانی کو گرفتار کیا گیا۔ ان واقعات کے تسلسل میں اگر زمینی حقائق اور جرم کی شرح دیکھیں تو اس عمل میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔

جس کی وجہ یہ ہے کہ عورتوں پر زیادتی اور خاص طور کاروکاری جیسے گھناؤنے جرم کی پاداشت میں کسی مجرم کو تختہء دار تک نہیں پہنچایا گیا۔ گزشتہ برس یعنی 2025 میں 470 خواتین کے قتل کے واقعات رپورٹ ہوئے یعنی کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ جب کوئی عورت غیرت کے نام پر قتل نہ ہوتی ہو۔

سوال یہ ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں، پولیس، عدالتیں اور ہمارے باشعور لوگ اس جرم کو روکنے میں کیوں کامیاب نہیں ہو پا رہے۔کیا ہمیں اپنے طریقہ کار اور حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت نہیں ہے؟ میں سمجھتی ہوں کہ کسی بھی جرم کو روکنے کے لیے سب سے پہلے اس کی وجہ جاننا ضروری ہے۔

مجرم کی ذہنیت، اس کی نفسیات، اس کے اغراض ومقاصد سے بے خبر رہ کر صرف قانون سازیاں کرتے رہیں گے تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ قتل کی سزا کئی سالوں سے قتل ہے لیکن پھر بھی ہابیل کے قتل سے لیکر آج تک لوگ ایک دوسرے کو قتل کرتے ہی آرہے ہیں، کیوں کہ صرف قانون بنا دینا یا سزا جاری کر دینے سے جرم کو روکا نہیں جا سکتا بلکہ یہ تو طاقت کو طاقت سے روکنے کا طریقہ ہے جس سے کبھی بھی دیرپا اثرات حاصل نہیں کیے جا سکتے اور نہ ہی ہمارے یہ قانون ان گلیوں اور کچے مکانوں تک پہنچتے ہیں جہاں کے طاقتور مگرمچھ اپنے آس پاس کسی نازک جل پری کو جینے کی اجازت نہیں دیتے۔

میرے خیال میں زیادہ فائدہ تب ہوگا جب ہم لوگوں کی سوچ بدلیں گے۔ جب ہم انھیں یہ احساس دلا سکیں کہ جس طرح کسی مرد کو اپنی مرضی اور پسند سے اپنے لیے شریک حیات منتخب کرنے کا اختیار ہے اسی طرح عورت بھی کسی خواہش کا اظہار کرے تو یہ اس کا حق ہے۔

میں سمجھتی ہوں کہ کارو کاری کی کئی اہم وجوہات میں سے ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ انھیں اپنا شریک حیات چننے کا اختیار نہیں ہے اور انھیں خاندان، قوم، فرقے، مذہب اور زبان کی بنیاد پر ایسے شخص کے ساتھ عمر بھر کے لیے باندھا جاتا ہے جسے وہ دل سے قبول نہیں کرتیں اور نتیجتاً انھیں ایسے اقدامات کرنے پڑتے ہیں جو بعد میں نام نہاد غیرت اور رسوائی کا سبب بنتے ہیں۔

کاروکاری کی روک تھام کا سب سے موثر طریقہ یہ ہے کہ ہمیں پہلے مرحلے میں گاؤں دیہاتوں میں اوطاقوں، چوپالوں اور دیگر عوامی مقامات پر ایسے لیکچر سیشنز اور سیمینارز کا آغاز کرنا چاہیے جس میں ہم کند ذہن معاشرے کی تربیت کر سکیں۔ جب ہماری تربیت یافتہ اور باصلاحیت خواتین اور مرد رضاکار یہ باور کروانے میں کامیاب ہو گئے کہ بیٹی پڑھانا، بیٹی کو پسند و ناپسند کا اختیار دینا، اس کی پسند کا احترام کرنا ہی اصل مردانگی ہے تو شاید کسی حد تک ہم جبری شادیوں کو روک سکیں گے اور یہ ایک بڑی وجہ ہے جہاں سے کاروکاری کا ایک بڑا دروازہ کھلتا ہے۔

دیگر وجوہات میں خاندانی دشمنیاں، ذاتی مفادات اور جائیداد کی وراثت جیسی وجوہات بھی شامل ہیں لیکن انھیں پہلے مرحلے میں ختم نہیں کیا جا سکتا۔تعلیم یہاں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے،لیکن صرف ڈگریوں کی حد تک نہیں، بلکہ سوچ کی تبدیلی کے لیے۔

نصاب، میڈیا اور مذہبی و سماجی بیانیے کو مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں عورت کو ایک مکمل انسان کے طور پر تسلیم کیا جائے، نہ کہ کسی کی ملکیت یا عزت کا نشان سمجھا جائے۔

اسی کے ساتھ ساتھ مذہبی بیانیے کو بھی درست سمت میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے، اگر مساجد، مدارس اور مذہبی رہنما قرآن و سنت کی روشنی میں عورت کے حقوق کو اجاگر کریں اور یہ باور کروائیں کہ اسلام میں کسی کو’’غیرت‘‘ کے نام پر قتل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں، تو یہ پیغام زیادہ موثر انداز میں نچلی سطح تک پہنچ سکتا ہے۔

مزید یہ کہ زمینی سطح پر کمیونٹی کے ساتھ براہِ راست کام، متاثرہ خاندانوں کو قانونی اور نفسیاتی مدد فراہم کرنا اور مقامی سطح پر بااثر افراد کو اس مہم میں شامل کرنا ناگزیر ہے۔ جب تک گاؤں اور محلوں کی سطح پر ذہنیت تبدیل نہیں ہوگی، تب تک بڑے شہروں کے ہالز میں ہونے والی گفتگو محض گونج بن کر رہ جائے گی۔