کیا عالمی قواعد و ضوابط پر مبنی نظام ختم ہو رہاہے؟

ایران پر جارحیت کے بعد اقوام متحدہ کے کردار پر سوال اُٹھ رہے ہیں، پاکستان کے لئے خطے میں مواقع لامحدود ہیں



(سابق چیئرمین ڈیپارٹمنٹ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور )

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی جانے والی جنگ کو امریکہ کے اندرونی حلقے اور دیگر ممالک بھی غیر قانونی جنگ قرار دے رہے ہیں اور اس اقدام نے قانون و امن پسند حلقوں میں یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا قواعد پر مبنی عالمی نظام اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے؟ اور اگر واقعی دوسری عالمی جنگ کے بعد تشکیل پانے والا یہ نظام عملی طور پر ختم ہو چکا ہے تو یہ سوال اہم بن جاتا ہے کہ مستقبل میں دنیا کا نقشہ کیا ہوگا ؟

ہم ماضی کے جھروکوں سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کی تباہی وبربادی کے بعد اقوام متحدہ اور سیکیورٹی کونسل ان چند اداروں میں سے ایک تھی جو دوسری عالمی جنگ کے بعد جنگوں سے بچنے اور قواعد پر مبنی عالمی نظام قائم کرنے کے لیے بنائے گئے تھے۔

دراصل اس وقت مغربی دنیا نے اپنے تیئں اس شکل میں ایک ایسا عالمی نظام تشکیل دیا تھا جسے قواعد پر مبنی عالمی نظام کہا جاتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جس میں عالمی سیاست کو قوانین اور اداروں کے ذریعے منظم کرنے کی کوشش کی گئی۔

بہت سے مبصرین موجودہ امریکہ ایران جنگ کے بارے میں کہہ رہے کہ اس کی کوئی واضح قانونی یا اخلاقی بنیاد نہیں ہے اور اس نے بین الاقوامی تعلقات اور حالات میں شدید بگاڑ پیدا کردیا ہے۔اس حوالے سے ہم دیکھتے ہیں کہ امریکی صدر کی طرف سے اقوام متحدہ پر شدید تنقید'بورڈ آف پیس کاقیام' وینزویلا کے صدر اور انکی بیوی کا اغوا کا اقدام' ایران کو یہ دھمکیاں کہ ''آج کی رات ایک پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے‘‘ اور "پورے ایران کو صفحہ ہستی سے مٹادیا جائے گا" اور "میں دنیا میں جہاں چاہوں حملے کرسکتا ہوں" عالمی قواعد کے انہدام کی سنگین صورتحال کو ظاہر کرتے ہیں۔

امریکی ماہر سیاسیات پروفیسر اسٹیسی گوڈارڈ کے مطابق "دنیا واقعی اس وقت قواعد پر مبنی عالمی نظام کے ایک بہت کمزور مرحلے میں ہیں"۔ قواعد پر مبنی عالمی نظام دراصل اصولوں اور اداروں کا ایک مجموعہ ہے جو دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد قائم کیا گیا تھا اور سرد جنگ کے بعد اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی تھی۔ اس کے پیچھے بنیادی خیال یہ تھا کہ عالمی سیاست کو طاقت کے بجائے قانون، اداروں اور مشترکہ اصولوں کے ذریعے چلایا جائے۔بعض ماہرین کے مطابق واقعی اس وقت قواعد پر مبنی عالمی نظام انہدام کے مراحل میں ہیں۔

بیسویں صدی میں دو عالمی جنگوں کی تباہ کاریوں کے بعد دنیا میں زیادہ استحکام، آزادی اور خوشحالی پیدا کرنے کے مقصد کے تحت کئی بین الاقوامی ادارے قائم کیے گئے۔ ان اداروں کے رکن ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف جارحیت سے گریز کریں گے اور حملے کی صورت میں دفاع کا حق رکھیں گے۔ گوڈارڈ کے مطابق یہ نظام عملی طور پر ہمیشہ اپنے دعووں کے مطابق کام نہیں کرسکا۔ ان کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ لبرل اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کی خواہشات عالمی سطح پر سب کے لیے تھیں۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوا۔ اس کے بہت سے حامی ممالک جن میں امریکہ بھی شامل ہے اکثر منافقانہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور قواعد سے فائدہ اٹھا کر دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ گلوبل ساؤتھ کہلانے والے ممالک میں طویل عرصے سے یہ احساس رہا ہے کہ مغربی ممالک نے جو حفاظتی نظام اور قواعد بنائے ان سے انہیں کوئی حقیقی فائدہ نہیں پہنچا۔

واشنگٹن میں امریکی یونیورسٹی کے اسکول آف انٹرنیشنل سروس کے پروفیسر امیتابھ اچاریہ کے مطابق یہ ایک بہت محدود کلب تھا۔ اس کا اصل فائدہ زیادہ تر امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کو ہوا اور طاقتور کی کمزور ممالک پر جارحیت کو یہ نظام روکنے میں ناکام رہا۔ ان کے مطابق گلوبل ساؤتھ کے پاس حقیقی اختیار نہیں تھا۔ انہیں وہ مقام کبھی نہیں ملا جس کے وہ مستحق تھے۔

گزشتہ دہائی میں قواعد پر مبنی عالمی نظام پر اعتماد مزید کمزور ہوا ہے کیونکہ طاقتور ممالک نے سیکیورٹی کونسل کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہوئے اپنی جارحیت کو قانونی شکل دینے کی کوشش کی۔اس وقت اگرسیکیوریٹی کونسل سے حقیقی فائدہ اٹھانا ہے تو اس کو جمہوری انداز میں چلانے کیلئے اسکی موجودہ ہئیت کو بدلنا ہوگا اور اسمیں طاقت کا توازن پیدا کرنا ہوگا۔ موجودہ صورتحال میں اب یہ سوال بڑی شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر قواعد پر مبنی عالمی نظام کا دور ختم ہو رہا ہے تو اس کے بعد دنیا کس سمت میں جا سکتی ہے؟

 مستقبل کے نظام کے بارے میں ماہرین کی طرف سے تین ممکنہ منظرنامے پیش کئے جارہے ہیں۔

منظرنامہ 1: علاقائی یا نصف کرے کی بالادستی

بہت سے سیاسی ماہرین کہتے ہیں کہ اس تصور کے مطابق بڑی طاقتیں دنیا کو مختلف اثر و رسوخ والے علاقوں میں تقسیم کر سکتی ہیں۔

ماہر سیاسیات اسٹیسی گوڈارڈ کے مطابق اس تصور میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ خود مختار ممالک اس بات کو آسانی سے قبول نہیں کریں گے کہ انہیں کسی اور طاقت کے دائرہ اثر میں رکھ دیا جائے۔

گوڈارڈ کے مطابق ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ بعض عالمی رہنما جیسے پوٹن یا ٹرمپ ہمیشہ اپنے اپنے ممالک کے مفادات کے مطابق نہیں بلکہ اپنے اور اپنے وفادار حلقوں کے مفاد کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔

اسی رجحان کو بیان کرنے کے لیے گوڈارڈ اور جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے کچھ محققین نے 'نیو رائل ازم‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ اس کا مطلب ایسا عالمی نظام ہے جس میں طاقت چند طاقتور اشرافیہ گروہوں کے ہاتھ میں ہو، بالکل ویسے ہی جیسے تاریخی بادشاہتوں میں چھوٹے حلقے عالمی سیاست کو اپنے مفاد کے لیے شکل دیتے تھے۔

منظرنامہ 2: ’’ملٹی پلیکس‘‘ عالمی نظام

اس منظرنامے کے مقابلے میں ایک اور امکان کثیر قطبی یا جیسا کہ امیتابھ اچاریہ کے مطابق ملٹی پلیکس عالمی نظام کا ہے۔

اچاریہ کے مطابق اس نظام میں طاقت صرف ایک یا دو بڑی طاقتوں تک محدود نہیں ہو گی۔ ان کے الفاظ میں ملٹی پلیکس نظام میں صرف چند بڑی طاقتیں نہیں ہوتیں۔ اس میں بہت کچھ ایک ساتھ چل رہا ہوتا ہے۔ اس میں درمیانی طاقتیں، علاقائی طاقتیں اور سول سوسائٹی کے ریاستی کردار بھی شامل ہوتے ہیں۔

اس طرح کے نظام میں تعاون صرف عالمی سطح تک محدود نہیں ہو گا بلکہ علاقائی سطح پر بھی ہو گا۔ مثال کے طور پر عالمی اداروں جیسے اقوام متحدہ کے ذریعے تعاون جاری رہ سکتا ہے، جبکہ مختلف خطوں میں علاقائی اتحاد اور تعاون بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ اس منظرنامے میں درمیانی طاقتیں اہم کردار ادا کریں گی۔ اچاریہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ملٹی پلیکس عالمی نظام بھی مکمل یا مثالی نہیں ہو گا۔ ان کے مطابق اس میں بھی تنازعات اور عدم استحکام موجود رہیں گے، لیکن یہ مسائل کسی ایک بالادست طاقت کے زیر اثر کم ہوں گے۔

منظرنامہ 3: مکمل انہدام؟

ایک اور ممکنہ منظرنامہ یہ ہے کہ قواعد پر مبنی عالمی نظام مکمل طور پر ٹوٹ جائے اور اس کی جگہ افراتفری اور بے نظمی لے لے۔ یعنی ایسی دنیا جو ایک اور بڑی عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہو۔ امیتابھ اچاریہ کے مطابق بہت سے لوگ اس امکان سے خوفزدہ ہیں، لیکن ان کے خیال میں فی الحال اس کا امکان زیادہ نہیں ہے۔ اسٹیسی گوڈارڈ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ دور کتنا تباہ کن تھا جب مختلف براعظموں میں مسلسل بڑی جنگیں ہوئیں اس لیے وہ دوبارہ ایسی قیمت ادا کرنے سے گریز کریں گے۔ قواعد پر مبنی عالمی نظام کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ ممالک کیا کرتے ہیں جو اب بھی سمجھتے ہیں کہ یہ نظام قیمتی ہے اور جن کے پاس اسے برقرار رکھنے کی کچھ طاقت بھی ہے۔ اگر وہ دوسرے رجحانات کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے تیار ہوں چاہے اس کی قیمت ہی کیوں نہ ادا کرنا پڑے۔

اس تناظر میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ کیا یورپی یونین' جاپان، جنوبی کوریا اور بھارت جیسے ممالک اپنے آزاد تجارتی معاہدے کریں گے۔ دفاعی لحاظ سے امریکہ پر انحصار کم کریں گے اور ساتھ ہی قواعد پر مبنی اصولوں کا احترام بھی برقرار رکھیں گے؟اور چین روس اور مسلم ممالک کا رویہ اس سلسلے میں کیا ہوتا ہے۔

ممکن ہے یہی عوامل مستقبل میں ایک نئے عالمی نظام کے ابھرنے کا فیصلہ کن سبب بنیں۔ ایک ایسا نظام جو صرف مغربی طاقتوں کی طرف سے تشکیل نہ دیا گیا ہو بلکہ زیادہ وسیع عالمی شراکت داری پر مبنی ہو۔ادھر مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ اور خطرناک صورتحال میں پاکستان کیلئے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ ایک طرف اسں تنازع کی حل کی کوششوں نے پاکستان کو جہاں دنیا بھر میں سفارتی سطح پر ایک اعلی مقام دلوایا کہ وہیں آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی نے پاکستان کیلئے نئے معاشی دروازے بھی کھول دئیے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ نقشے پر کھینچی گئی ایک لکیر پوری معیشت کا رخ بدل دیتی ہے اور اس بار یہ لکیر سمندر کے ایک کنارے سے اٹھ کر گوادر تک آن پہنچی ہے۔جس سے صرف ایک جھٹکے میں پاکستان 25 ارب ڈالر کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

دراصل ایران نے برسوں تک اپنی تجارت کے لیے متحدہ عرب امارات خاص طور پر جبلِ علی پر انحصار کیا۔ وہی جبلِ علی جو مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا تجارتی گیٹ وے سمجھا جاتا ہے، جہاں دنیا بھر سے آنے والا مال اترتا، دوبارہ پیک ہوتا، اور پھر ایران کی طرف روانہ کر دیا جاتا تھا۔ یہ ایک ایسا بیک ڈور تھا جس کے ذریعے ایران نہ صرف اپنی درآمدات سنبھالتا تھا بلکہ پابندیوں کے دور میں بھی سانس لیتا تھا۔

مگر اب منظر بدل رہا ہے ایران اور عرب امارات میں شدید تناؤ کی وجہ سے ایران نے آہستہ آہستہ اپنا رخ پاکستان کی طرف موڑنا شروع کر دیا ہے خاص طور پر گوادر بندرگاہ کی طرف۔ بظاہر یہ ایک سادہ تجارتی فیصلہ لگتا ہے مگر حقیقت میں یہ سپلائی چین سیکیورٹی کا کھیل ہے۔

ایران یو اے ای کو کیسے استعمال کرتا تھا؟ یہاں اصل بات سمجھنے والی یہ ہے کہ ایران براہِ راست ہر ملک سے تجارت نہیں کر سکتا تھا۔ پابندیوں، بینکاری مسائل اور سیاسی دباؤ کی وجہ سے پیش آنے والی رکاوٹوں کے باعث اس نے ایک راستہ نکالا۔ دنیا بھر سے سامان پہلے یو اے ای (جبل علی) پہنچتا وہاں اسے ری-ایکسپورٹ کیا جاتا پھر چھوٹے جہازوں یا چھوٹی کشتیوں کے ذریعے خلیج پار کر کے ایرانی بندرگاہوں بندر عباس وغیرہ تک پہنچایا جاتا یعنی سیدھا راستے سے نہیں بلکہ ‘‘گھوم کر’’ آنے والا راستہ اختیار کیا گیا۔اسی راستے نے ایران کو زندہ رکھا دوسرا راستہ کیپسین سی ہے جہاں سے چائینہ ، سینٹرل ایشیا اور روس نے بھی متبادل ذریعہ فراہم کیا لیکن اصل اہمیت جبل علی کی ہی تھی صرف یہاں سے سالانہ 20 سے 25 ارب ڈالر کا سامان ایران کو ری ایکسپورٹ ہوتا تھا۔

 ایران کو اچانک گوادر کیوں یاد آیا؟

وجہ سادہ بھی ہے اور گہری بھی۔آبنائے ہرمز بند ہونے اور یو اے ای کے ساتھ حالات کشیدہ ہونے سے ایران کو جبل علی کی متبادل بندرگاہ چاہئے تھی اس کی اپنی کوئی بھی بندرگاہ اس وقت امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے استعمال میں نہیں تو ایسے وقت میں پاکستان آگے بڑھا اور اپنا زمینی روٹ براستہ گوادر اور کراچی پورٹ ایران کے حوالے کیا اور خود ٹرمپ سے کہا اس معاملہ پر آنکھیں بند کر لینا تھوڑا ہمارا فائدہ ہونے دو جس کے بعد ٹرمپ نے اس پاکستانی اقدام پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور جب ایک صحافی نے اس حوالے سے سوال پوچھا تو اسنے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ کہ ہاں مجھے سب معلوم ہے۔ واپس آتے ہیں اپنے سوال کی طرف کہ آخر گوادر ہی کیوں۔وجہ بہت سادہ ہے گوادر ایران کی سرحد کے بالکل قریب ہے بلوچستان کے ذریعے زمینی راستہ سیدھا ایران میں داخل ہوتا ہے۔ یہاں سمندر بھی ہے اور زمین بھی یعنی ڈبل آپشن یعنی اب ایران کو وہ گھوم کر چکر نہیں لگانا پڑے گا۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کون سی بندر گاہ قریب ہے؟ یو اے ای یا گوادر؟

اگر سیدھا فاصلہ دیکھیں تو یو اے ای (جبل علی) سے ایران کا راستہ سمندری ہے اور اس میں خلیج پار کرنی پڑتی ہے جبکہ گوادر سے ایران زمینی سرحد چند گھنٹوں کی دوری پر ہے یعنی جغرافیہ کے حساب سے گوادر ایران کے لیے زیادہ قدرتی اور اسٹریٹجک راستہ بنتا ہے۔ اور اب تو وہاں کا راستہ بھی بند ہے۔

پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہلے یو اے ای آپشن کیوں تھا؟

کیونکہ یو اے ای کے پاس وہ سب کچھ تھا جو ایران کے پاس نہیں تھا عالمی بینکاری سسٹم ، فری ٹریڈ زون ، جدید پورٹ انفراسٹرکچر ، پابندیوں سے بچنے کا ‘‘خاموش راستہ’’ اب گوادر آہستہ آہستہ وہ خلا پْر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس تبدیلی کا مطلب کیا ہے؟ یہ صرف بندرگاہ بدلنے کی بات نہیں یہ ایک پیغام ہے ایران اب متبادل ڈھونڈ رہا ہے اور پاکستان اس متبادل کا حصہ بن رہا ہے اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو پاکستان اور ایران کی تجارت میں اربوں ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے گوادر ایک حقیقی علاقائی ہب بن سکتا ہے اور یو اے ای کے لیے یہ ایک خاموش چیلنج بن سکتا ہے۔

یو اے ای صرف اسی وجہ سے گوادر کے خلاف تھا کہ وہ اسے جبل علی کے متبادل کے طور پر دیکھتا تھا اور پاکستان بھی اسے دبئی بنانے کی باتیں کرتا تھا لیکن یو اے ای ہمیں ادھار دیکر ہمیں خاموش کروائے رکھتا تھا اور پاکستان با امر مجبوری چپ سادھ لیتا تھا ، لیکن اب معاملہ الٹ ہے ہم نے یو اے ای کا کوئی حساب نہیں دینا ، آبنائے ہرمز سے یو اے ای کا راستہ بند ہے تو پھر اب ہمیں گوادر کو ایکٹو کرنے میں دیر نہیں کرنا چاہئے اور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کراچی اور گوادر کو مستقبل کا دبئی بنانے کی طرف تیزی سے قدم بڑھانا چاہیے۔n