’بچے ایسے معاملےمیں جھوٹ نہیں بولتے‘: سندھ ہائیکورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی کے مقدمے کا فیصلہ سنادیا

قانونی نظام متاثرہ افراد کے لیے رکاوٹیں پیدا کرتا ہے،اکثر بچوں کو اپنے ہی خاندان سے الٹے الزام کا خطرہ رہتا ہے، عدالت


ناصر بٹ May 11, 2026
فوٹو فائل

سندھ ہائیکورٹ نے پانچ سالہ بچی سے زیادتی کے کیس میں ملزم کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی سزا برقرار رکھی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے پانچ سالہ بچی سے زیادتی کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے ملزم اشوک کی اپیل مسترد کی اور ٹرائل کورٹ کے سزا کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔

جسٹس عمر سیال نے فیصلے میں لکھا کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں کوئی خامی نظر نہیں آئی۔ استغاثہ کے مطابق ٹرائل کورٹ نے ملزم اشوک کو جرم ثابت ہونے پر نومبر 2024 میں 14 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

عدالت نے فیصلے میں لکھ کہ پاکستان میں بہت کم تحقیق موجود ہے کہ نابالغ بچے جنسی زیادتی کے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں، بچے شاذ و نادر ہی جنسی زیادتی کے الزامات گھڑتے ہیں، بچے ایسے دعوے کرتے ہیں تو اکثر اس کے پیچھے خوف، الجھن یا صدمے کا حقیقی تجربہ ہوتا ہے۔

عدالت نے لکھا کہ جب زیادتی کرنے والا خاندان کا کوئی فرد ہو تو بچے الزام گھڑنے کے بجائے زیادہ امکان ہوتا ہے کہ وہ بات کو کم بیان کریں یا تاخیر سے کریں، متاثرین اور ان کے خاندان اکثر شدید شرمندگی اور معاشرتی بدنامی کا سامنا کرتے ہیں۔

عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ قانونی نظام بھی متاثرہ افراد کے لیے رکاوٹیں پیدا کرتا ہے، 
اکثر بچوں کو اپنے ہی خاندان کی جانب سے جھٹلائے جانے یا الزام دیے جانے کا خطرہ رہتا ہے، کسی بچے کے مکمل طور پر من گھڑت جنسی زیادتی کی رپورٹ دینے کا امکان انتہائی کم ہوتا ہے۔

عدالت نے کہا ہک  متاثرہ بچی نے بہادری سے بطور گواہ عدالت میں پیش ہوئی اور اُس نے عدالت کو بتایا کہ اُس کے ساتھ کیا ہوا، عدالت متاثرہ بچی کی گواہی کو اعتماد پیدا کرنے والی، قابلِ بھروسہ اور سچا سمجھتی ہے۔

فیصلے میں لکھا گیا کہ ایسے مقدمات میں اگر متاثرہ فرد کی گواہی قابلِ اعتماد ہو تو صرف اُسی کی بنیاد پر سزا برقرار رکھی جا سکتی ہے، کسی بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کے معاملے کو روایتی یا گھسے پٹے انداز میں نہیں دیکھا جا سکتا۔

سندھ ہائیکورٹ نے لکھا کہ ملزم اور اسکے وکیل اپنے اوپر لگائے گئے الزامات جھوٹے ہونے کی کوئی وضاحت پیش نہیں کرسکے جس کی بنیاد پر ٹرائل کورٹ کی سزا کو برقرار رکھا گیا ہے۔