کراچی:
انمول عرف پنکی نے جوڈیشل کمپلیکس پیشی کے موقع پر آج بھی شور شرابہ کیا اور کچھ نئے نام بھی اگل دیے۔
پولیس کی جانب سے سیکیورٹی وجوہات پر منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کو بغدادی تھانے میں منشیات کے استعمال اور قتل سے متعلق کیس میں جوڈیشل کمپلیکس پہنچایا گیا۔
ملزمہ کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو سخت سیکیورٹی میں پیش کیا گیا، جہاں پولیس کی جانب سے انمول عرف پنکی کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔ اس موقع پر میڈیا اور عام افراد کو اندر آنے جانے سے روک دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ آج صبح درخشاں پولیس کی جانب سے بھی سٹی کورٹ میں عدالتی ریمانڈ کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی گئی تھی۔
آج جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی کے موقع پر انمول عرف پنکی نے میڈیا کو دیکھ کر شور شرابہ کیا، تاہم پولیس نے میڈیا کے نمائندوں کو دھکیل کر قریب آنے سے روک دیا اور جیسے ہی ملزمہ نے بولنا شروع کیا تو پولیس کی جانب سے شور مچایا گیا۔
جوڈیشل کمپلیکس آمد پر ملزمہ نے تفتیشی افسر کو کمرہ عدالت میں دھمکیاں بھی دیں۔ پنکی نے کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی بات کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے تشدد کا نشانہ بنایا، ایس آئی او نے تھپڑ مارا ہے۔ مجھے آئی او نے دھمکیاں دیں اور کہا کہ منیب بٹ اور راجہ پرویز کا نام لینا ہے۔ مجھ سے کہا جا رہا ہے کہ ان کا نام لو۔
ملزمہ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے 20دن سے اُٹھایا ہوا ہے۔ مجھے ابھی ابھی اندر لاتے ہوئے ایس آئی او نے تھپڑ مارا ہے۔ اس موقع پر ملزمہ کی جانب سے لیاقت گبول نے وکالت نامہ عدالت میں دائر کردیا۔
بغدادی تھانے میں منشیات کے استعمال اور قتل سے متعلق کیس کی سماعت کے آغاز پر جج کے استفسار پر ملزمہ نے بتایا کہ میرا نام انمول ہے۔ دورانِ سماعت آئی او نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمہ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہے، مزید ریمانڈ دیا جائے۔
سماعت کے موقع پر میڈیا اور عام افراد کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا گیا اور بند کمرے میں سماعت جاری رہی۔