سندھ کے تعلیمی بورڈز میں کرپشن پر وزیراعلیٰ کا سخت نوٹس، اصلاحاتی کمیٹی تشکیل

کمیٹی اپنی رپورٹ 60 روز میں وزیر اعلیٰ سندھ کو پیش کرے گی


صفدر رضوی May 11, 2026

صوبے کے تعلیمی بورڈز میں کرپشن معاملات سامنے آنے کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ایک اصلاحاتی کمیٹی تشکیل دے دی۔

محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز نے کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، جس کے مطابق مذکوہ کمیٹی اپنی رپورٹ 60 روز میں وزیر اعلیٰ سندھ کو پیش کرے گی جو اس وقت جزوی طور پر سندھ کے تعلیمی بورڈز کی کنٹرولنگ اتھارٹی بھی ہیں۔

کمیٹی سندھ کے انٹرمیڈیٹ بورڈز کے موجودہ انتظامی، تعلیمی، امتحانی، گورننس اور عملی نظام کا جائزہ لیکر بہتری کیلئے اقدامات تجویز کرے گی۔

نوٹیفیکیشن کے مطابق کمیٹی کے چیئرمین چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر سروش حشمت لودھی ہونگے جبکہ لیاری یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر حسین مہدی، آغا خان بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر نوید یوسف، سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز عباس بلوچ اور سیکریٹری سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن نعمان احسن بھی اراکین میں شامل ہوں گے۔

کمیٹی کے ٹی آر اووز کے مطابق کمیٹی ضرورت کے مطابق کسی بھی ماہر کو چھٹے رکن کے طور پر شریک کر سکتی ہے، اس کمیٹی کا دائرہ کار وسیع رکھا گیا ہے،  کمیٹی سندھ کے انٹرمیڈیٹ بورڈز کے موجودہ قانونی، انتظامی اور گورننس فریم ورک کا جائزہ لے گی اور موجودہ امتحانی نظام کا جائزہ اور جانچ کے طریقہ کار، رازداری کے انتظامات اور نتائج کی تیاری کے عمل کا معائنہ بھی کرے گی۔

کمیٹی بورڈز میں شفافیت اور اس کی ساکھ کو متاثر کرنے والے امتحانی نظام کی خامیوں اور کمزوریوں اور اسٹرکچرل مسائل کی نشاندہی کرے گی جبکہ بورڈز میں گورننس، شفافیت، خودکاری (Automation)، امتحانی معیار اور ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری کے لیے اصلاحات تجویز کرے گی۔

کمیٹی تعلیمی بورڈز میں جوابدہی اور خدمات کی فراہمی کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات تجویز کرے گی اوراپنی رپورٹ حکومت /  وزیر اعلیٰ سندھ کو غور و منظوری کے لیے جامع سفارشات کے ساتھ پیش کرے گی، کمیٹی نوٹیفکیشن کے اجرا کے 60 دن کے اندر اپنی رپورٹ / سفارشات پیش کرے گی۔