مشرق وسطیٰ بحران اور پاکستان کی حکمت عملی

جدید دنیا میں جنگیں صرف میدانوں میں نہیں بلکہ ذہنوں میں بھی لڑی جاتی ہیں۔


ایڈیٹوریل May 19, 2026
امریکا جنگ بندی معاہدے کیلیے ایرانی تیل پر عائد پابندیاں نرم کرنے کو تیار

ایران اور امریکا کے درمیان جاری تناؤ اب محض دو ریاستوں کے اختلافات تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پورے خطے کی جغرافیائی سیاست، توانائی کے توازن، مسلم دنیا کی داخلی صف بندی اور عالمی طاقتوں کے عزائم کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔

ایسے میں تہران میں پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے درمیان ہونے والی طویل ملاقات کو محض رسمی سفارتی سرگرمی سمجھنا حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔ اس ملاقات میں جس انداز سے ایران نے پاکستان کے کردار کو سراہا، وہ اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ خطے کی بدلتی ہوئی بساط پر اسلام آباد کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

 ایرانی صدر کا یہ کہنا کہ پاکستان، عراق اور افغانستان نے اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی، دراصل ایک گہرا سیاسی پیغام ہے۔ یہ بیان اس تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے جب اسرائیل اور امریکا مسلسل ایران کو علاقائی سطح پر تنہا کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ تہران کو بخوبی احساس ہے کہ اگر اس کے ہمسایہ ممالک اس کے خلاف عسکری یا خفیہ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے لگیں تو ایران کی داخلی سلامتی شدید خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایران نے پاکستان کے کردار کو صرف سفارتی آداب کے طور پر نہیں بلکہ ایک اسٹرٹیجک ضرورت کے طور پر سراہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے اپنی سرزمین کو کسی پراکسی جنگ کے لیے استعمال نہ ہونے دینا ،دراصل اس پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت اسلام آباد گزشتہ برسوں سے خطے میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتا آ رہا ہے۔

ایرانی صدر کی جانب سے شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کا اعتراف اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب محض ایک خاموش مبصر نہیں بلکہ خطے کی سفارتی حرکیات میں ایک فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے حالیہ مہینوں میں جس محتاط حکمت عملی کا مظاہرہ کیا، اس نے خطے میں ممکنہ بڑے تصادم کے خطرات کو کسی حد تک محدود رکھا۔ پاکستان کی یہ پالیسی نہ صرف داخلی استحکام کے لیے ضروری ہے بلکہ اس کے معاشی مستقبل سے بھی جڑی ہوئی ہے۔

 دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جارحانہ انداز اس پورے بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جنگی تصاویر اور ویڈیوز کا اجرا صرف انتخابی یا جذباتی سیاست نہیں بلکہ نفسیاتی جنگ کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں جنگیں صرف میدانوں میں نہیں بلکہ ذہنوں میں بھی لڑی جاتی ہیں۔ جب ایک عالمی طاقت کا سربراہ سوشل میڈیا کو عسکری دھمکیوں کے اظہار کے لیے استعمال کرتا ہے تو اس کے اثرات سفارتی میزوں سے لے کر عالمی منڈیوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ ایران کے خلاف’’ طوفان سے پہلے کی خاموشی‘‘جیسی علامتی زبان دراصل ایک ایسا پیغام ہے جس کے ذریعے تہران پر نفسیاتی دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس حکمت عملی کا مقصد صرف ایران کو خوفزدہ کرنا نہیں بلکہ امریکی عوام، اسرائیلی اتحادیوں اور خلیجی ریاستوں کو یہ باور کرانا بھی ہے کہ واشنگٹن اب بھی خطے کی سب سے بڑی عسکری قوت ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کہ امریکا اور اسرائیل ممکنہ نئے حملوں کی تیاری کر رہے ہیں، خطے کے لیے خطرناک اشارہ ہے، اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو مشرق وسطیٰ ایک ایسی آگ میں دھکیل دیا جائے گا جس کے شعلے صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔

لبنان، شام، عراق، یمن اور خلیجی ریاستیں اس تصادم کی لپیٹ میں آ سکتی ہیں۔ عالمی معیشت بھی اس بحران سے محفوظ نہیں رہے گی کیونکہ آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کر سکتی ہے۔ دنیا پہلے ہی معاشی سست روی، مہنگائی اور جغرافیائی تناؤ کا شکار ہے، ایسے میں ایک نئی جنگ عالمی نظام کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

 یہ امر بھی نہایت اہم ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست نہیں بلکہ پاکستان کی ثالثی کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔ یہ پیش رفت سفارتی اعتبار سے پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی سمجھی جا سکتی ہے۔ ماضی میں عمان، قطر یا یورپی ممالک اکثر ایسے رابطوں میں کردار ادا کرتے رہے ہیں، لیکن اب پاکستان کا بطور ثالث سامنے آنا اس بات کی علامت ہے کہ عالمی طاقتیں بھی اسلام آباد کی اہمیت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، چین کے ساتھ اس کے تعلقات، اسلامی دنیا میں اس کا اثر اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال میں اس کا کردار اسے ایک قدرتی ثالث بناتا ہے۔

تاہم اس کردار کے ساتھ خطرات بھی وابستہ ہیں۔ پاکستان کو انتہائی محتاط توازن برقرار رکھنا ہوگا تاکہ وہ کسی ایک فریق کے قریب دکھائی دینے کے بجائے ایک قابلِ اعتماد ثالث کی حیثیت برقرار رکھ سکے۔امریکا کی جانب سے ایران کے لیے رکھی گئی پانچ سخت شرائط اس حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ واشنگٹن فی الحال برابری کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔ افزودہ یورینیم کی منتقلی، جوہری تنصیبات کو محدود کرنے اور منجمد اثاثوں میں صرف جزوی نرمی جیسی شرائط دراصل ایران کی دفاعی اور معاشی صلاحیت کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ بمباری کے نقصانات کا معاوضہ دینے سے انکار یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکا طاقت کی سیاست کو ہی اصل سفارتی ہتھیار سمجھتا ہے۔ ایران کے لیے یہ شرائط قبول کرنا داخلی سطح پر سیاسی خودکشی کے مترادف ہو سکتا ہے کیونکہ ایرانی قیادت پہلے ہی سخت گیر حلقوں کے دباؤ کا شکار ہے۔ تہران اگر مکمل پسپائی اختیار کرتا ہے تو اس سے نہ صرف حکومت کی داخلی ساکھ متاثر ہوگی بلکہ خطے میں اس کے اتحادی بھی کمزور پڑ سکتے ہیں۔

 لبنان سمیت تمام محاذوں پر کشیدگی کے خاتمے کی امریکی شرط بظاہر امن کی خواہش معلوم ہوتی ہے، لیکن اس کے پس منظر میں اسرائیل کی سلامتی کے تقاضے کارفرما دکھائی دیتے ہیں۔ امریکا جانتا ہے کہ حزب اللہ، حماس اور دیگر مزاحمتی گروہوں کی پشت پناہی ایران کی خطے میں سب سے بڑی طاقت ہے، اگر تہران ان محاذوں سے دستبردار ہو جاتا ہے تو اسرائیل کو خطے میں زیادہ آزادی حاصل ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اس مطالبے کو محض سفارتی شرط نہیں بلکہ اپنی تزویراتی گہرائی پر حملہ تصور کرتا ہے۔

ایران کی پوری علاقائی حکمت عملی انھی نیٹ ورکس کے گرد گھومتی ہے، اس لیے ان سے دستبرداری اس کے لیے آسان نہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کی تازہ دھمکیاں دراصل اسی دباؤ کی حکمت عملی کا تسلسل ہیں۔’’ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے‘‘جیسے جملے بظاہر مذاکراتی زبان معلوم ہوتے ہیں، مگر ان کے پس منظر میں عسکری طاقت کا سایہ نمایاں ہے۔ ٹرمپ کی سیاست ہمیشہ طاقت کے مظاہرے، غیر متوقع بیانات اور نفسیاتی دباؤ کے گرد گھومتی رہی ہے۔

وہ جانتے ہیں کہ ایران جیسی ریاست کے ساتھ محض روایتی سفارت کاری سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہے، اس لیے وہ دھمکی اور مذاکرات کو بیک وقت استعمال کرتے ہیں۔ تاہم تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ ایران بیرونی دباؤ کے سامنے فوری جھکاؤ اختیار نہیں کرتا۔ ایرانی سیاسی نظام کی ساخت ہی مزاحمت، قومی وقار اور انقلابی بیانیے پر قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر امریکی دھمکی ایران کے اندر قوم پرستانہ جذبات کو مزید تقویت دیتی ہے۔

 اس پوری صورتحال میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی ممکنہ علاقائی تصادم سے محفوظ رکھے۔ پاکستان کی مغربی سرحد پہلے ہی دہشت گردی، اسمگلنگ اور سیاسی بے چینی کا شکار ہے، اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے اثرات بلوچستان اور قبائلی علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسی طرح لاکھوں افغان مہاجرین، سرحدی تجارت اور توانائی کے منصوبے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کی کوشش یہی ہوگی کہ سفارت کاری کے ذریعے تنازع کو محدود رکھا جائے اور خطے کو کسی بڑے تصادم سے بچایا جا سکے۔ عالمِ اسلام کے تناظر میں بھی یہ بحران غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

 آج دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں جنگ اور امن کے درمیان فاصلہ چند بیانات، چند میزائلوں یا چند سفارتی اشاروں پر منحصر رہ گیا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری رسہ کشی اگرچہ بظاہر مذاکرات اور دھمکیوں کے درمیان معلق دکھائی دیتی ہے، مگر اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ یہ کشمکش صرف دو ممالک کی نہیں بلکہ ایک ایسے عالمی نظام کی علامت ہے جو مسلسل عدم استحکام، طاقت کے ارتکاز اور نئی صف بندیوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کے لیے اس صورتحال میں سب سے بڑی کامیابی یہی ہوگی کہ وہ اپنی سفارتی ساکھ، داخلی استحکام اور علاقائی توازن کو برقرار رکھتے ہوئے امن کے امکانات کو زندہ رکھے، کیونکہ جنگیں ہمیشہ میدانوں میں نہیں بلکہ معیشتوں، معاشروں اور نسلوں کے مستقبل میں بھی لڑی جاتی ہیں۔