دوستو!آج میں آپ کو ’’آئل آف مین‘‘ کے بارے میں بتانے جا رہا ہوں۔ جی نہیں، یہ انسانوں کا تیل نکالنے کے طریقے ہرگز نہیں ہیں۔ یہ کام تو پاکستانی حکومت کا ہے جو ہر سال بجٹ کے ذریعے عوام کا تیل نکالتی ہی رہتی ہے۔
آئل آف مین (Isle of Man) 574 مربع کلومیٹر رقبے کا ایک جزیرہ ہے جو آئرلینڈ کے پاس واقع ہے اور 1765ء سے باقاعدہ تاج برطانیہ کے ماتحت ہے۔ اگرچہ اس پر برطانیہ کا قبضہ 1399ء سے تھا۔ اس کے دارالحکومت کا نام ڈگلس ہے اور پورے جزیرے کی آبادی 2021ء کی مردم شماری کے مطابق 84000 ہے۔ اتنا مختصر ہونے کے باوجود یہ جزیرہ بہت مشہور ہے اور اس کی شہرت کی سب سے بڑی وجہ ہر سال یہاں منعقد ہونے والی موٹرسائیکل ریس ہے۔
آئل آف مین ٹی ٹی (ٹورسٹ ٹرافی) کے نام سے مشہور یہ ریس عموماً ہر سال مئی اور جون میں منعقد ہوتی ہے۔ 1907ء میں پہلی مرتبہ منعقد ہونے والی اس ریس کی انفرادیت یہ ہے کہ دیگر ریسوں کے برخلاف یہ عوامی سڑکوں پر منعقد ہوتی ہے۔ اسے خطرناک ترین اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں حادثے کی صورت میں سوار کی جان جانے کی شرح کسی بھی دوسری ریس کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔
عام ریس کے برعکس یہ ’’ٹائم ٹرائل‘‘ فارمیٹ کے تحت منعقد ہوتی ہے۔ یعنی یہاں صرف مجموعی طور پر کم سے کم وقت میں طے شدہ چکر پورے کرنے والا سوار ہی فاتح ٹھہرتا ہے۔ دو ہفتوں تک جاری رہنے والے میلے میں پہلا ہفتہ پریکٹس اور کوایفائنگ جب کہ دوسرا ہفتہ ریسنگ کے لیے مختص ہوتا ہے۔ سوار دس سیکنڈ کے وقفے سے آغاز کرتے ہیں اور چکر کا دورانیہ سٹاپ واچ کے ذریعے طے کیا جاتا ہے۔ موٹر سائیکل سوار گھروں، پتھر کی دیواروں، درختوں اور بجلی کے کھمبوں کے بیچ سے اس تیزی سے گزرتے ہیں کہ ایک لمحے کی لغزش جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ اکثر اوقات ایک چکر میں ان کی اوسط رفتار 135 میل فی گھنٹہ تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ اسی سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ایسی صورت میں کوئی حادثہ کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
جمعرات 28 مئی 1907ء کو پہلی مرتبہ منعقد ہوتے وقت اس کا نام ’’انٹرنیشنل آٹو-سائیکل ٹورسٹ ٹرافی‘‘ تھا اور یہ 15 میل, 1470 گز طویل سینٹ جان کے مختصر سرکٹ کے 10 چکروں پر مشتمل تھی۔ اس کے اولین فاتح ریم فاؤلر تھے۔ 1911ء سے اسے ’’سنافیل ماؤنٹین کورس‘‘ منتقل کر دیا گیا جو 37.4 میل (60.19 کلومیٹر) طویل تھا (آج کل یہ طوالت 37.73 میل یا 60.72 کلومیٹر ہے)۔ اس کی بلندی کا تنوع سطح سمندر سے 400 میٹر (1300 فٹ) سے لے کر اس کے برابر تک ہے۔ اس میں 200 سے زائد موڑ آتے ہیں۔1907ء میں محض دو کلاس (انجن سائز) کے لیے ایک ایک ریس تک محدود رہنے والی ٹی ٹی1911ء تک 350سی سی جونئیر ٹی ٹی موٹرسائیکل اور 500سی سی سینئیر ٹی ٹی کے لیے دو دو انفرادی ریسوں تک پھیل چکی تھی۔
1915ء سے 1919ء تک پہلی جنگ عظیم کی وجہ سے ریس منعقد نہ ہوسکی اور 1920ء میں ہی اس کا دوبارہ آغاز ممکن ہوسکا۔ 1922ء میں اس میں 250 سی سی لائٹ ویٹ ٹی ٹی جب کہ 1923ء میں سائیڈ کار ریس کا اضافہ کیا گیا۔ 1940ء سے 1945ء تک دوسری جنگ عظیم کے باعث ریس ملتوی کرنا پڑی۔ 1946ء میں اس کا انعقاد بطور ’’مینکس گراں پری‘‘ کے طور ہر ہوا جب کہ 1947ء میں اسے ’’آئل آف مین ٹی ٹی‘‘ کا موجودہ نام دیا گیا۔ 1949ء سے 1976ء تک یہ ایف آئی ایم موٹر سائیکل گراں پری ورلڈ چیمپیئن شپ (موجودہ موٹو جی پی) کا بطور برٹش گراں پری حصہ رہی۔ 9جون 1972ء کو اطالوی سوار گلبرٹو پارلوٹی کی آٰئل آف مین ریس میں موت کے بعد ان کے ہم وطن اور گہرے دوست، جیاکومو آگسٹینی نے اعلان کیا کہ وہ دوبارہ کبھی آئل آف مین میں شرکت نہیں کریں گے، جلد ہی دیگر موٹر سائیکل سواروں نے بھی اس کا بائیکاٹ شروع کردیا۔
چناںچہ 1976ء میں اسے موٹو جی پی سے نکال لیا گیا۔ 1962ء میں بیرل سوئین اس میں حصہ لینے والی پہلی خاتون سوار بنیں جس کی وجہ سے 1962ء سے 1977ء تک اس میں خواتین کی شرکت پر پابندی لگی رہی, تاآں کہ ہیلری موسون نے 1978ء میں اس میں شرکت نہ کرلی۔ اس میں شرکت کرکے فتوحات سمیٹنے والے عظیم موٹرسائیکل سواروں میں مائیک ہیل وڈ (14 فتوحات)، جیاکومو آگسٹینی (13 فتوحات) فِل ریِڈ (8 فتوحات)، جیف ڈیوک (6 فتوحات) اور کارل فوگارٹی (3 فتوحات) شامل ہیں۔
آئل آف مین انتظامیہ نے 1976ء میں موٹو جی پی سے الگ ہونے کے بعد فارمولا ٹی ٹی کے نام سے نئی چیمپین شپ کا آغاز کیا۔ اس میں تین کلاس ہوتی تھیں، فارمولا 1فارمولا 2 اور فارمولا 3۔ یہ چیمپیئن شپ 1990ء میں ختم کردی گئی۔ 1989ء میں آئل آف مین کی وزارت سیاحت نے اسے بطور ’’آئل آف مین ٹی ٹی میلے‘‘ کے منانا شروع کیا۔ اس میں نئے ریسنگ ایونٹ شامل تھے جیسے کہ قبل-از ٹی ٹی کلاسک ریس، جو 1989ء میں شروع ہوئی اور بعد از ٹی ٹی ریس جو 1991ء میں شروع ہوئی۔ یہ دونوں ریسیں، بیلوآن سرکٹ پر منعقد ہوتی تھیں۔ 2022ء کے ایونٹ سے قبل کلاسک ٹی ٹی برانڈ ختم کر دیا گیا اور تاریخی کلاسز کی ریسز کو مینکس گراں پری میں شامل کر دیا گیا۔
کوویڈ-19 وبا کے سبب 2020ء اور 2021ء کے ایونٹ ملتوی کر دیے گئے تھے۔
ریکارڈز
٭ پہلی ریس:1907ء
٭ پہلے فاتح:ریم فاؤلر
٭ مجموعی تعداد (ریس): 106,2025ء تک
٭ سب سے زیادہ فتوحات: 33 مائیکل ڈنلوپ (2007ء سے حال تک)
٭ جوئی ڈنلوپ, 26 (1977ء سے 2000ء تک)
٭ سب سے زیادہ فتوحات (سائیڈ کار): ڈیو مولینو, 17 (1985ء سے حال تک)
نوٹ: ڈیو خود بھی آئل آف مین کے شہری ہیں۔
٭ آئل آف مین ٹی ٹی کی تاریخ کا تیز ترین چکر پیٹر ہک مین نے 2023ء میں سپر سٹاک ریس کے دوران مکمل کیا، جس کی اوسط رفتار 136.358 میل فی گھنٹہ رہی اور یہ ریکارڈ تمام کلاسز میں سب سے تیز ہے۔
٭ چکر کا بہترین وقت (سپر اسٹاک کلاس): پیٹر ہِک مین (2023ء), 16 منٹ, 36 اشاریہ 114 سیکنڈ یا 136.358 میل فی گھنٹہ (219.447 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی اوسط رفتار
٭ سپر بائیک کلاس: مائیکل ڈنلوپ (2024ء) 16 منٹ, 38 اشاریہ 953 سیکنڈ یا 135.970 میل فی گھنٹہ (218.823 کلومیٹر فی گھٹہ) کی اوسط رفتار
٭ سینئر کلاس: پیٹر ہِک مین: (2023ء) 16 منٹ, 42,اشاریہ 367 سیکنڈ یا 135.507 میل فی گھنٹہ (218.077 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی اوسط رفتار
٭ سپر سپورٹ کلاس: مائیکل ڈنلوپ, (2023ء) 17 منٹ, 21 اشاریہ 605 سیکنڈ یا 130.403 میل فی گھنٹہ (209.869 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی اوسط رفتار
٭ سپر ٹوئنز کلاس: مائیکل ڈنلوپ (2025ء) 18 منٹ, 23 اشاریہ 790 سیکنڈ یا 123.056 میل فی گھنٹہ (198.039 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی اوسط رفتار
٭ سائیڈ کار کلاس: رائن اور کیلم کرو (2025ء) 18 منٹ, 42 اشاریہ 350 سیکنڈ یا 121.021 میل فی گھنٹہ (194.764 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی اوسط رفتار
ریسنگ کے کم و بیش سبھی ماہرین اسے دنیا کی خطرناک ترین ریس مانتے ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے 2017ء میں لکھا تھا کہ 1907ء سے لے کر اب تک یہاں 146 (اب 156) اموات ہو چکی ہیں اور اگر مینکس جی ہی میں ہونے والی اموات بھی اس میں شامل کی جائیں تو یہ تعداد 250 (اب 269) سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ سپورٹس السٹریٹیڈ کے فرانز لنڈز نے 2003ء میں کہا تھا کہ ’’رفتار اور اعصاب کا یہ آخری امتحان، کھیلوں کی تاریخ میں سب سے خطرناک ہے۔‘‘
حفاظتی خدشات کے سبب ایونٹ پر کافی تنقید بھی ہوتی رہی ہے۔ 2007ء کی سنیئر ریس کے دوران ایک حادثے میں سوار اور دو تماشائیوں کی موت کے بعد جو تفتیش ہوئی اس میں کئی مشاہدات و تجاویز سامنے آئیں۔ جیسے کہ ریس کے منتظمین جو کہ عموماً رضاکار ہوتے ہیں, کے بارے میں کہا گیا کہ ’’ریس کے منتظمین سے ان کی صلاحیتوں سے بڑھ کے کام لیا جاتا ہے۔‘‘
27 جون 1911ء کو آئل آف مین ٹی ٹی میں پریکٹس کے دوران گلین ہیلن کے مقام پر حادثے کا شکار ہونے والے انگلینڈ کے وکٹر سریج اس ریس میں ہلاک ہونے والے پہلے فرد تھے۔ یہی نہیں, وہ شاید آئل آف مین جزیرے پر کسی موٹر سائیکل حادثے میں ہلاک ہونے والے بھی پہلے فرد تھے۔
2005ء کا سال مہلک ترین رہا جب 11 افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے 3 سوار اور ایک مارشل جون کی ریس میں جبکہ 6 سوار اور ایک راہ گیر اگست/ستمبر کی مینکس گراں پری میں ہلاک ہوئے۔ 1937ء کے بعد سے صرف 1982ء اور 2024ء کے سال ہی کسی مہلک حادثے کے بغیر گزرے ہیں۔
نوٹ: 2024ء میں اگرچہ ٹی ٹی ریس میں تو کوئی ہلاکت نہیں ہوئی لیکن مینکس گراں پری میں ہلاکتیں ہوئی تھیں، صرف 1982ء ہی ایسا سال ہے جہاں دونوں ایونٹ میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔
اب تک مجموعی طور پر 286 افراد آئل آف مین ٹی ٹی کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں سے 270 سوار (269 موٹر سائیکل جبکہ 1 کار سوار) اور 16 عام افراد شامل تھے (ریس انتظامیہ,شائقین اور راہ گیر)
ان میں سے 118 کا تعلق برطانیہ سے تھا اور یوں برطانیہ یہاں اپنے شہری گنوانے والا سب سے بڑا ملک ہے جب کہ بطور ایک وفاق، یونائیٹیڈ کنگڈم, 207 شہریوں کی اموات کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔