بساطِ عالم کا نیا رُخ: بیجنگ کی میزاور تہران کی دہلیز

اس تمام تر سفارتی چہل پہل کے پیچھے اقوامِ متحدہ کی بے بسی کا وہ نوحہ ہے جو پچھلے کئی برسوں سے سنائی دے رہا ہے۔


شیخ جابر May 19, 2026

زمانے کی بساط پر جب مہرے اپنی چالیں بدلتے ہیں تو تاریخ کے اوراق پر خون اور روشنائی کی ایک نئی داستان رقم ہوتی ہے، مگر آج جو کہانی دیوارچین کے سائے میں لکھی جا رہی ہے، وہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور لرزہ خیز ہے جو بہ ظاہر نظر آتی ہے۔ واشنگٹن کے ایوانوں سے بیجنگ کی راہداریوں تک جو بساط بچھی ہے، اس کے خانے اب صرف مصلحتوں سے نہیں ،بلکہ بارود کی بو سے بھی بھرے ہوئے ہیں۔

بیجنگ کے شاہی ایوانوں میں امریکی صدر کا قدم رکھنا محض ایک تجارتی دورہ نہیں بلکہ اس شکست خوردہ انا کا اعتراف ہے جو مشرق وسطیٰ کے تپتے ہوئے صحراؤں اور ہرمز کی لہروں میں اپنی ساکھ کھو بیٹھی ہے۔ ایک طرف دنیا کو یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ دو بڑی طاقتیں عالمی امن کے لیے سر جوڑ کر بیٹھی ہیں، مگر دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ یہ ملاقات ایک ایسے نازک موڑ پر ہو رہی ہے جہاں تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری خونی کشمکش ایک ایسی جنگ میں بدل چکی ہے جس کا انجام کسی کو معلوم نہیں۔ امریکی صدر کا بیجنگ پہنچنا ،دراصل اس بے بسی کا اشتہار ہے جہاں وہ اب چین سے اس مدد کے طالب ہیں جو وہ طاقت کے زور پر حاصل نہ کر سکے۔

اعداد و شمار کی بے رحم زبان میں بات کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ چین اور امریکا کے درمیان سالانہ تجارت کا حجم اب آٹھ سو پچاس ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے اور امریکا کا ایک ہزار ایک سو ارب کا قرض چین کی تجوریوں میں پڑا ہوا ہے، مگر ان مادی اعداد سے پرے ایک اور عدد ہے جو زیادہ ہولناک ہے اور وہ ہے ہرمز کی بندرگاہوں پر جاری بحری محاصرے کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا وہ اتار چڑھاؤ جس نے دنیا کو بھوک اور افلاس کی دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے۔

تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کا مستقبل اس وقت ایک ایسے سیز فائر یا عارضی جنگ بندی کے سہارے سانس لے رہا ہے جسے خود امریکی قیادت نے زندگی اور موت کے درمیان لٹکا ہوا قرار دیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق، امریکی صدر بیجنگ میں بیٹھ کر یہ دعویٰ تو کر رہے ہیں کہ انھیں ایران کے معاملے پر چین کی مدد کی ضرورت نہیں، مگر ان کے وزیر خارجہ کی سفارتی دوڑ دھوپ اور پس پردہ پیغامات کچھ اور ہی کہانی سنا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا اس وقت ہرمز کے بحران میں اس طرح پھنس چکا ہے کہ اب اسے نکلنے کا راستہ صرف بیجنگ کی میز سے مل سکتا ہے۔

چین، جس نے ایران کے ساتھ اپنی تزویراتی شراکت داری کو فولادی بنا لیا ہے، اب ایک ایسے منصف کے طور پر ابھرا ہے جو واشنگٹن کی شرطیں نہیں مان رہا بلکہ اپنی شرائط منوا رہا ہے۔ ایران نے جس استقامت کے ساتھ امریکا اور اس کے حلیفوں کے بحری محاصرے کا مقابلہ کیا ہے، اس نے عالمی طاقتوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ طاقت کا توازن اب بدل چکا ہے۔ ایران کے عسکری حلقوں کا یہ اعلان کہ اب پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش نہیں، اس بات کی علامت ہے کہ تہران اب کسی بھی ایسے معاہدے کو تسلیم نہیں کرے گا جس میں اس کی حاکمیت کا سودا ہو۔

اس پورے بحران میں پاکستان کا کردار ایک ایسے کھلاڑی کا ہے جو آگ کے دریا پر سے گزر رہا ہے۔ اسلام آباد اس وقت ایک طرف تہران اور واشنگٹن کے درمیان پل بننے کی کوشش کر رہا ہے تو دوسری طرف اس نے اپنی زمین کے ذریعے ایران کو وہ تجارتی راستے فراہم کر دیے ہیں جنھوں نے امریکی بحری محاصرے کا دم نکال دیا ہے۔ یہ پاکستان کی وہ غیر روایتی سفارت کاری ہے جس نے واشنگٹن میں بے چینی پیدا کر دی ہے، مگر امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کی ثالثی کی تعریف دراصل اس اعتراف کا نام ہے کہ اب اسلام آباد کو ناراض کرنا امریکا کے بس میں نہیں رہا۔

اس تمام تر سفارتی چہل پہل کے پیچھے اقوامِ متحدہ کی بے بسی کا وہ نوحہ ہے جو پچھلے کئی برسوں سے سنائی دے رہا ہے۔ یہ عالمی ادارہ اب محض ایک ایسی عمارت بن کر رہ گیا ہے جہاں قراردادیں تو منظور ہوتی ہیں مگر ان پر عمل درآمد کروانے کی قوت اب ختم ہو چکی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں منظور ہونے والی قرارداد نمبر دو ہزار آٹھ سو سترہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اقوامِ متحدہ اب صرف طاقتوروں کے اشاروں پر ناچنے والا ایک آلہ کار ہے۔ امریکی صدر کے دورہ چین میں اقوامِ متحدہ کا کہیں ذکر نہ ہونا ،اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اب دنیا کے فیصلے نیویارک کے دفتروں میں نہیں بلکہ ان دارالحکومتوں میں ہو رہے ہیں جہاں معاشی اور عسکری قوت کا ارتکاز ہے۔

اس صورت حال کا ایک غیر روایتی اور بے لاگ تجزیہ یہ ہے کہ ہم ایک ایسے عالمی نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں کوئی بھی قانون مستقل نہیں اور نہ ہی کوئی اتحاد پائیدار ہے۔ امریکی صدر کا بیجنگ میں ہونا ایک ایسی سلطنت کا آخری حربہ ہے جو اپنی بالادستی کو بچانے کے لیے اپنے سب سے بڑے حریف کی منت کرنے پر مجبور ہے۔ چین اس وقت دنیا کو یہ دکھا رہا ہے کہ وہ صرف سامان نہیں بناتا بلکہ اب وہ عالمی امن اور جنگ کے فیصلے بھی اپنی میز پر کرتا ہے۔

ایران نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر ارادہ پختہ ہو تو دنیا کا کوئی بھی محاصرہ قوموں کو جھکا نہیں سکتا۔تاریخ کے اس کٹھن موڑ پر یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بڑی طاقتیں جب ہاتھ ملاتی ہیں تو وہ امن کی فاختہ نہیں اڑاتیں بلکہ نئے شکاریوں کا جال بنتی ہیں اور یاد رکھیے کہ جب شیر اور عقاب آپس میں سمجھوتہ کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ جنگل میں امن ہو گیا ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب شکار کی تقسیم پر اتفاق ہو چکا ہے اور بدقسمت ہے وہ قوم جو اس بساط پر خود کو مہرہ تو بننے دیتی ہے مگر کھلاڑی بننے کا حوصلہ نہیں رکھتی۔