انمول پنکی کو عدالت میں پروٹوکول دینے پر اعلیٰ افسران بھی زد میں آ گئے

انکوائری کے دوران عدالت میں پنکی کو موبائل فون دینے کا انکشاف



کراچی:

کوکین گینگ کی سرغنہ انمول عرف پنکی کی عدالت میں پہلی پیشی کے دوران غیر معمولی پروٹوکول دیئے جانے کے معاملے پر کراچی پولیس چیف آزاد خان کی جانب سے نامزد کیے جانے والے انکوائری افسر ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے اپنی رپورٹ مکمل کر کے اعلیٰ حکام کو ارسال کردی۔

اس حوالے سے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں پولیس اہلکاروں اور افسران کی جانب سے سنگین غفلت اور لاپرواہی کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ بعض افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ 

ذرائع کے مطابق انکوائری رپورٹ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو اور کراچی پولیس چیف آزاد خان کو بھجوا دی گئی ہے۔ 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انمول عرف پنکی کو عدالت میں پیشی کے دوران سیکیورٹی کے عملی اقدامات میں کئی خامیاں سامنے آئیں جبکہ ملزمہ کو غیر معمولی سہولتیں بھی فراہم کی گئیں۔ 

انکوائری کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ تفتیشی پولیس کی جانب سے ملزمہ کو عدالت میں موبائل فون تک فراہم کیا گیا جسے قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ 

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری سے لیکر عدالت میں پیشی تک ساؤتھ زون کے ایک اعلیٰ افسر اور گارڈن تھانے کے ایک افسر کے درمیان مسلسل رابطے قائم تھا جو اعلیٰ افسر کو ہر لمحے کی صورتحال بذریعہ واٹس ایپ پہنچا رہا تھا۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس آئی او کی جانب سے بھی غیر ذمہ دارانہ طرز عمل اور غفلت کا مظاہرہ سامنے آیا ہے ، ذرائع کے مطابق انکوائری افسر کی جانب سے ساؤتھ زون کے ایک اعلیٰ افسر کی پیشہ ورانہ سنگین غفلت کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

جبکہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں 2 پولیس افسران کو ممکنہ طور پر قانونی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے رپورٹ ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کی جانب سے تیار کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کو حالیہ دنوں میں منشیات کے ایک بڑے نیٹ ورک کے سرغنہ کے طور پر گرفتار کیا گیا تھا۔

جس کی گرفتاری کے بعد عدالت میں اس کی پیشی کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں جن میں مبینہ طور پر ملزمہ کو غیر معمولی پروٹوکول اور سہولتیں دیئے جانے کا تاثر سامنے آیا تھا اور اس دوران عوامی حلقوں کی جانب سے پولیس کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔

جبکہ پولیس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے نہ صرف اس تمام تر صورتحال پر شدید برہمی اظہار کیا گیا بلکہ ایس ایچ او گارڈن انسپکٹر محمد حنیف سیال ، انویسٹی گیشن انچارج (ایس آئی او) گارڈن سب انسپکٹر ظفر اقبال اور انویسٹی گیشن افسر (آئی او) سب انسپکٹر سعید احمد خان کو فوری طور پر معطل کر کے ملزمہ انمول عرف پنکی کو عدالت میں پیشی کے موقع پر پروٹول دینے سے متعلق انکوائری کا بھی حکم جاری کیا گیا تھا ۔