عالمی سیاست کے افق پر بعض اوقات ایسے لمحات نمودار ہوتے ہیں جو محض سفارتی ملاقاتیں نہیں رہتے بلکہ آنے والے برسوں کی بین الاقوامی سمت کا تعین کرنے والے اشارے بن جاتے ہیں۔ بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی حالیہ ملاقات بھی اسی نوع کی ایک پیش رفت دکھائی دیتی ہے، جس کے اثرات صرف واشنگٹن اور بیجنگ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مشرق وسطیٰ، عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں، بحری راستوں، ٹیکنالوجی کی دوڑ اور عالمی طاقت کے توازن تک محسوس کیے جائیں گے۔ ایسے وقت میں جب دنیا یوکرین جنگ، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، ایران کے جوہری تنازع، تائیوان کے مسئلے اور عالمی معاشی بے یقینی کے دباؤ سے گزر رہی ہے، دو بڑی معاشی قوتوں کا تصادم سے گریز اور تعاون کی زبان اختیار کرنا محض سفارتی جملہ آرائی نہیں بلکہ ایک گہری مجبوری بھی ہے۔
شی جن پنگ کا یہ کہنا کہ امریکا اور چین کو حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے، دراصل اس بدلتی ہوئی حقیقت کا اعتراف ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں مکمل محاذ آرائی کسی کے مفاد میں نہیں رہی۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران دنیا نے دیکھا کہ کس طرح تجارتی جنگوں، ٹیرف، ٹیکنالوجی پابندیوں، سپلائی چین کی رکاوٹوں اور جغرافیائی تنازعات نے عالمی معیشت کو مسلسل عدم استحکام سے دوچار رکھا۔ امریکا نے چین کے ابھار کو محدود کرنے کے لیے مختلف اقتصادی اور تزویراتی اقدامات کیے، جب کہ چین نے متبادل تجارتی اور مالیاتی ڈھانچے کھڑے کرنے کی کوشش کی، مگر اس کشمکش کے باوجود دونوں ممالک اس حقیقت سے فرار حاصل نہ کرسکے کہ ایک دوسرے کے بغیر عالمی معیشت کی رفتار برقرار رکھنا ممکن نہیں۔
بیجنگ میں ہونے والی گفتگو کی اصل اہمیت اس بات میں مضمر ہے کہ دونوں قیادتوں نے اختلافات ختم کرنے کے بجائے انھیں قابو میں رکھنے کی حکمت عملی اپنانے کا اشارہ دیا ہے۔ یہ ایک نہایت اہم فرق ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں اکثر اپنے بنیادی تنازعات ختم نہیں کرتیں بلکہ انھیں اس حد تک منظم کرتی ہیں کہ تصادم عالمی تباہی میں تبدیل نہ ہو۔ امریکا اور چین کے تعلقات بھی اب اسی مرحلے میں داخل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں جہاں مکمل اعتماد تو ممکن نہیں مگر مکمل دشمنی بھی ناقابل برداشت بن چکی ہے۔
اس ملاقات کے دوران تائیوان کا مسئلہ خصوصی اہمیت اختیار کرگیا۔ شی جن پنگ نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ اس معاملے پر کسی بھی غلط قدم سے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست تصادم کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ یہ انتباہ دراصل واشنگٹن کے لیے ایک سیاسی پیغام سے بڑھ کر ایک عسکری اشارہ بھی تھا۔ چین تائیوان کو اپنی علاقائی وحدت کا حصہ سمجھتا ہے جب کہ امریکا بظاہر’’ون چائنا پالیسی‘‘کی حمایت کے باوجود عملی طور پر تائیوان کی عسکری اور سیاسی پشت پناہی جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں مستقبل کا سب سے بڑا عالمی بحران جنم لے سکتا ہے۔ روس اور یوکرین کی جنگ نے یہ سبق ضرور دیا ہے کہ علاقائی تنازعات بھی عالمی معیشت اور سلامتی کو ہلا کر رکھ سکتے ہیں، لہٰذا واشنگٹن اور بیجنگ اس وقت کم از کم اتنا ضرور چاہتے ہیں کہ کشیدگی بے قابو نہ ہو۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال نے اس ملاقات کو مزید اہم بنا دیا۔ آبنائے ہرمز کے قریب جہازوں پر حملے، ایرانی اقدامات، بھارتی جہاز کے ڈوبنے کے واقعات اور عالمی بحری راستوں کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش نے دنیا کو یاد دلایا کہ توانائی کی ترسیل اب بھی عالمی سیاست کا سب سے حساس پہلو ہے۔ آبنائے ہرمز صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ دنیا کے تیل کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے یہاں معمولی کشیدگی بھی عالمی منڈیوں کو ہلا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ اور شی جن پنگ دونوں نے اس راستے کو کھلا رکھنے پر زور دیا۔ یہ بیان دراصل عالمی سرمایہ کاروں اور توانائی منڈیوں کو یقین دہانی کرانے کی کوشش بھی تھا کہ دونوں بڑی طاقتیں کسی بڑے بحران کو روکنے میں کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔
چین کی ایران کے حوالے سے پوزیشن نہایت دلچسپ اور محتاط رہی ہے۔ ایک طرف وہ تہران کا اہم اقتصادی شراکت دار ہے، دوسری جانب وہ مشرق وسطیٰ میں ایسی کسی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا جو اس کی توانائی ضروریات اور تجارتی راستوں کو متاثر کرے۔ چینی وزارت خارجہ کی جانب سے فوری اور دیرپا جنگ بندی پر زور اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ چین اب صرف ایک تجارتی طاقت نہیں رہا بلکہ وہ عالمی استحکام کے سوالات میں بھی اپنا کردار بڑھانا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیجنگ نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات بحال کرانے میں بھی کردار ادا کیا تھا۔ چین سمجھتا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ مسلسل آگ میں جلتا رہا تو اس کے’’ بیلٹ اینڈ روڈ‘‘منصوبے، توانائی کی سپلائی اور عالمی تجارتی خواب متاثر ہوں گے۔
امریکا بھی اس وقت ایک پیچیدہ تزویراتی الجھن میں گھرا ہوا ہے۔ واشنگٹن بیک وقت چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدود کرنا چاہتا ہے، ایران کو جوہری صلاحیت سے روکنا چاہتا ہے، روس کو یوکرین میں دباؤ میں رکھنا چاہتا ہے اور اپنے اتحادیوں کو بھی مطمئن رکھنا چاہتا ہے، مگر ان تمام اہداف کے حصول کے لیے اسے کسی نہ کسی درجے میں چین کے تعاون کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے چین کو ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے قائل کرنے کی امید ظاہر کی گئی۔ واشنگٹن جانتا ہے کہ تہران پر سب سے زیادہ اقتصادی اثر بیجنگ ہی ڈال سکتا ہے، کیونکہ ایرانی تیل کا بڑا خریدار چین ہے۔
یہ پہلو انتہائی اہم ہے کیونکہ موجودہ عالمی مقابلہ اب صرف فوجی طاقت کا نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی برتری کا ہے۔ مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، چپ سازی، سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر آیندہ عالمی طاقت کے بنیادی ستون بننے جا رہے ہیں۔ امریکا کو خدشہ ہے کہ اگر چین ان شعبوں میں مکمل خودکفالت حاصل کرگیا تو عالمی طاقت کا توازن بنیادی طور پر تبدیل ہوسکتا ہے۔ دوسری طرف چین سمجھتا ہے کہ امریکی پابندیاں دراصل اس کی معاشی ترقی کو روکنے کی کوشش ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیکنالوجی اب نئی سرد جنگ کا سب سے اہم میدان بن چکی ہے۔
امریکا اور چین کے تعلقات کی سب سے دلچسپ جہت یہ ہے کہ دونوں بیک وقت ایک دوسرے کے حریف بھی ہیں اور ناگزیر شراکت دار بھی۔ عالمی معیشت کی ساخت اس انداز میں تشکیل پاچکی ہے کہ مکمل علیحدگی تقریباً ناممکن ہے۔ امریکی صارف منڈی، چینی پیداواری صلاحیت، عالمی سپلائی چین اور مالیاتی نظام ایک دوسرے سے اس حد تک جڑے ہوئے ہیں کہ کوئی بھی بڑا تصادم پوری دنیا کو معاشی بحران میں دھکیل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سخت بیانات، پابندیوں اور جغرافیائی کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک رابطے کے دروازے بند نہیں کرتے۔
یہ امر بھی اہم ہے کہ دنیا اب سرد جنگ کے روایتی دو قطبی نظام کی طرف واپس نہیں جا رہی بلکہ ایک زیادہ پیچیدہ اور کثیرالجہتی دور میں داخل ہو رہی ہے۔ امریکا بدستور سب سے بڑی فوجی طاقت ہے، چین معاشی اور صنعتی قوت کے طور پر ابھر چکا ہے، روس عسکری اثر رکھتا ہے، یورپ داخلی تقسیم کا شکار ہے جب کہ مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا نئی صف بندیوں سے گزر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں کسی ایک طاقت کے لیے مکمل غلبہ قائم کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اسی لیے تعاون اور مقابلے کا امتزاج مستقبل کی عالمی سیاست کا بنیادی وصف بن سکتا ہے۔
بیجنگ ملاقات کے بعد یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ امریکا اور چین کے درمیان ایک نئے دور کا آغاز ہوگیا ہے، کیونکہ بنیادی اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں۔ تائیوان، ٹیکنالوجی، بحیرہ جنوبی چین، تجارتی توازن اور عالمی اثر و رسوخ کے مسائل فوری طور پر حل ہونے والے نہیں۔ تاہم اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ دونوں قیادتوں نے کم از کم اتنا ضرور محسوس کیا ہے کہ دنیا مزید محاذ آرائی کی متحمل نہیں ہوسکتی، اگر یہ احساس مستقل سفارتی رابطوں، اقتصادی تعاون اور بحرانوں کے نظم میں تبدیل ہوجاتا ہے تو شاید عالمی سیاست ایک خطرناک تصادم سے بچ سکے۔
دنیا اس وقت جس غیر یقینی دوراہے پر کھڑی ہے، جہاںطاقتور ممالک کی ذمے داری صرف اپنے قومی مفادات تک محدود نہیں رہی۔ عالمی معیشت، توانائی، تجارت، ماحولیات، مصنوعی ذہانت اور سلامتی جیسے معاملات اب پوری انسانیت کے مشترکہ مسائل بن چکے ہیں، اگر بڑی طاقتیں ہر مسئلے کو صفر جمع صفر کی جنگ سمجھیں گی تو اس کا نتیجہ عالمی انتشار کی صورت میں نکلے گا، اگر مقابلے کے باوجود تعاون کی گنجائش باقی رکھی گئی تو شاید دنیا ایک زیادہ متوازن اور قابل برداشت نظام کی طرف بڑھ سکے۔ بیجنگ میں دیے گئے بیانات اسی امکان کی دھندلی مگر اہم جھلک دکھاتے ہیں۔