پانچ حروف پر مشتمل لفظ فلسفہ جس بھی چیز کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے وہ اچانک سے پیچیدہ سی معلوم ہونے لگتی ہے۔ زندگی یوں تو خالق کائنات کا اپنے بندوں کے لیے ایک بیش قیمت تحفہ ہے جس کی قدر کرنا ہم سب انسانوں پر لازم ہے لیکن جب زندگی سے پہلے فلسفہ جیسا بھاری لفظ لگا دیا جائے پھر یہ انسان کے اوسان خطا کر کے رکھ دیتی ہے۔
اس دنیا میں تشریف فرما ہونے والا ہر فرد باخوبی جانتا ہے کہ اُسے زندگی فقط ایک بار کے لیے عنایت کی گئی ہے ، لہٰذا اس کو بھرپور انداز میں جینا ہی اُن کے عقلمند انسان ہونے کی نشانی ہے۔
ایک مستحکم اور پر سکون زندگی گزارنے کے کئی طریقے ہیں مگر میرے ذاتی تجربے کے مطابق فلسفہ زندگی یا فلسفہ خوشحال زندگی درحقیقت انسان کا اس سادہ سے جملے، ’’کہیں پہنچنے کے لیے، کہیں سے نکلنا بہت ضروری ہے‘‘ کو من و عن تسلیم کرنا ہے۔
یہ جملہ کہنا جتنا آسان ہے اس پر عمل کرنا اُتنا ہی کٹھن ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ انسانی جسم سے روح نکلنے کی جو اذیت ہوتی ہے اُس کے قریب کی ہی کیفیت سے انسان اس جملے کو اپنا طرزعمل بناتے ہوئے گزرتا ہے تو ہرگز یہ مبالغہ آرائی نہیں ہوگی۔
اب انسان کی یہ اچھی عادت تصور کریں یا بری، وہ اپنے خیالوں کے محل بنا کر نہ صرف خوش ہوتا ہے بلکہ اُس میں رہائش بھی اختیار کر لیتا ہے اور اُس سے منسلک ہر بات کو سچ مان کر حقیقت سے بہت دور چلا جاتا ہے پھر جب کوئی اُسے ہوش میں لانے کی کوشش کرتا ہے تو وہ انجان وادی میں بھٹکتے پھرتے مسافر کی طرح آنکھیں پھاڑے اپنے گرد و نواح کو سمجھنے کی تگ و دو سے ہلکان ہو جاتا ہے۔ یہاں سے آغاز ہوتا ہے اُس دورِ زندگانی کا جہاں قدم قدم پر درد، تکلیف اور اذیت کی مختلف اقسام سے انسان کی آشنائی ہوتی ہے۔
یہ سفر دشوار ضرور ہے لیکن راحت کا احساس بھی ساتھ ساتھ انسان کو میسر آتا ہے۔ انسان کو بچپن سے نوعمری تک، نوعمری سے جوانی تک پھر جوانی سے بڑھاپے تک اُس کی زندگی کی کہانی کا مصنف بہترے منظر دکھلاتا ہے جن کا دورانیہ مختصر ہوتا ہے لیکن وہ اُن کی نوعیت دائمی سمجھ کر اپنا قلب و ذہن اُن مناظر سے جوڑ لیتا ہے جب کہ معاملہ محض منظر کے پس منظر سے پردہ اُٹھا کر ممکنہ خطرات سے آگاہ کرکے انسان کو اپنے خالق کا شکر گزار بنانا ہوتا ہے مگر انسان اپنے من چاہے کو خود سے جدا ہوتا دیکھ کر اُلٹا رب کی ذات سے ہی برگشتہ ہو جاتا ہے۔
انسان نے جسے حقیقت سمجھا ہو وہ آگاہی کا ایک ذریعہ نکلے تو وہ یقین اور بے یقینی کے درمیان بری طرح پھنس جاتا ہے جہاں سے نکلنا انگاروں پر ننگے پاؤں چلنے کے مترادف ہوتا ہے۔ پہلے پہل تو انسان کو کچھ سجھائی نہیں دیتا ہے، وہ جب جب سچ کے قریب جانے کے لیے اپنے پیروں کو اُٹھاتا ہے لڑکھڑا کر گر پڑتا ہے، ایک بار، دو بار، تین بار، لاتعداد بار یہاں تک کہ اُس کے وجود کے ہر حصے سے ٹیسیں اُٹھنے لگتی ہیں۔ انسان کو اپنی زندگی عذاب معلوم ہو رہی ہوتی ہے اور اپنا وجود ایک بھاری بوجھ جو اُس سے سنبھالے نہیں سنبھل رہا ہوتا ہے۔
سوچوں پر کسی کا اختیار نہیں ہوتا ہے، خواہش کسی بھی فرد و شے کی دل میں بیدار ہوسکتی ہے، ارمان پالنے پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے اور چاہنے کو انسان کچھ بھی چاہ سکتا ہے لیکن غیب کا علم صرف اور صرف رب انسان کے پاس موجود ہے جو اپنے بندوں کو ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ ایک ماں جب اپنی اولاد کو تکلیف میں دیکھ کر تڑپ اُٹھتی ہے تو پھر وہ ہست ی جس نے ہم انسانوں کو خلق کیا ہے، کیسے دنیا میں کسی انسان یا شے کے ہاتھوں ہمیں خوار ہوتا دیکھ سکتی ہے۔
عموماً کرب میں مبتلا انسان کو دیکھ کر لوگ مشورہ دیتے ہیں کہ اپنے رب کے حضور گڑگڑا کر دعا مانگو وہ رد نہیں کرے گا یا اکثر یہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ آپ کے لیے آپ سے زیادہ عرق ریزی سے کوئی دوسرا شخص خالق کے سامنے فریاد نہیں کرسکتا ہے مگر ساتھ یہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ چاہے کچھ کر لو، کتنے بھی آنسو بہا لو، منتیں مانگ لو، التجاء کر لو، اپنی دعا میں کسی بھی زبان کا کوئی بھی لفظ شامل کر لو، آپ کے رب کی نہ، ہاں میں تبدیل نہیں ہوتی ہے اور رب کی اُس نہ میں ہی آپ کی بھلائی ہوتی ہے۔
’’ہاں‘‘ سننے کی تڑپ رکھتے ہوئے نہ کو تسلیم کرنے کا حوصلہ شاذ و نادر افراد میں پایا جاتا ہے بلکہ ہاں کی چاہ رکھ کر نہ تک پہنچنا ایک پل صراط ہے جس پر سے زیادہ تر لوگ لڑکھڑا کر اندھیری کھائی میں گِر پڑتے ہیں جہاں اپنی زندگی کا بقیہ حصہ وہ ہاتھوں سے پھسلنے والی وقت کی ریت کا ماتم کرتے گزار دیتے ہیں۔ عقلمند انسان وہی ہوتے ہیں جو لاحاصل پر بین کرنے کے بجائے اپنے رب کی رضا میں راضی رہتے ہوئے سر اُٹھا کر پورے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ جاتے ہیں اور مستقبل کے حوالے سے اپنی زندگی کا ہر معاملہ رب کے ہاتھوں سونپ دیتے ہیں۔
انسان کا کہیں پہنچنے کے لیے کہیں سے نکلنا ناگزیر ہے کیونکہ اس کے بغیر زندگی آگے بڑھ نہیں سکتی ہے۔ زندگی نام ہی امتحان کا ہے، ہمارے صبر کا امتحان، جو انسان اس امتحان میں کامیاب رہے گا، وہی اس دنیا کے بعد کی دائمی زندگی میں چین کی بانسری بجائے گا۔ اس کے علاوہ ہمارا موجودہ دور ماضی سے یکسر مختلف ہے، یہاں ہر کوئی جلدی میں ہے، انسانی زندگیاں بجلی کی رفتار کو مات دے رہی ہیں، ہمارے پاس غم منانے کا بالکل وقت نہیں ہے، منظر لمحوں میں بدل رہے ہیں پھر ہم کیوں اپنی زندگی کے ایک برے حادثے میں پھنسے رہیں۔