ان دنوں پریس اورصحافیوں کے بارے میں ایک مرتبہ پھر بیانات کاسلسلہ چل نکلا ہے جس میں پریس کی آزادی اورصحافیوں کی فلاح وبہبود کی خوش خبریاں گونج رہی ہیں ۔
ہم صحافی تو نہیں بن پائے حالانکہ پریس کلب کے بنیاد گروں میں سے ایک ہم بھی ’’کبھی‘‘ ہوا کرتے تھے، اس پریس کلب کے پہلے انتخاب کے پریزائیڈنگ آفیسر ہم تھے لیکن باوجود کوشش کے آج تک اس کے ممبر نہیں بن پائے لیکن پھر بھی ۔
واں کے نہیں یہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں
کعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دورکی
کعبے پر ایک اور بڑا خوبصورت شعر یادآیا ۔ قابل اجمیری کا یہ شعر بھی حسب حال ہے ۔
لوگ کعبے سے اٹھا لائے ہزاروں تحفے
ہم سے ایک بت بھی نہ لایا گیا بت خانے سے
بلکہ ایک اورشعر اس سے بھی زیادہ ہمارا حسب حال ہے کہ
کعبے میں ہراک سجدے کوکہتے ہیں عبادت
مے خانے میں ہرجام کو ساغر نہیں کہتے
اور اب تو امید ہی قطع ہوگئی ہے قسمت میں یہی لکھا ہے تویہی سہی نہ تین میں نہ تیرہ میں ۔نہ ہیوں میں نہ شیوں میں۔
پریس والوں کے پاس جاتے ہیں تو وہ دور پرے کہہ کر ادیبوں کی طرف دھکیلتے ہیں، ادب والے دیکھ کر ناک بھوں چڑھاتے ہیں کہ تم ادیب تو نہیں کالم نگار ہو خیر اب ہم نے بھی صبرکرلیا ہے یہ نہ تھی ہماری قسمت۔
لیکن ہم تو انھیں اپنا سمجھتے ہیں اور ان کی خوشی میں خوش ہیں ، اب کے یہ جو بیانوں کا سلسلہ چلا ہے اورپریس یا میڈیا کو طرح طرح کے ’’طغرے‘‘ باندھے جا رہے ہیں اوران کے غم میں سارے بیان نہ صرف دبلے بلکہ پتلے بھی ہورہے ہیں ۔ یہ تو معلوم نہیں ہو پایا کہ صحافیوں کے گھر بلکہ دہلیز پر پہنچانے کے لیے کیاکیا لادا گیا ہے یا لادا جارہا ہے لیکن جو بات ہماری ’’سمجھ دانی ‘‘ میں آئی ہے، وہ یہ ہے کہ پریس کو مکمل آزادی حاصل ہے اور یہ بات بالکل سچ ہے پریس کو مکمل آزادی حاصل ہے بلکہ ہم نے جب موازنہ کیا تو پریس کو اتنی بلکہ اس سے بھی زیادہ آزادی حاصل ہے جتنی نہیں ہے، بلکہ اب تو یہ حالت ہوگئی ہے کہ ایک کلومیٹر تک جانا ہو تو بجٹ میں کٹوتی کرنا پڑتی ہے۔
اس دن ہم ایک پڑوسی گاؤں میں فاتحہ کے لیے گئے، ڈیڑھ کلومیٹر کافاصلہ تھا ایک ہزار کا پیڑول ڈلوایا لیکن واپسی میں آدھا کلومیٹر رہتا تھا کہ پیڑول ختم ہوگیا لیکن لندن کے ہائیڈپارک کے بارے میں پڑھا بھی بہت ہے اورسنا بھی بہت ہے کہ وہاں کسی پر کوئی پابندی نہیں جس کا جو جی چاہے کہہ سکتا ہے اورکہتا رہتا ہے ۔بس تھوڑی سی قباحت یہ ہے کہ ’’سننے والا‘‘ کوئی نہیں سب کہنے والے ہوتے ہیں اورجی بھر کربولتے رہتے ہیں اوریہی بات آج کے میڈیا کو ہائیڈپارک کی مماثلت عطا کرتی ہے، دونوں مقامات پر کہنے والے ہی پائے جاتے ہیں، سننے والا کوئی پورا تو کیا آدھا بھی نہیں پایا جاتا۔اورہمارے ملک میں تو میڈیا اور پریس کے علاوہ بھی آزادی کا یہ عالم ہے کہ ہر ہرشہر،ہرہربازار ،ہرہرگلی اورہرہر کوچے میں ’’ہائیڈپارک‘‘ قائم ہے۔
ہم نے ایک روز چاہا کہ کسی سے کچھ کہیں یعنی کوئی سننے والا ملے لیکن جسے بھی ہم کان دیکھ کر سننے والا سمجھتے وہ کہنے والا نکلتا، آخر مایوس ہوکرگھر آگئے اور شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر خود ہی سے کہا جو کہنا ہے کہہ ڈالے ، ایک سننے والا تو ملا ،اب اسی سے گزارہ کریں گے ۔ہمیں تو اب یہ ڈر رہنے لگا ہے کہ کہیں کانوں کے عدم استعمال کی وجہ سے لوگ کانوں ہی سے محروم نہ ہوجائیں، کیوں کہ یہ تو ہرکوئی مانتا ہے کہ جن اعضاء کااستعمال نہیں کیا جاتا وہ معدوم ہوجاتے ہیں جیسے سانپ کے پیر اورکان ، بچھو کی آنکھیں ، گدھے کے سینگ اورانسان کی دم غائب ہوچکی ہے ۔
دراصل پاکستان میں حکومتوں اور پارٹیوں کی فراوانی ، لوگوں کی بے پناہ دینداری اورلاؤڈ اسپیکروں کی بہتات نے لوگوں کو اتنا نیک اوردیندار بنایا ہوا ہے کہ ہرکسی کو دوسروں کو راہ حق دکھانے کاجذبہ اتنا زیادہ ہے کہ خود اپنے آپ تک فراموش کرکے دوسروں کوراہ حق دکھانے میں لگا ہوا ہے یہاں تک کہ انتہائی معروف کاروباری لوگ ، مصروف ترین سرکاری افسر اوردکاندار بھی اپنا کام چھوڑ کر اس نیک کام میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں ۔ اب جب پریس کی آزادی بھی بے پناہ ہے ایسے میں ہرکسی کو آزادی حاصل ہوچکی ہے، وہ دن گئے جب کتے ایک ملک سے دوسرے ملک محض اس لیے ہجرت کرتے تھے کہ وہاں بھونکنے کی آزادی ہوتی تھی۔
یہ لطیفہ ایوب خان کے دورمیں مشہور ہوا تھا کہ ایک کتے کی بارڈر پر دوسرے سے ملاقات ہوئی ، ایک نے دوسرے سے پوچھا کہاں جارہے ہو بھائی، تو دوسرے نے کہا تمہارے ملک میں آکر رہنے کاارادہ رکھتا ہوں ۔ پہلے والے نے کہا، ہمارے ملک میں تو تمہارے ملک سے بھی زیادہ بھوک اورافلاس ہے تو دوسرے نے کہامجھے پتہ ہے لیکن وہاں کم ازکم بھونکنے کی آزادی تو ہے ۔اب اگر اس نقطہ نظر سے دیکھاجائے تو آج کل ہرطرف ہرجگہ آزادی ہی آزادی ہی آزادی ہے ۔لیکن یہ بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ اس آزادی کے پیچھے کتنی بڑی پابندی اورغلامی چھپی ہوئی ہے کہ پابندیاں منہ اورزبان پر نہیں ہیں بلکہ آکسیجن پائپ پر کتنا بڑا پیر رکھا ہوا ہے ۔
اس نے اپنا بنا کے چھوڑ دیا
کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے