ایران نے دو ماہ سے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے جس سے دنیا بھر میں پیٹرول کی قلت ہوگئی اور قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں تاہم ایک ملک ایسا بھی ہے جسے اس صورت حال میں سب سے زیادہ فائدہ ہوا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی پابندیوں کے شکار روس کو اپریل 2026 میں تیل اور گیس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں 39 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اس بات کا دعویٰ روس کے روزنامے کومرسانت نے روسی وزارت خزانہ کی رپورٹ کے تناظر میں کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مارچ اور اپریل میں اوسط قیمت بجٹ میں مقرر کردہ 59 ڈالر فی بیرل سے نمایاں طور پر زیادہ رہی ہے۔
مارچ میں یورالز کروڈ کی قیمت 77 ڈالر فی بیرل اور اپریل میں 94.9 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ ٹیکس ادائیگیاں ایک ماہ کی تاخیر سے کی جاتی ہیں۔ اس لیے مئی میں اضافی آمدن کے بڑھنے کا امکان بھی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مئی میں ادا کیے جانے والے تیل و گیس ٹیکس اسی بنیاد پر شمار کیے جائیں گے تاہم اس میں اضافی آمدن پر ٹیکس شامل نہیں ہوگا۔
خیال رہے کہ اقتصادی ترقی کی وزارت کے ماہانہ اعداد و شمار کے مطابق سال کے پہلے چار مہینوں میں یورالز کروڈ کی اوسط قیمت بھی اس سطح سے زیادہ یعنی 64.4 ڈالر فی بیرل رہی۔
گو کہ سال بہ سال موازنہ میں موجودہ صورتِ حال اتنی بہتر نہیں لگتی تاہم توقع ہے کہ یہ فرق کم ہو جائے گا کیونکہ گزشتہ سال اپریل سے تیل کی قیمتیں گرنا شروع ہو گئی تھیں اور دسمبر میں 39.2 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھیں۔
دوسری جانب بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے بتایا کہ مارچ میں روسی پیداوار میں کمی نہیں آئی بلکہ یہ فروری کے 8.67 ملین بیرل یومیہ سے بڑھ کر 8.96 ملین بیرل یومیہ ہوگئی۔
اسی طرح ایک اور عنصر جو حتمی آمدن کو متاثر کر سکتا ہے وہ روبل کی شرحِ مبادلہ ہے جو تیل اور گیس کے بنیادی ٹیکس یعنی معدنی وسائل نکالنے کے ٹیکس کے حساب کے فارمولے میں شامل ہے۔