صومالیہ میں 23 روز سے قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بحری جہاز پر سوار پاکستانیوں کے اہل خانہ نے پیاروں کی بازیابی کیلیے مظاہرہ کیا اور حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ بھی کیا۔
آنر 25 جہاز پر یرغمال بنائے گئے پاکستانیوں کے اہل خانہ، بچے، بوڑھے، خواتین اور نوجوان کیماڑی میں قائم نیٹی جیٹی پُل پر جمع ہوئے اور کہا کہ حکومت کی جانب سے کوئی اقدامات نہیں کیے جارہے اور نہ ہی کوئی رابطہ کیا گیا ہے۔
بحری جہاز پر یرغمال بنائے گئے سید یوسف حسین کے بھانجے طالب رضا نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر اپنی ذمہ داری ادا کرے کیونکہ اُس نے اب تک کوئی ذمہ داری ادا نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ یرغمال پاکستانیوں کی فیملیز دربدر کی ٹھوکریں کھارہی ہیں، ہم اپنے پیاروں کی بحفاظت واپسی کیلیے کبھی پریس کانفرنس کرتے ہیں تو کبھی مظاہرے کررہے ہیں مگر حکومت ذمہ داری ادا کرنے کو تیار نہیں ہے۔
طالب نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر اپنی ذمہ داری ادا کرے اور اعلیٰ سطح کا کمیشن تشکیل دے کر فوکل پرسن تعینات کرے جو اہل خانہ سے رابطے میں رہے اور ریاست کی طرف سے داد رسی کرے اور یقین دہانی کرائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی تو پھر گھر کے بچے بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل صومالی قزاقوں نے سماجی رہنما انصار برنی سے رابطہ کر کے واضح کیا تھا کہ ہم صرف حکومتی نمائندے سے بات کریں گے۔
سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم پاکستان کے رکن اسمبلی معاذ محبوب نے پاکستانیوں کی بازیابی کیلیے قرارداد جمع کرائی جبکہ سابق رکن قومی اسمبلی سلمان مجاہد ایڈوکیٹ نے اپنے ایک بیان میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فیلڈ مارشل سے اس معاملے میں کردار ادا کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔