جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے بین الصوبائی منشیات فروش انمول عرف پنکی کیخلاف بغدادی تھانے میں درج قتل کے مقدمے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈیوٹی جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی جانب سے آج کی سماعت کے تحریری حکم نامے میں لکھا گیا ہے کہ ملزمہ انمول نے پولیس کی جانب سے تشدد کی کوئی شکایت نہیں کی۔
تحریری حکم نامے میں لکھا گیا ہے کہ تفتیشی افسر نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جبکہ تفتیشی افسر کا کہنا تھا ملزمہ منشیات کا ایک بڑا نیٹ ورک پاکستان میں آپریٹ کررہی تھی۔
تحریری حکمنامہ میں لکھا گیا کہ تفتیشی افسر کے مطابق ملزمہ کے منظم نیٹ ورک چلارہی ہے جبکہ جاں بحق شخص کے پاس سے ملزمہ کی فراہم کردہ منشیات برآمد ہوئی۔
عدالت نے لکھا کہ پولیس کے مطابق مزید ملزمان کی گرفتاری کے لئے ملزمہ کی تفتیشی ضروری ہے، وکیل صفائی میر ہدایت اللہ ایڈووکیٹ نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی اور کہا کہ ملزمہ کا منشیات کی ڈبیوں کے ساتھ لینا دینا نہیں ہے۔
تحریری حکم نامے میں لکھا گیا کہ وکیل صفائی نے کہا کہ ملزمہ کے قبضے سے کوئی بھی اس طرح ہی ڈبی برآمد نہیں ہوئی تھی جبکہ ملزمہ پچھلے 22 دنوں سے پولیس کی تحویل میں ہے اور اُس سے من گھڑت بیانات دلوائے جارہے ہیں جبکہ ڈبیوں سے درج نام اور برانڈ جعل سازی پر مبنی ہے۔
تحریری حکم نامے میں لکھا گیا کہ مذکورہ مقدمہ قتل کا ہے اور ابتدائی شواہد کی بنیاد پر مزید تفتیش ضروری ہے، ابتدائی شواہد بظاہر ملزمہ کے خلاف موجود ہیں۔
عدالت نے ملزمہ کو دو دن کے جسمانی ریمانڈ پر بغدادی پولیس کی تحویل میں دیتے ہوئے 18 مئی کو متعلقہ کورٹ میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔
عدالت نے حکم میں لکھا کہ پولیس شفاف اور قانون کے مطابق تفتیش کرکے پیش رفت رپورٹ بھی پیش کرے۔