ملکی تاریخ میں پہلی بار پاکستان میں کپاس کا نیا جننگ سیزن شروع ہونے سے قبل روئی کے ذخائر کا حجم 10ہزار گانٹھوں کی سطح سے بھی کم ہونے کے باعث آنے والے دنوں میں روئی کی عدم دستیابی کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں جس سے بعض ٹیکسٹائل ملیں غیر فعال ہونے کے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کو چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ پاک-افغان سرحد کی بندش کے نتیجے میں افغانستان سے تقریباً روئی کی 5لاکھ گانٹھیں پاکستان درآمد نہ ہونے، خلیج جنگ سے درآمدی سرگرمیوں کی معطلی مقامی ٹیکسٹائل ملوں کے لیے روئی کی کمی کا باعث ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ انہی مسائل کے باعث گزشتہ ہفتے مقامی مارکیٹ میں روئی کی فی من قیمت 22ہزار روپے فی من جبکہ مؤخر ادائیگی پر 23ہزار 500 روپے فی من کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نیا کاٹن جننگ سیزن عیدالاضحیٰ کے فوری بعد شروع ہونے کے امکانات ہیں اور نئے کاٹن جننگ سیزن کا آغاز جون کے تیسرے ہفتے میں ہوگا جو مقامی ٹیکسٹائل ملوں کی مطلوبہ ضروریات پوری کرسکے گی۔
احسان الحق نے کہا کہ ملک کو روئی میں خود کفیل ہونے کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے جس میں کاٹن زونز میں گنے کی کاشت پر مکمل پابندی عائد کیے جانے سے روئی کی درآمدات میں کمی یا ختم کیے جانے کے ساتھ خوردنی تیل کی درآمدات پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالر سالانہ زرمبادلہ بچایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت سے چین کے لیے سوتی دھاگے کی غیر معمولی برآمدات کے نتیجے میں بھارت کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر روئی درآمد کرنا پڑی تھی۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم نے کہا کہ مذکورہ حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت نے 27-2026 سے 31-2030 تک کپاس کی پیداواری سرگرمیاں بڑھانے کے لیے 5ہزار 659کروڑ روپے کا فنڈ مختص کیا جس کے تحت پیداوار میں اضافے کے ساتھ انتہائی منفی موسمی حالات برداشت کرنے کے اقدامات، ایکسٹرا لانگ اسٹیپل کے حامل بیج تیار کرنے کے علاوہ بھارت کے 2ہزار سے زائد جننگ اور پراسیسینگ فیکٹریوں کی اپ گریڈنگ شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کے باعث بھارت میں کپاس کی سالانہ پیداوار کو 2031 تک 498 لاکھ گانٹھوں تک توسیع دینا ہے، مزید برآں بھارتی حکومت نے اپنے کسانوں کے لیے اعلان کردہ کپاس کی قیمت سے کم ہونے کی صورت میں ادائیگیوں کی غرض سے ایک ہزار 719 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
احسان الحق نے بتایا کہ فی الوقت پاکستان کے بیشتر کاٹن زونز میں کپاس کی بوائی ہو رہی ہے لیکن حیران کن طور پر زرعی مداخل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کیا جارہا ہے جس میں ڈیزل، بجلی اور کیمیائی کھادوں کی قیمتوں میں اضافہ بھی شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ڈی اے پی کھاد کی قیمت 16ہزار روپے فی بیگ کی تاریخ ساز سطح پر پہنچ چکی ہے جبکہ یوریا کھاد کی فی بوری قیمت 4ہزار 500 روپے تک پہنچ گئی ہیں جس سے خدشہ ہے کہ کھادوں کی کم استعمال کے باعث کپاس کی فی ایکڑ پیداوار کم ہونے سے کپاس کی مجموعی قومی پیداوار بھی توقعات سے کم ہوگی جس کے نتیجے میں پاکستان کو ایک بار پھر بڑے پیمانے پر روئی اور خوردنی تیل کی درآمدات کرنا پڑیں گی۔