ٹیکس گوشوارے؛ صدر ٹرمپ نے 10 ارب ڈالر کے مقدمے میں تصفیہ کرلیا

اس تصفیے کے بدلے ایک خصوصی فنڈ قائم کیا جا رہا ہے جس کی مالیت 1.7 ارب ڈالر سے زائد ہوگی


ویب ڈیسک May 18, 2026
امریکی صدر نے حکومت کیساتھ 10 ارب ڈالر کے مقدمے میں تصفیہ کرلیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹیکس گوشواروں کے مبینہ غیرقانونی افشا کے معاملے پر امریکی محکمہ خزانہ اور انٹرنل ریونیو سروس (IRS) کے خلاف دائر 10 ارب ڈالر کے مقدمے میں حکومت کے ساتھ تصفیہ کر لیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق فریقین نے باہمی رضامندی کے ذریعے اس مقدمے کو نمٹانے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ مقدمہ جنوری 2026 میں فلوریڈا کی وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا تھا جس میں صدر ٹرمپ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ انٹرنل ریونیو سروس اور محکمہ خزانہ نے ان کے اور ان کے خاندان کے خفیہ ٹیکس ریکارڈ کی حفاظت میں سنگین غفلت برتی جس کے نتیجے میں ایک سرکاری کنٹریکٹر نے ان کی ٹیکس معلومات میڈیا کو لیک کر دیں۔

اس مقدمے میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ساتھ ان کے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر، ایرک ٹرمپ اور ٹرمپ آرگنائزیشن بھی مدعی تھے۔

عدالتی معاہدے کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں تاہم امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس تصفیے کے بدلے ایک خصوصی فنڈ قائم کیا جا رہا ہے جس کی مالیت 1.7 ارب ڈالر سے زائد ہوگی۔

بتایا جا رہا ہے کہ یہ فنڈ ان افراد کو بطور معاوضہ دینے کے لیے استعمال کیا جائے گا جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھیں سابق صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ کے دوران غیرقانونی طور پر نشانہ بنایا گیا۔

صدر ٹرمپ کی قانونی ٹیم نے ایک بیان میں کہا کہ انٹرنل ریونیو سروسز نے سیاسی مقاصد رکھنے والے ایک بے قابو ملازم کو صدر ٹرمپ، ان کے خاندان اور ٹرمپ آرگنائزیشن کی نجی مالی معلومات لیک کرنے کی اجازت دی۔

امریکی صدر کی قانونی ٹیم کے بقول ان نجی معلومات کو بعد میں امریکی میڈیا اداروں نے شائع کیا۔ جن میں خاص طور پر دی نیویارک ٹائمز اور پرو پبلیکا قابلِ ذکر ہیں۔

کیس کا پس منظر

صدر ٹرمپ کے ٹیکس گوشواروں کا معاملہ کئی برسوں سے امریکی سیاست کا اہم ترین تنازع رہا ہے۔ 2016 کے صدارتی انتخاب کے بعد ٹرمپ پہلے ایسے امریکی صدر بنے جنہوں نے اپنے مکمل ٹیکس گوشوارے عوام کے سامنے پیش نہیں کیے۔

صدر ٹرمپ کے ناقدین مسلسل مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ اپنی مالی تفصیلات ظاہر کریں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ ان کے کاروباری مفادات اور سیاسی فیصلوں میں کوئی تضاد تو موجود نہیں۔

یاد رہے کہ 2020 میں بھی امریکی میڈیا میں صدر ٹرمپ کے ٹیکس ریکارڈز کے کچھ حصے منظرِ عام پر آئے تھے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انھوں نے کئی برسوں تک بہت کم وفاقی ٹیکس ادا کیا۔

بعد ازاں انٹرنل ریونیو سروسز کے ایک کنٹریکٹر پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے خفیہ ٹیکس معلومات غیرقانونی طور پر میڈیا کو فراہم کیں۔ اس واقعے نے امریکی اداروں میں حساس معلومات کے تحفظ اور سیاسی استعمال سے متعلق شدید بحث چھیڑ دی تھی۔

ٹرمپ اور ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ انہیں سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنایا گیا، جبکہ ناقدین کہتے ہیں کہ ٹیکس ریکارڈز کی اشاعت عوامی مفاد میں تھی کیونکہ اس سے ایک حاضر سروس صدر کے مالی معاملات پر سوالات اٹھے۔

حالیہ تصفیہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ ایک بار پھر امریکی سیاست کے مرکز میں ہیں اور ان کی انتظامیہ مخالفین کے خلاف قانونی و سیاسی محاذ پر سرگرم دکھائی دے رہی ہے۔