امریکا میں مودی کے دوست گوتم اڈانی بڑی مشکل میں پھنس گئے؛ کروڑوں ڈالرز جرمانہ

گوتم اڈانی کی کمپنی نے امریکی پابندیوں اور اصول و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی کی


ویب ڈیسک May 18, 2026
گوتم اڈانی کی کمپنی پر امریکا میں کروڑوں ڈالرز کا جرمانہ

بھارت کے ارب پتی صنعت کار گوتم اڈانی کی کمپنی کو امریکا میں بڑے جرمانے کا سامنا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اڈانی انٹرپرائزز نے ایران پر عائد امریکی پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کے معاملے میں امریکی حکومت کو 27 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔

امریکی محکمہ خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ رقم ایک تصفیاتی معاہدے کے تحت ادا کی جائے گی تاکہ ایران سے متعلق پابندیوں کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات نمٹائی جا سکیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اڈانی انٹرپرائزز نے ایران سے متعلق پابندیوں کی 32 ممکنہ خلاف ورزیوں پر اپنی ممکنہ سول ذمہ داری ختم کرنے کے لیے معاہدہ کیا ہے۔

امریکا حکام کے بقول اڈانی انٹرپرائزز نے نومبر 2023 سے جون 2025 کے درمیان مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی کئی کھیپیں ایران سے خریدی تھیں۔

امریکی حکام کا مزید کہنا تھا کہ اڈانی انٹرپرائزز نے ایرانی گیس کی یہ خریداری ایسے وقت میں کی گئی جب امریکا نے ایران کی تیل و گیس کی برآمدات پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔

امریکی اداروں کی تحقیقات میں الزام لگایا گیا کہ اڈانی انٹرپرائزز کی بعض شپمنٹس کو تیسرے ممالک یا درمیانی کمپنیوں کے ذریعے منتقل کیا گیا تاکہ ایران سے خریداری کو چھپایا جا سکے۔

امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس تحقیقات کے دوران دوران عالمی شپنگ نیٹ ورکس، انشورنس دستاویزات اور مالیاتی لین دین کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

بھارت بزنس مین کی کمپنی اڈانی انٹرپرائزز کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم ذرائع کے مطابق کمپنی نے تصفیہ اس لیے قبول کیا تاکہ طویل قانونی جنگ، ممکنہ تجارتی پابندیوں اور عالمی مالیاتی دباؤ سے بچا جا سکے۔

امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ فوجداری سزا نہیں بلکہ سول تصفیہ ہے تاہم اس کے باوجود یہ معاملہ عالمی کاروباری حلقوں میں غیرمعمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

پس منظر: امریکا کی ایران پابندیاں

امریکا کئی برسوں سے ایران کی تیل، گیس اور پیٹروکیمیکل صنعت پر سخت معاشی پابندیاں عائد کیے ہوئے ہے۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران اپنی توانائی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی کو خطے میں اپنے اتحادی گروہوں اور عسکری پروگراموں کے لیے استعمال کرتا ہے۔

ان پابندیوں کے تحت دنیا بھر کی کمپنیوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ اگر وہ ایرانی تیل، گیس یا متعلقہ مصنوعات کی خریدوفروخت میں ملوث پائی گئیں تو انہیں امریکی مالیاتی نظام، ڈالر لین دین اور امریکی منڈی تک رسائی سے محروم کیا جا سکتا ہے۔

اسی وجہ سے بیشتر بین الاقوامی کمپنیاں ایران کے ساتھ براہِ راست کاروبار سے گریز کرتی ہیں تاہم بعض اوقات تیسرے ممالک، درمیانی تاجروں یا پیچیدہ شپنگ نیٹ ورکس کے ذریعے ایرانی مصنوعات عالمی منڈی تک پہنچتی رہی ہیں۔

اڈانی گروپ پہلے بھی تنازعات کی زد میں

یہ پہلا موقع نہیں جب اڈانی گروپ عالمی تنازع کا شکار ہوا ہو۔ 2023 میں امریکی سرمایہ کاری تحقیقی ادارے “ہنڈن برگ ریسرچ” نے اڈانی گروپ پر مالی بے ضابطگیوں، شیئر قیمتوں میں مبینہ ہیرا پھیری اور قرضوں کے غیرشفاف استعمال کے الزامات عائد کیے تھے، جس کے بعد گروپ کی مارکیٹ ویلیو میں اربوں ڈالر کی کمی آئی تھی۔

اگرچہ اڈانی گروپ نے ان الزامات کی تردید کی تھی، لیکن تازہ امریکی کارروائی نے ایک بار پھر گروپ کے بین الاقوامی کاروباری طریقہ کار پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔