لبنان میں قابض اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے جانبازوں کے درمیان گھسمان کی جھڑپیں جاری ہیں جب کہ کل ہی جنگ بندی میں مزید 45 دن کی توسیع ہوئی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ لبنان کے جنوبی علاقے میں حزب اللہ نے بارود سے بھرے خطرناک ڈرون سے اسرائیلی فوج پر حملہ کیا۔
حزب اللہ کے اس حملے میں اسرائیلی فوج کا ایک افسر مارا گیا جس کی کی شناخت 24 سالہ کیپٹن ریکاناتی کے نام سے ہوئی اور وہ گولانی بریگیڈ کی 12ویں بٹالین میں پلاٹون کمانڈر تھا۔ جو جنوبی لبنان میں تعینات تھی۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ 16 اپریل کو جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے جنوبی لبنان میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 7 ہوگئی جبکہ مارچ سے اب تک 20 فوجی مارے گئے۔
ترجمان اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حزب اللہ ایرانی حمایت سے جدید ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی پہلی بار 16 اپریل 2026 کو امریکی ثالثی میں ہی عمل میں آئی تھی۔ یہ 10 روزہ سیزفائر پر تھا جس کے اختتام پر تین ہفتوں کی توسیع کی گئی تھی۔
جس کے بعد سے امریکا میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کے دور ہوئے جس میں امریکی وزارت خارجہ نے کلیدی کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کو مزید 45 دن کی توسیع پر راضی کرلیا۔
یوں تو جنگ بندی 16 اپریل سے جاری ہے لیکن اس کے باوجود لبنان اور اسرائیل میں جھڑپیں مکمل طور پر نہیں رک سکیں۔ اسرائیل مسلسل حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے کرتا رہا جبکہ حزب اللہ کی جانب سے بھی راکٹ اور ڈرون حملوں ہوتے رہے۔
لبنان کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کو جنوبی لبنان سے مکمل انخلا کرنا چاہیے اور حملے بند کرنے چاہییں جبکہ اسرائیل کا مطالبہ ہے کہ پہلے حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جائے۔
خیال رہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی معاہدے میں حزب اللہ نے اب تک براہ راست مذاکرات میں شرکت نہیں کی ہے اور ہتھیار ڈالنے سے بھی انکار کیا ہے حالانکہ وہ لبنانی پارلیمان کا حصہ بھی ہیں۔